برصغیر کی سیاسی و مذہبی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مذہب کو ہمیشہ صرف روحانی یا اخلاقی دائرے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے سیاسی طاقت، سماجی کنٹرول اور ریاستی مفادات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں قادیانیت، فرقہ واریت اور مذہبی شدت پسندی کا مسئلہ بھی اسی تاریخی و سیاسی پس منظر کا حصہ ہے۔ یہ معاملہ محض عقیدے کا نہیں بلکہ ریاست، سیاست، شناخت، طاقت اور سماجی نفسیات کا پیچیدہ امتزاج ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ریاست نے اپنی شناخت کو مذہب کے ساتھ جوڑ دیا۔ ابتدا میں یہ ایک علامتی اور جذباتی نعرہ تھا مگر رفتہ رفتہ یہی شناخت ریاستی پالیسی کا بنیادی ستون بن گئی۔ 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور پھر 1984 کے امتناعِ قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ نے مذہبی شناخت کو قانونی اور انتظامی مسئلہ بنا دیا۔ اس کے بعد مذہبی گروہوں کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ طے کریں کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ یہی وہ نقطہ تھا جہاں سے پاکستانی معاشرے میں تکفیر، نفرت اور مذہبی انتہا پسندی کو ادارہ جاتی قوت ملی۔
یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مذہبی جماعتوں اور بعض علماء نے قادیانی مسئلے کو عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا۔ ایک عام شہری کے روزگار، تعلیم، صحت یا انصاف کے مسائل سے توجہ ہٹا کر مذہبی شناخت کے مباحث کو سیاست کا محور بنایا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے میں تنقیدی فکر، سائنسی شعور اور برداشت کی فضا کمزور ہوتی گئی جبکہ جذباتیت، ہجومیت اور فتوؤں کی سیاست مضبوط ہوتی گئی۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ برطانوی سامراج نے برصغیر میں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ مختلف مذہبی اور فرقہ وارانہ شناختوں کو ابھار کر سماج کو تقسیم کیا گیا تاکہ متحدہ سیاسی مزاحمت کمزور ہو۔ بعد ازاں سرد جنگ کے زمانے میں بھی مذہب کو عالمی طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ افغان جہاد، جہادی تنظیموں کی سرپرستی اور سیاسی اسلام کی عسکری شکلیں اسی پالیسی کا نتیجہ تھیں۔ پاکستان اس پالیسی کا سب سے بڑا میدان بنا، جہاں ریاست، مذہبی گروہ اور عالمی طاقتیں ایک پیچیدہ کھیل کا حصہ بنتی رہیں۔
تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ تمام مسائل کی جڑ صرف بیرونی سازشیں ہیں۔ پاکستانی سماج میں داخلی سطح پر بھی کئی ایسی کمزوریاں موجود تھیں جنہوں نے شدت پسندی کو فروغ دیا۔ تعلیمی نظام میں تنقیدی سوچ کی کمی، مدرسہ اور جدید تعلیم کے درمیان خلیج، تاریخ کو یک رخی انداز میں پڑھانا، اور مذہبی اختلاف کو برداشت نہ کرنے کی روایت نے انتہا پسندی کے لیے زمین ہموار کی۔
پاکستان میں احمدی یا قادیانی برادری کے ساتھ ہونے والا سلوک اس شدت پسندی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام جیسے عالمی سائنس دان، جنہوں نے طبیعیات میں نوبل انعام حاصل کیا، اپنے ہی ملک میں مذہبی تعصب کا شکار رہے۔ ان کی خدمات کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کے بجائے ان کی شناخت پر سوال اٹھایا گیا۔ اسی طرح ماہرِ معاشیات عاطف میاں کو محض عقیدے کی بنیاد پر اقتصادی مشاورتی کونسل سے ہٹا دینا اس امر کی علامت تھا کہ پاکستان میں بعض اوقات قابلیت اور قومی مفاد پر مذہبی شناخت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت آمیز ماحول دراصل پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب ایک ریاست اپنے شہریوں کو برابر کا درجہ دینے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں ذہین اور تعلیم یافتہ لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان سے بڑی تعداد میں سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر اور ماہرین بیرونِ ملک گئے اور وہاں کامیاب ہوئے۔ یہ محض “برین ڈرین” نہیں بلکہ ایک سماجی ناکامی بھی ہے۔
مذہبی شدت پسندی کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ سماج کو مستقل خوف اور عدم برداشت کی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جڑانوالہ جیسے واقعات، توہینِ مذہب کے الزامات پر ہجوم کے حملے، اور فرقہ وارانہ تشدد اسی ذہنیت کی پیداوار ہیں۔ ایسے واقعات میں اکثر قانون اور انصاف کے بجائے جذبات اور ہجوم کا فیصلہ غالب آجاتا ہے۔ اس سے ریاست کی رٹ کمزور ہوتی ہے اور قانون پر عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
اس مسئلے کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ برصغیر کے معاشروں میں مذہب صرف عقیدہ نہیں بلکہ شناخت، عزت اور سماجی تعلق کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے مذہبی اختلاف کو اکثر ذاتی حملہ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً مکالمے کی جگہ نفرت اور تشدد لے لیتے ہیں۔ حالانکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیاد اختلافِ رائے کو برداشت کرنے پر ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں نے مذہب کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ اسے فرد کا ذاتی معاملہ بنا دیا۔ ریاست کا کام شہری حقوق، انصاف، تعلیم اور ترقی کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ عقائد کی نگرانی کرنا۔ مغربی ممالک میں مسلمان نسبتاً زیادہ آزادی، تحفظ اور معاشی مواقع پاتے ہیں کیونکہ وہاں قانون کی حکمرانی اور شہری برابری کا اصول مضبوط ہے۔ اس کے برعکس کئی مسلم ممالک میں مذہب کو سیاسی طاقت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس سے اقلیتیں اور اختلاف رکھنے والے افراد عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں۔
تاہم تنقید کرتے وقت یہ توازن بھی ضروری ہے کہ تمام مذہبی افراد یا علما کو شدت پسند قرار دینا درست نہیں۔ پاکستان میں بے شمار ایسے مذہبی علما، اسکالرز اور شہری موجود ہیں جو رواداری، مکالمے اور امن کے حامی ہیں۔ مسئلہ دراصل اس سوچ کا ہے جو اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے کفر، غداری یا توہین کے فتوؤں سے دبانے کی کوشش کرتی ہے۔
مزید یہ کہ مذہب اور اخلاقیات کے سوالات کو محض طنز یا تحقیر کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ مذہبی قوانین اور روایات پر علمی تنقید ہر معاشرے میں جائز ہونی چاہیے، لیکن اس کے لیے سنجیدہ، علمی اور مہذب انداز اختیار کرنا ضروری ہے۔ گالی، تمسخر یا اشتعال انگیزی معاشرتی تقسیم کو مزید بڑھا دیتی ہے اور مکالمے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔
پاکستان کو اگر ایک مستحکم، ترقی یافتہ اور پرامن ریاست بننا ہے تو اسے چند بنیادی اصولوں پر اتفاق کرنا ہوگا:
ریاست تمام شہریوں کو برابر سمجھے؛
مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے؛
تعلیمی نظام میں تنقیدی اور سائنسی سوچ کو فروغ دیا جائے؛
قانون کی حکمرانی کو ہجوم کی سیاست پر فوقیت دی جائے؛
مذہبی اختلاف کو تشدد کے بجائے مکالمے سے حل کیا جائے۔
قادیانیت کے مسئلے کو بھی جذباتی نعروں کے بجائے آئینی، انسانی اور سماجی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی عقیدے سے اختلاف ہر شخص کا حق ہے، مگر اس اختلاف کو نفرت، تشدد یا شہری حقوق کی پامالی کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ ایک جدید ریاست کی اصل طاقت اس کی فوج یا نعروں میں نہیں بلکہ اس کی علمی آزادی، انصاف، برداشت اور انسانی وقار میں ہوتی ہے۔
پاکستان کا مستقبل اسی وقت روشن ہوسکتا ہے جب یہ معاشرہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر تقسیم کے بجائے علم، انصاف اور انسانی برابری کی بنیاد پر آگے بڑھے۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو سوال پوچھنے، اختلاف سننے اور اپنے قوانین و رویوں پر نظرثانی کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔



تبصرہ لکھیے