ہوم << رشتے کیوں کمزور ہو جاتے ہیں؟ – فاطمۃالزہرہ
600x314

رشتے کیوں کمزور ہو جاتے ہیں؟ – فاطمۃالزہرہ

آج کا انسان ترقی کی بلند ترین سیڑھیاں تو چڑھ گیا، مگر افسوس کہ رشتوں کی مضبوطی کہ پیچھے رہ گئی۔ گھر پہلے بھی چھوٹے ہوتے تھے، مگر دل کشادہ تھے۔ آج مکانات بڑے ہیں، مگر دل تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کے خول میں قید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رشتوں میں محبت کم اور فاصلے زیادہ ہو گئے ہیں۔

ماضی میں لوگ ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے تھے۔ ایک دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے میں محبت محسوس ہوتی تھی۔ بزرگوں کی باتوں میں نصیحت اور اپنائیت ہوا کرتی تھی۔ مگر آج مصروفیات نے انسان کو اس قدر خود غرض بنا دیا ہے کہ اسے اپنے قریبی رشتوں کے لیے بھی و بھی وقت نہیں ملتا سوشل میڈیا نے بظاہر لوگوں کو قریب کیا، مگر حقیقت میں دلوں کے فاصلے بڑھا دیےاب گفتگو چند لفظوں اور ایموجیز تک محدود ہوگئی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے چہروں ور کو تو دیکھ لیتے ہیں، مگر احساسات کو نہیں پڑھ پاتے۔ رشتے صرف خون کے تعلق سے قائم نہیں رہے، بلکہ توجہ، اعتماد، خلوص اور وقت مانگتے ہیں۔ جب ان چیزوں کی کمی ہو جائے تو رشتے آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ انا بھی رشتوں کی تباہی کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔

آج ہر شخص جھکنا نہیں چاہتا۔ معافی مانگنا کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ کئی رشتے صرف ایک معذرت اور ایک محبت بھرے جملے سے بچائے جا سکتے ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اجنبیوں کے لیے مسکرا دیتے ہیں، مگر اپنے ہی لوگوں سے سخت لہجے میں بات کرتے ہیں۔ ہم دنیا کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہم رشتوں کو ہیں، جبکہ ہمارے اپنے لوگ ہماری توجہ اور محبت کے منتظر رہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رشتوں کو وقت دیں، ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں، برداشت پیدا کریں اور محبت کو ان پر ترجیح دیں۔ کیونکہ جب رکھتے کمزور ہوتے ہیں تو انسان اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے، اور دنیا کی کوئی کامیابی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتی۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

فاطمۃالزہرہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment