خطبہ حجۃ الوداع کی بڑی خاص اہمیت ہے. یہ نسل انسانی کے حقوق کا بنیادی منشور ہے. یہ خطبہ ہمارے لئے مشعل راہ بلکہ ہماری زندگی بدلنے اور دین کا نچوڑ ہے،جس میں آقائے نامدارﷺہر طرح کے معاملات و مسائل کو بیان فرمایا اور رہتی دنیا تک کے آنے والی انسانیت کیلئے ایک بہترین منشور دیاجو پہلے کوئی پیس نہ کرسکا.
جس نے ہماری زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا،بے شک یہ خطبہ ہمارے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے، یہ خطبہ حضور اکرمﷺکی سیرت طیبہ کا خلاصہ اور اس کی عملی تفسیر ہے۔آپ ﷺ نے اس خطبہ میں اس طرح کلمات فرمائے جیسے کسی سے کوئی الوداع ہوتا یا کسی کو الوداع کرتا ہے۔ اس لئے اس خطبے کا نام خطبہ الوداع مشہور ہوا. آپ ﷺ نے اس سال خطبہ میں احکام اسلامی کی خصوصی تبلیغ فرمائی۔“پہلا 9 ذی الحجہ کو عرفات میں، دوسرا 10 ذی الحجہ کو منیٰ میں اور تیسرا خطبہ 11 یا 12 ذی الحجہ کو منیٰ میں ہی دیا گیا۔ خطبہ حجۃ الوداع کے وقت آپ ﷺ کے اردگرد ایک لاکھ چوبیس ہزار انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں ماررہا تھا۔ یہ خطبہ 10 ہجری میں دیا گیا تھا۔
آپ ﷺنے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ارشاد فرمایا:
”لوگو! میری باتیں سنو! شاید اگلے سال مجھے اور تمہیں ایسی محفل میں اکٹھے ہونے کا موقع نہ ملے۔ میں آج کے دن مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو قیامت تک ایک دوسرے پر حرام کرتا ہوں، جس طرح تمہیں اس مہینے اور اس دن کا احترام ہے اسی طرح تمہیں ایک دوسرے کے مال، آبرو اور خون کا احترام کرنا چاہیے۔ کوئی چیز جو ایک بھائی کی جائز ملکیت میں ہے دوسرے پر حلال نہیں، جب تک کہ وہ خود اپنی خوشی سے اُسے نہ دے“
آپ ﷺنے قیامت کے دن احتساب کے بارے میں فرمایا:
“یاد رکھو! ایک دن ہم سب کو مر کر خدائے تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ جہاں ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“
نبی اکرمﷺ نے غیر اسلامی رسوم کے بارے میں فرمایا :
”لوگو! یاد رکھو زمانہ جاہلیت کی ہر رسم میرے قدموں کے نیچے ہے میں اسے ختم کرتا ہوں۔ زمانہ جاہلیت کے قتل و خون کے جھگڑے آج تک ختم کردیئے جاتے ہیں اس سلسلے میں سب سے پہلے میں خود ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کے خون سے دستبردار ہوتا ہوں“.
اس خطبہ میں حضور اکرمﷺنے اسلامی مساوات کا درس دیا:
”سب مسلمان بھائی بھائی ہیں، عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہاں! صرف پرہیز گاری خدا کے نزدیک افضل ہے“.
کمزوروں کے حقوق کے بارے میں آپ ﷺنے فرمایا:
”غلاموں اور عورتوں کے تم پر حقوق ہیں، ان حقوق کا خاص خیال رکھو۔ عورتوں کے ساتھ نرمی اختیار کرو اور مہربانی سے پیش آؤ۔ غلاموں کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور انہیں وہی لباس پہناؤجو خود پہنتے ہو۔“
آپ ﷺنے مزید فرمایا:
”ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے۔ بیٹا باپ کا اور باپ بیٹے کے جرم کا ہرگز ذمہ دار نہیں.
حضور اکرمﷺ نے اطاعت امیر کا حکم دیا:
”اگر کوئی حبشی کان کٹا غلام بھی تمہارا امیر ہو اور تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو“.
حضور اکرم ﷺنے فرمایا:
”لوگو! نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا نہ نئی امت پیدا ہوگی۔ خوب سن لو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچوں وقت نماز پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، مال کی زکوٰۃ خوشی خوشی ادا کرو، خانہ کعبہ کا حج کرو اور اپنے حاکموں کے فرمانبردار رہو۔ اس کی جزا یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے. اور میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت“.
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ باتیں غیر حاضر لوگوں تک پہنچادیں۔ ممکن ہے بعض سامعین کے مقابلے میں بعض غیر حاضر لوگ ان باتوں کو زیادہ اچھی طرح یاد رکھیں اور ان کی حفاظت کریں. اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے میراث میں سے ہر وارث کے لئے ثابت کردہ حصہ مقرر کیا ہے اور ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا جائز نہیں ہے”بچہ اس کا جس کے بستر پر (نکاح میں)تولد ہوا اور بدکار کے لئے پتھر! جس نے اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے کو باپ قرار دیا تو ایسے شخص پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے لعنت ہے۔ اس کیلئے قیامت کے دن کوئی عوض یا بدلہ نہ رکھا جائے گا۔“
اس خطبہ میں نبی اکرم ﷺنے چار قابل احترام مہینوں کا بھی ذکر فرمایا یعنی ذی القعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ آپ ﷺنے امانت کی ادائیگی کا حکم دیا :
”جس کے قبضے میں کوئی امانت ہے تو اسے اس کے مالک کو ادا کردے.“
آپ ﷺ نے سود کو حرام قرار دیا:
”دور جاہلیت کا سود کالعدم کردیا گیا ہے البتہ تمہارے لئے راس المال پر حق ہوگا۔ نہ تم کسی پر ظلم کر و نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ سب سے پہلے میں اپنے چچا عباسؓ بن عبدالمطلب کے سودی مطالبات کو کالعدم کرتا ہوں.“
خطبہ کے آخر میں آپ ﷺنے لوگوں سے پوچھا:
”کیا میں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا؟”
سب نے بیک آواز جواب دیا آپ نے اپنا حق ادا کردیا۔ اس پر آپ ﷺنے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور تین بار کہا:
”اے خدا! تو گواہ رہنا، اے خدا! تم گواہ رہنا، اے خدا! تم گواہ رہنا“
آپ ﷺکے پیغام کو ربیعۃؓ بن امیہ بن خلف اپنی بلند آواز سے لوگوں تک پہنچارہے تھے۔ آپ ﷺ خطبہ سے فارغ ہوچکے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:
”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیا.“
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی تو رونے لگے۔ اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے کہ حضور پاک ﷺ اس دنیا سے الوداع ہونے والے ہیں۔آپ ﷺنے اس خطبہ میں اتفاق و اتحاد کا درس دیا، سود کا خاتمہ فرمایا اور ایک مکمل اور متوازن معاشی نظام کا تصور دیا۔ ایسا نظام جس پر استوار ہوکر مدینہ منورہ ایک اسلامی فلاحی ریاست بنی۔ آپ ﷺنے ختم نبوت کے عقیدے کی بھی وضاحت فرمائی۔ صالح حاکم وقت کی اطاعت کی تلقین کی، نسلی امتیاز کا خاتمہ کیا، رنگ و نسل اور زبان کی بنیاد پر فضیلتوں کو ختم کردیا۔ خطبہ حجۃ الوداع مختصر ہونے کے باوجود معانی کے لحاظ سے اتنا فصیح و بلیغ ہے کہ اس میں اسلام کا مکمل نظام اقدارمقید ہے۔
حضورﷺ کا یہ خطبہ امت کیلئے وصیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنا انفرادی محاسبہ کریں اور حضورﷺ کے بتلائے اور سکھائے ہوئے راستے پر گامزن ہونے کی سعی کریں۔اللہ جل شانہ ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین



تبصرہ لکھیے