ہوم << صبر کی روشنی – فاطمۃالزہرہ
600x314

صبر کی روشنی – فاطمۃالزہرہ

زندگی ایک طویل سفر کا نام ہے، اور اس سفر میں انسان کو ہر رنگ، ہر موسم اور ہر کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی خوشیوں کے پھول راستوں کو مہکا دیتے ہیں تو کبھی آزمائشوں کے کانٹے قدم قدم پر دامن تھام لیتے ہیں۔ کبھی کامیابیاں انسان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہیں اور کبھی ناکامیاں اس کے دل پر اداسی کی دبیز چادر تان دیتی ہیں۔

ایسے تمام حالات میں جو صفت انسان کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے، جو اس کے حوصلوں کو زندہ رکھتی ہے اور جو اسے اندھیروں میں بھی امید کی کرن دکھاتی ہے، وہ صبر ہے۔صبر محض خاموشی سے دکھ سہنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم قوت ہے جو انسان کے باطن کو مضبوط بناتی ہے۔ صبر وہ چراغ ہے جو مایوسی کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں بھی جلتا رہتا ہے اور انسان کو یقین دلاتا ہے کہ ہر رات کے بعد صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ جب حالات انسان کی خواہشات کے برعکس ہو جائیں، جب دعائیں دیر سے قبول ہوتی محسوس ہوں، جب محنت کا پھل فوراً نظر نہ آئے، تب صبر ہی وہ سہارا بنتا ہے جو انسان کو گرنے نہیں دیتا۔

قدرت کا نظام بھی ہمیں صبر کا درس دیتا ہے۔ ایک ننھا سا بیج جب زمین میں دفن کیا جاتا ہے تو وہ فوراً درخت نہیں بن جاتا۔ وہ مٹی کی تاریکی میں رہتا ہے، بارشوں اور موسموں کو برداشت کرتا ہے، پھر کہیں جا کر ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح انسان کی زندگی میں بھی بعض کامیابیاں وقت مانگتی ہیں۔ جو لوگ صبر کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں، وقت ان کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔

تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے عظیم انسانوں نے بے شمار مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا، مگر انہوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ان کے راستے میں رکاوٹیں آئیں، مخالفتیں ہوئیں، دکھ اور تکلیفیں ملیں، لیکن ان کا یقین متزلزل نہ ہوا۔ یہی صبر ان کی کامیابی کی بنیاد بنا اور یہی استقامت انہیں تاریخ کے روشن کرداروں میں شامل کر گئی۔

بدقسمتی سے آج کا انسان جلد بازی کا شکار ہو چکا ہے۔ وہ ہر کام کا نتیجہ فوری طور پر چاہتا ہے۔ اگر اس کی خواہش پوری نہ ہو تو وہ مایوس ہو جاتا ہے اور اگر منزل دیر سے ملے تو راستہ چھوڑ دیتا ہے۔ حالانکہ زندگی کی بہت سی خوبصورت نعمتیں وقت اور صبر کا تقاضا کرتی ہیں۔ جو شخص انتظار کے کٹھن مرحلے سے گزرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہی کامیابی کی حقیقی قدر جانتا ہے۔

صبر صرف مشکلات میں ہی نہیں بلکہ خوشیوں میں بھی ضروری ہے۔ انسان جب کامیاب ہو جائے تو اسے غرور سے بچانے کے لیے صبر درکار ہوتا ہے، اور جب ناکامی کا سامنا ہو تو اسے مایوسی سے بچانے کے لیے بھی صبر ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ گویا صبر زندگی کے ہر موڑ پر انسان کا بہترین ساتھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر کی روشنی کبھی بجھتی نہیں۔ یہ دل کے اندھیروں کو امید سے منور کرتی ہے، روح کو سکون عطا کرتی ہے اور انسان کو اپنے رب پر یقین رکھنے کا درس دیتی ہے۔ جو لوگ صبر کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں، وہ زندگی کی سخت ترین آزمائشوں سے بھی سرخرو ہو کر نکلتے ہیں۔

آج کے پُرفتن دور میں ہمیں صبر کی روشنی کو اپنے دلوں میں زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہی روشنی ہمیں مایوسی سے بچاتی ہے، امید کا دامن تھامے رکھتی ہے اور ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آسانی ان سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

صبر دراصل وہ روشنی ہے جو انسان کو حالات کے اندھیروں سے نکال کر کامیابی، سکون اور اطمینان کے روشن راستوں تک پہنچا دیتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

فاطمۃالزہرہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment