ہوم << گلگت بلتستان میں کلائنٹیلزم کا عروج – امیرجان حقانی
600x314

گلگت بلتستان میں کلائنٹیلزم کا عروج – امیرجان حقانی

سات جون 2026 کو گلگت بلتستان کے انتخابات کے اختتام کے بعد خطے کی سیاست میں کلائنٹیلزم (Clientelism) کا رجحان پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو گیا ہے بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ کلائنٹیلزم کا دور دورہ ہے۔ کلائنٹیلزم سے مراد ایسا سیاسی رویہ یا اپروچ ہے جس میں سیاسی وفاداری، انتخابی تعاون یا ذاتی وابستگی کے بدلے، ٹیکنوکریٹس، وزارتیں، مشیری،ترجمانی،اعلی سرکاری عہدے، مراعات، بھاری بھرکم ٹھیکے، فنڈز، نوکریاں یا دیگر فوائد تقسیم کیے جاتے ہیں۔

اس تناظر میں دیکھیں تو گلگت بلتستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے گلی محلوں کے کارکنوں سے لے کر مرکزی قیادت تک مختلف شکلوں میں کلائنٹیلزم میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ انتخابات سے قبل بھی اس طرز سیاست کے واضح آثار و شواہد موجود تھے، لیکن انتخابی نتائج کے بعد اس میں نمایاں تیزی آ گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر کوئی ،نظریات، میرٹ، اہلیت اور عوامی خدمت کے بجائے سیاسی وفاداری کا صلہ مراعات اور مناصب کی صورت میں وصول کرنے کی تگ و دو میں مبتلا ہے۔ ایک عام ملازم سے لے کر بڑے بیوروکریٹ اور محلہ سطح تک کارکن نے ” اپنا اپنا جگاڑ” سوچ رکھا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ایک تشویش ناک رجحان ہے۔

دل چاہتا ہے کہ اس صورت حال کا تفصیلی جائزہ لکھوں لیکن پھر سوچتا ہوں، جانے دیجئے، میرے لکھنے سے کیا ہوگا، ہاں البتہ کچھ کالے بھجنگ مزید ناراض ہوسکتے ہیں، تو خوامخوا کی ناراضگیاں پالنے کا کیا فائدہ…!

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

امیر جان حقانی

امیر جان حقانیؔ گلگت بلتستان میں پولیٹیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ممتاز محقق، استاد، اور مصنف ہیں۔ جامعہ فاروقیہ کراچی سے درس نظامی مکمل کرنے کے ساتھ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا، بعد ازاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ 2010 سے ریڈیو پاکستان کے لیے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment