ہوم << مدینہ کی مثال – افشاں نوید
600x314

مدینہ کی مثال – افشاں نوید

چھ ماہ بعد داتا دربار کا انفراسٹرکچر مدینہ شریف کی طرز پر نظر آئے گا!
بھاٹی چوک سے لوگ انڈر پاس کے ذریعے مزارِ داتا سرکار میں داخل ہوں گے.یہ ہے ویژن یہ الفاظ ہیں پنجاب اسمبلی کے رکن کابینہ کے،جنھیں پڑھ کر دل ٹھہر سا گیا، مدینہ منورہ صرف چوڑی سڑکوں، خوبصورت انڈر پاسز، یا شاندار تعمیرات کا نام نہیں۔

مدینہ، مدینہ اس لیے ہے کہ وہاں رسول اللہ ﷺ آرام فرما ہیں۔ وہ وحی کی سرزمین ہے، اسلام کا مرکز ہے، اور اس کو فضیلت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ اس کا کسی اور مقام سے تقابل کرنا ہی مناسب نہیں۔ ایک اور حقیقت بھی یاد رکھنا چاہئے۔ اسلام نے قبروں کو سادہ رکھنے کی تعلیم دی۔ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو اونچا کرنے، ان پر عمارتیں بنانے سے منع فرمایا جس سے وہ تعظیم و تقدیس کا مرکز بن جائیں۔ نیک لوگوں سے محبت ایمان کا حصہ ہے، لیکن محبت یہ ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلا جائے، ان کی سیرت پڑھی جائے، نہ کہ ان کی قبروں کو چڑھاوے کا مرکز بنا لیا جائے۔ ان کی یادگار ان کی قبر نہیں، ان کا کردار اور ان کی تعلیمات ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بہت سے مزارات کے گرد ایک پوری معیشت کھڑی ہو چکی ہے۔

پارکنگ کی فیس…پھول، چادریں، تبرکات کے نام پر کیا کیا فروخت کیا جاتا ہے… دھمالوں پر پیسے نچھاور کیے جاتے ہیں۔ کھانے پینے کے اسٹال… جشن اور عقیدت کے نام پر مختلف رسوم۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے اولیائے کرام کی تعلیمات کو زندہ کیا ہے، یا ان کے نام پر بازار آباد کر لیے ہیں؟
اگر واقعی ان مقامات سے دین کی خدمت مطلوب ہے تو وہاں قرآن کے دروس ہوں ۔ عقیدۂ توحید کی تعلیم۔ پابندیِ نماز کی دعوت۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا تعارف۔ علماء اور خطیب آنے والوں کو یہ سمجھائیں کہ حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ ہے، اور بزرگوں سے محبت کا تقاضا ان کی اطاعتِ الٰہی کی روش کو اپنانا ہے۔
“داتا” “دینے والا” ۔حقیقی معنی میں رزق دینے والا، شفا دینے والا، اولاد دینے والا اور ہر نعمت عطا کرنے والا صرف اللہ رب العالمین ہے۔

اولیائے کرام اللہ کے مقرب بندے تھے، معبود نہیں۔ ہمیں انفراسٹرکچر کی فکر ہے عقیدوں کی اصلاح کی نہیں ۔ انڈر پاس بنانا آسان ہے… دلوں میں توحید کا راستہ بنانا مشکل ہے۔ سنگِ مرمر بچھانا آسان ہے… قرآن کی تعلیم عام کرنا مشکل ہے۔ کتنا اچھا ہوتا کہ ہم مدینہ کی تعمیرات کی نہیں، مدینہ کے پیغام کی نقل کرتے۔ وہ پیغام جس نے انسانوں کو صرف ایک در پر جھکنا سکھایا۔ مدینے والے نے لوگوں کو قبروں سے نہیں رب کعبہ سے جوڑا تھا۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

افشاں نوید

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment