ہلال عید نے وہاں دیکھا. غزہ میں اس سال کی عید، عید کم اور اجتماعی سوگ زیاد محسوس ہوئی۔ وہی تکبیریں تھیں… مگر ان کے پیچھے ملبے، خیمے، بھوک اور بچھڑنے والوں کی یاد تھی۔ پچھلے سال بھی غزہ زخموں میں تھا، مگر اس سال فرق یہ تھا کہ بہت سے محلے اب نقشے سے مٹ چکے ہیں۔
ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کے گھروں کی جگہ اب صرف راکھ اور پتھر ہیں۔ عید کے دن بچوں کے نئے کپڑوں کے بجائے امدادی خیموں کی قطاریں دکھائی دیں۔ بہت سی ماؤں نے اپنے بچھڑے بچوں کی تصویریں سینے سے لگا کر عید گزاری۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ:
“اس بار عید کی سب سے بڑی تیاری قبرستان کی زیارت تھی۔”
غزہ میں عید کی صبح لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر جمع ہوئے۔ قبریں پھولوں سے نہیں، آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں۔ باپ اپنے بچوں کے لیے اور بچے پیارے والدین کے لیے فاتحہ پڑھ رہے تھے۔کئی رپورٹس اور ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ لوگ قبرستانوں میں تکبیریں پڑھتے ہوئے رو پڑتے تھے، کیونکہ تقریباً ہر خاندان نے کسی نہ کسی کو کھویا ہے۔ دوسری طرف، مسجد اقصیٰ میں عید کی نماز ادا کی گئی۔ شدید پابندیوں اور ناکہ بندی کے باوجود تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار مسلمانوں نے عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کی۔ اسرائیلی سکیورٹی رکاوٹوں کے باوجود نمازی بڑی تعداد میں پہنچے۔
عید کی نماز اکثر کھلے میدانوں، تباہ شدہ مسجدوں کے صحنوں یا خیموں کے درمیان ادا کی گئی۔کئی مسجدیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔ کہیں امام ملبے کے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے، کہیں نمازی پتھریلی زمین پر چادریں بچھا کر سجدہ کر رہے تھے۔مسلمان ممالک کی جانب سے امداد ضرور بھیجی گئی، مگرعالمی اداروں کی شکایت یہ رہی کہ امداد ضرورت کے مقابلے میں بہت کم اور سست رفتار تھی۔ کچھ عرب اور مسلم ممالک نے خوراک، دوائیں اور خیمے بھیجے، مگر سرحدی پابندیوں، بمباری اور راستوں کی بندش کے باعث بہت سا سامان بروقت متاثرین تک نہ پہنچ سکا۔
عید کے دن بھی کئی خاندانوں کو مناسب کھانا میسر نہیں تھا۔ بعض علاقوں میں لوگوں نے اجتماعی دسترخوان لگائے تاکہ یتیم بچے اور بے گھر لوگ کم از کم عید کے دن بھوکے نہ رہیں۔ عید کے سب سے دردناک مناظر شاید وہ تھے جہاں:
بچے ملبے پر بیٹھے تکبیریں سن رہے تھے، خواتین شہداء کی تصویروں چومتے ہوئے عید منا رہی تھیں۔ بہت سے گھروں میں اس بار پہلی عید تھی… کسی اپنے کے بغیر۔ اس عید نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ عید ہمیشہ خوشیوں سے نہیں، صبر سے بھی منائی جاتی ہے۔
ہم نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا کہ اہل غزا نے عید کیسے منائی تو یہ جواب موصول ہوا۔پڑھ کر آپ کے کیا احساسات ہیں. آنکھوں کے آگے چند لمحوں کو دھند تو ضرور آئی ہوگی۔



تبصرہ لکھیے