پچاس سالہ بوڑھا، جس کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور چہرے پر جھریاں واضح نظر آتی تھیں۔ قمر دین گزشتہ بیس سال سے اُس فیکٹری میں کام کر رہا تھا۔ پہلے تین چار سال تو اُس کی تنخواہ میں کوئی اضافہ ہی نہ ہوا، پھر بعد میں سیٹھ صاحب نے ہر سال صرف پانچ سو روپے بڑھانا شروع کر دیے۔
قمر دین سوچوں میں گم، خراماں خراماں گھر کی جانب گامزن تھا کہ اچانک ایک رکشے والے نے آواز لگائی:
“بابا جی! غازی موڑ… غازی موڑ!”
“نہیں، نہیں… کہیں نہیں جانا۔” حالاں کہ تھکا ہارا جسم یہی چاہتا تھا کہ رکشے میں بیٹھ جائے، مگر بیس روپے اُس کی نظر میں بہت بڑی رقم تھے۔
مغرب سے کچھ پہلے وہ گھر پہنچا۔ اُس کے دل میں عجیب بے چینی اور دکھ تھا۔ چالیس ہزار روپے کہاں سے آئیں گے؟ بیٹی کا جہیز بنانا تھا۔
جہیز بھی آخر کیا تھا؟ لے دے کر دو چار بستر اور چند برتن۔ مگر اِس معمولی سامان پر بھی اُس کا تقریباً ایک لاکھ خرچ ہو چکا تھا۔
“رب کرم کرے گا.” اُس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے خود سے کہا۔
عشاء کی نماز کے بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ قمر دین دروازے کی طرف بڑھا تو سامنے فیکٹری مالک، سیٹھ مظفر، کھڑا تھا۔
سیٹھ گاڑی سے اترا اور نرم لہجے میں بولا:
“قمر دین! بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ یہ پچاس ہزار روپے رکھ لو… اور واپس مت کرنا۔ یہ میری طرف سے بیٹی کے لیے ایک چھوٹا سا تحفہ ہے۔”
قمر دین کی پریشانی جیسے ہوا ہو گئی۔ اُس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اُسے سیٹھ مظفر کسی مسیحا کی مانند دکھائی دینے لگا۔ شاید دنیا کا سب سے بڑا سخی انسان وہی سیٹھ تھا… وہی سیٹھ، جس کی فیکٹری میں وہ بیس سال سے ملازم تھا، اور جس نے اُس کی تنخواہ میں ہر سال صرف پانچ سو روپے اضافہ کیا تھا۔



تبصرہ لکھیے