درسِ حدیث بعد نمازِ ظہر
مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
حدیثِ مبارکہ:
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ
ترجمہ:
میری امت میں چار ایسی خصلتیں ہیں جو جاہلیت کے کاموں میں سے ہیں اور لوگ انہیں چھوڑنے میں کوتاہی کرتے رہیں گے:
(1) حسب و نسب پر فخر کرنا
(2) دوسروں کے نسب پر طعن کرنا
(3) ستاروں کی نسبت سے بارش کا عقیدہ رکھنا
(4) میت پر نوحہ و ماتم کرنا۔
(صحیح مسلم)
جاہلیت صرف ایک زمانے کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے. ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے نہایت مؤثر انداز میں واضح فرمایا کہ جاہلیت صرف اسلام سے پہلے کے دور کا نام نہیں۔ بلکہ ہر وہ سوچ، رویہ اور عمل جو قرآن و سنت کے خلاف ہو وہ جاہلیت ہے۔ اگر ایک مسلمان کے اندر تکبر، تعصب، دنیا پرستی یا اللہ سے بےرغبتی پیدا ہو جائے تو وہ جاہلیت کی انہی خصلتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جن سے رسول اللہ ﷺ نے خبردار فرمایا۔
حسب و نسب پر فخر – تقویٰ کو بھلا دینا
انسان کی عزت اس کے خاندان، قبیلے، زبان یا قوم سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے تقویٰ اور کردار سے ہے۔ جو شخص اپنے نسب پر غرور کرتا ہے یا دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے وہ اسلامی اخوت کی روح کو مجروح کرتا ہے۔ آج بھی بعض لوگ پیشے، ذات یا خاندان کی بنیاد پر دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں حالانکہ اسلام نے ہر جائز اور حلال محنت کو عزت بخشی ہے۔موچی، نائی، مزدور، کسان یا صفائی کرنے والا اگر اللہ کے حکم کے مطابق حلال روزی کما رہا ہے تو وہ عزت و احترام کا مستحق ہے۔
کسی کے پیشے یا معاشی حالت کو طعنہ دینا جاہلیت کی علامت ہے۔
لوگوں سے امیدیں، اللہ سے غفلت
درس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسلمان کا اصل سہارا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ افسوس کہ ہم اپنی ضروریات کے لیے لوگوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں ان کے عہدے، دولت اور حیثیت کو دیکھتے ہیں۔ جبکہ ہمارا ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ سب سے پہلے اللہ سے مانگا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے امت کو ایسا یقین عطا فرمایا کہ اگر جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ جب بندہ اللہ سے تعلق مضبوط کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔
حرام ذرائع اختیار کرنا بھی جاہلیت ہے
دنیا حاصل کرنے کے لیے رشوت، سفارش ناجائز، دھوکہ، جھوٹ اور حرام ذرائع اختیار کرنا بھی جاہلیت کی بدترین شکل ہے۔ مسلمان کا یقین یہ ہونا چاہیے کہ رزق صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ حرام ذرائع وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں۔ مگر ان میں نہ برکت ہوتی ہے نہ سکون اور نہ ہی آخرت کی کامیابی۔
نوحہ اور ماتم – صبر کے خلاف رویہ
رسول اللہ ﷺ نے میت پر نوحہ اور ماتم کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔ غم اور آنسو فطری ہیں، لیکن چیخ و پکار، سینہ کوبی اور اللہ کے فیصلے پر بےصبری کا اظہار ایمان کے منافی ہے۔حدیث میں اس گناہ پر سخت وعید بیان ہوئی ہے۔ کہ اگر کوئی شخص توبہ کیے بغیر اس حالت میں دنیا سے چلا جائے تو قیامت کے دن اسے عذاب کا ایسا لباس پہنایا جائے گا جو اس کے لیے دائمی تکلیف اور اذیت کا باعث ہوگا۔ یہ وعید ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ مسلمان کا شیوہ ہر حال میں صبر رضا اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اعتماد ہونا چاہیے۔
اپنا محاسبہ ہی کامیابی کا راستہ ہے
ڈاکٹر صاحب نے آخر میں نہایت درد مندانہ نصیحت فرمائی کہ ہر مسلمان کو روزانہ اپنی زندگی کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ اگر اپنے اندر تکبر، حسد، دنیا پرستی، حرام کمائی، لوگوں کو حقیر سمجھنے یا کسی اور گناہ کی جھلک نظر آئے تو فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے اپنی اصلاح کرے اور دوسروں کی اصلاح کی بھی فکر کرے۔جو قوم اپنا احتساب کرتی ہے اللہ تعالیٰ اسے عزت دیتا ہے۔ اور جو اپنی غلطیوں پر اصرار کرتی ہے وہ محرومی کا شکار ہو جاتی ہے۔
حاصلِ درس
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مسلمان کی اصل پہچان عاجزی، تقویٰ، حلال روزی، اللہ پر کامل بھروسا، صبر اور حسنِ اخلاق ہے۔ حسب و نسب کا غرور، دوسروں کی تحقیر، دنیا پرستی، حرام ذرائع اور نوحہ و ماتم جیسی جاہلانہ عادات سے بچنا ہی ایمان کی حفاظت اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
دعا
اے اللہ! ہمیں جاہلیت کی تمام بری عادتوں سے محفوظ فرما۔ ہمارے دلوں کو تکبر، حسد، دنیا کی محبت اور ہر قسم کی برائی سے پاک فرما۔ ہمیں ہر حال میں اپنا محتاج اور صرف تجھ پر بھروسا کرنے والا بنا۔ اے اللہ! فیصل مسجد میں ہماری اس حاضری کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ ہماری عبادات، دعاؤں اور نیک کوششوں کو شرفِ قبولیت عطا فرما۔ اسلام آباد اور دور دراز علاقوں سے آنے والے تمام نمازیوں کے نیک مقاصد پورے فرما۔ ان کے لیے آسانیاں پیدا فرما اور انہیں دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا فرما۔ اے اللہ! تمام بیماروں کو کامل شفا عطا فرما پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دور فرما۔ بےروزگار نوجوانوں کو رزقِ حلال کے بہترین مواقع عطا فرما۔ انہیں دین و دنیا کی بھلائیاں نصیب فرما اور والدین کا فرمانبردار اور خدمت گزار بنا۔ اے اللہ! ہمارے اساتذہ، والدین اور تمام محسنین میں سے جو حیات ہیں ان کی عمر، صحت اور برکت میں اضافہ فرما۔ اور جو دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی مغفرت فرما۔ ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا۔ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ ہمیں بھی ایمان، اخلاص اور سنتِ نبوی ﷺ پر ثابت قدم رکھتے ہوئے اپنی رضا کے ساتھ دنیا سے رخصت فرمانا۔
آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے