ہوم << ادیب،معاشرے کی روح اور ضمیر – طارق بلوچ صحرائی
600x314

ادیب،معاشرے کی روح اور ضمیر – طارق بلوچ صحرائی

ادیب ہر انسان کی طرح شعوری اور لاشعوری طور پر حرفِ کُن کی تلاش میں رہتا ہے۔

دانشور صاحبِ نظر بھی ہوتا ہے؛ وہ اسے تہجد کے اندھیروں میں تلاش کرتا ہے۔ مجھے اپنا عکس شفاف آئینے میں نظر آتا ہے، مگر دانشور کا عکس صرف اسی جگہ جھلکتا ہے جہاں سے آئینہ ٹوٹا ہوا ہو۔ سنا ہے، رب بھی ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے۔ ہم بکھرے ہوئے لوگ، مکمل لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں، مگر دانشور جانتا ہے کہ آپ کو مکمل، صرف نامکمل لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ ادیب اور تخلیق کار بڑے بھلے لوگ ہوتے ہیں۔ ان سے مل کر مادہ پرستی کا زنگ اترنے لگتا ہے۔ ان میں کچھ کے چہرے بھی دعا اور دوا ہوتے ہیں، جنہیں دیکھ کر شفا ملتی ہے۔

خدارا!
ادیب کی عزت کیا کریں تاکہ معاشرے میں تخلیق کار اور قلم کار پیدا ہوں۔ یہ بڑے قیمتی لوگ ہوتے ہیں۔ اگر دھرتی کی کوکھ ادیبوں اور تخلیق کاروں سے اجڑ گئی، تو ایک بے حس و سفاک معاشرہ جنم لے گا۔ محبت، اخلاص، وقت، وفا اور قربانی سب عنقا ہو جائیں گے۔ پھر ایک ایسا سرمایہ دارانہ، دجالی معاشرہ تشکیل پائے گا جہاں صرف وہی زندہ رہے گا جو بک سکے گا، وہ بھی اس بازار میں جہاں روح کو جسم کے بھاؤ خریدا جائے گا۔ جسم تو مٹی کا بنا ہوتا ہے، مٹی کا بھلا کیا بھاؤ لگے گا؟

ادیب کے بغیر معاشرے زندہ نہیں رہتے۔ اس دور کا المیہ یہ بھی ہے کہ ایک بے حس، بے علم، بے رحم اور جرائم پیشہ دنیا ظہور پذیر ہو چکی ہے۔ اس کا ثبوت مجھے کل اس وقت ملا جب میں نے فٹ پاتھ پر پڑی ہوئی کتابوں میں دیوانِ میر دیکھا، اور میت کو تنہا پڑے، جنازوں کو خاموش دیکھا۔

دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے ظلم کو اگر آپ اپنے وجود پر محسوس نہیں کرتے، تو آپ اشرف المخلوقات نہیں، بلکہ ایک بے معنی، بے جان اور بے حس وجود ہیں۔ ادب کی خزاں میں سقراط ہارنے لگتے ہیں اور چمڑا بیچنے والے جیت جاتے ہیں۔ اس مادہ پرستی اور بے حسی کے دور میں، ادیب ہی ایسا شخص ہوتا ہے جو دنیا کو طوائف نہیں بننے دیتا۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com