ہوم << انسان اور دل – آصف امین
600x314

انسان اور دل – آصف امین

گاؤں کی کمیٹی کے چند لوگ نمازِ عید سے ایک گھنٹہ پہلے ہی مسجد آ جاتے ہیں۔ بابا محمد شریف وٹو ہمارے گاؤں کے طویل العمر بزرگ بھی مسجد میں آنے والے پہلے چند لوگوں میں شامل تھے۔ کچھ دیر بعد اُن کا بیٹا مسجد آیا اور بولا:

“ابا جی! گھر چلیں۔”
ہم نے پوچھا: خیریت ہے؟
وہ کہنے لگا: “ابا جی ایسے ہی نمازِ عید ادا کرنے آ گئے ہیں۔ میں اِن کا نیا کرتا، نیا صافہ، دھوتی اور کھسہ لے کر آیا ہوں، مگر یہ بغیر نئے کپڑوں کے ہی عید نماز پڑھنے آ گئے ہیں۔”
بابا جی نے پُرسکون لہجے میں جواب دیا:
“بیٹا! میرے کپڑے پاک صاف ہیں۔ صبح فجر کی نماز بھی میں نے اِنہی کپڑوں میں ادا کی ہے۔ میرا دل نہیں چاہتا کہ کپڑے تبدیل کروں۔”

کچھ دیر خاموشی رہی… پھر ہم نے اُن کے بیٹے سے کہا:
“بابا جی کو رہنے دو، اگر اِن کا دل نہیں چاہتا تو زبردستی نہ کرو۔”
وہ خاموشی سے واپس چلا گیا۔

زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب انسان دنیا کی رنگینیوں، نمود و نمائش اور ظاہری چمک دمک سے تھک جاتا ہے۔ پھر اُسے اس بات کی پرواہ نہیں رہتی کہ لوگ اُس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، دنیا کیا کہتی ہے، یا کون اُس کے لباس اور انداز کو کیسی نظر سے دیکھتا ہے۔ اُس وقت انسان اپنے اندر کی دنیا میں سکون تلاش کرنے لگتا ہے۔ وہ مصنوعی تصنع، دکھاوے اور بناوٹ سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت صرف بڑھاپے سے وابستہ نہیں ہوتی؛ بلکہ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے “من” کی سننا شروع کر دیتا ہے۔بقول خواجہ میر درد:

موت کیا آ کے فقیروں سے تجھے لینا ہے،
مرنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment