ہوم << توبہ کی عظمت، استغفار کی برکت اور اللہ کی بے پایاں رحمت -محمد عدنان
600x314

توبہ کی عظمت، استغفار کی برکت اور اللہ کی بے پایاں رحمت -محمد عدنان

ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درسِ حدیث بعد نمازِ ظہر

الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام على سيدنا محمدٍ وعلى آله وصحبه أجمعين
درسِ حدیث میں ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے توبہ و استغفار کی عظمت، اللہ تعالیٰ کی رحمت، گناہوں سے سچی واپسی اور مسجد کے آداب کے حوالے سے نہایت ایمان افروز اور اصلاحی گفتگو فرمائی۔

حدیث مبارکہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ، حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هِيَ قَائِمَةٌ عِنْدَهُ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو کسی ویران صحرا میں اپنی سواری گم کر بیٹھے جس پر اس کا کھانا پانی اور تمام سامان موجود ہو۔ پھر مایوس ہو کر بیٹھ جائے اور اچانک وہی سواری اسے واپس مل جائے۔ (صحیح مسلم، روایت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ)

توبہ:مایوسی نہیں، امید کا دروازہ
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ یہ حدیث ہمیں اللہ تعالیٰ کی بے مثال رحمت سے روشناس کراتی ہے۔ جب کوئی بندہ اپنی خطاؤں پر شرمندہ ہو کر عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور جھک جاتا ہے اور سچے دل سے کہتا ہے۔ اے اللہ ! مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے معاف فرما دے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو نہایت محبت سے قبول فرماتے ہیں۔ بندے کی توبہ پر اللہ کی خوشی ایسی نہیں جیسی انسان کی خوشی ہوتی ہے بلکہ یہ اس کی شانِ رحمت کے مطابق ہے جو ہماری عقل و تصور سے کہیں بلند ہے۔

گناہوں سے نکلنے کا راستہ
آپ نے نہایت مؤثر مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ جیسے ایک ملازم سے بار بار غلطی ہو وہ ہر مرتبہ اپنے مالک سے معافی مانگے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ شرمندگی اور ندامت اسے غلطی چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی طرح جو بندہ مسلسل اللہ سے استغفار کرتا رہتا ہے ایک دن اللہ تعالیٰ اس کے دل کو گناہوں سے نفرت اور نیکی سے محبت عطا فرما دیتے ہیں۔ یہی توبہ کی حقیقی برکت ہے کہ انسان صرف معافی ہی نہیں مانگتا بلکہ اپنی زندگی بھی بدل لیتا ہے۔

نبی کریم ﷺکا اسوۂ استغفار
ڈاکٹر صاحب نے اس حقیقت پر زور دیا کہ ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ جو ہر گناہ سے معصوم تھے، اس کے باوجود روزانہ کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ
ترجمہ: اے لوگو! اللہ کی طرف توبہ کرو، کیونکہ میں خود ایک دن میں سو مرتبہ اللہ سے توبہ اور استغفار کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم)
جب اللہ کے محبوب ﷺ استغفار کی یہ کثرت فرماتے تھے تو ہم جیسے خطاکار بندوں کو تو ہر لمحہ اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہنا چاہیے۔

استغفار کو عام کرنے کی دعوت
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ استغفار صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اپنے گھر والوں، بچوں، رشتہ داروں، دوستوں، اہلِ محلہ اور معاشرے کے ہر فرد کو بھی توبہ و استغفار کی دعوت دی جائے۔ جس معاشرے میں استغفار عام ہو جاتا ہے وہاں اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سکون نازل ہوتے ہیں۔

فیصل مسجد آنے والوں کے لیے اہم نصیحت
درس کے آخر میں ڈاکٹر صاحب نے فیصل مسجد میں آنے والے تمام مرد و خواتین کو نہایت درد مندانہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ فیصل مسجد صرف ایک تاریخی یا سیاحتی مقام نہیں بلکہ اللہ کا گھر ہے۔ یہاں آنے والا ہر شخص اپنی نیت کو عبادت سے وابستہ کرے نماز کی پابندی کرے اور مسجد کے تقدس کا مکمل احترام کرے۔ آپ نے فرمایا فیصل مسجد کے منبر و محراب سے مسلسل یہ دعوت دی جاتی ہے کہ اذان ہوتے ہی مرد حضرات جماعت کے ساتھ نماز میں شامل ہوں اور خواتین بھی نماز کا اہتمام کریں۔ خصوصاً خواتین کو پردے کی پابندی اور سر ڈھانپنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجد میں بے پردگی یا ننگے سر پھرنا اللہ کے گھر کے ادب اور تقدس کے خلاف ہے۔ مسجد میں داخل ہونے والا ہر مرد و عورت اپنے لباس، اپنے کردار اور اپنے طرزِ عمل سے اس مقام کی عظمت کا احترام کرے۔ جو لوگ دور دراز علاقوں سے فیصل مسجد آتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ صرف سیر و تفریح کی نیت سے نہیں بلکہ عبادت، نماز، ذکرِ الٰہی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے آئیں تاکہ دنیا کی یادگار دیکھنے کے ساتھ ساتھ آخرت کا عظیم اجر بھی حاصل کر سکیں۔

حاصلِ درس
توبہ اللہ تعالیٰ کی سب سے محبوب عبادات میں سے ایک ہے۔ انسان خواہ کتنے ہی گناہوں میں مبتلا کیوں نہ ہو، اگر وہ اخلاص، ندامت اور پختہ ارادے کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ استغفار دلوں کو پاک کرتا، گناہوں کو مٹاتا، رزق میں برکت دیتا اور بندے کا اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کے گھروں کا ادب، نماز کی پابندی، پردے کا اہتمام اور مسجد کے تقدس کا احترام ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ، کثرتِ استغفار، نماز کی پابندی، مساجد کے ادب و احترام اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے مقبول و محبوب بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔