ایک مسلمان کی عملی، فکری اور دینی رہنمائی کے لیے ادلۂ اربعہ یعنی قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کافی و شافی رہنما اصول ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنی حکمتِ کاملہ کے تحت قرآنِ مجید اور سنتِ نبویہ ﷺ کی حفاظت کا ایسا غیر معمولی انتظام فرمایا کہ تاریخِ انسانی اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
چنانچہ قرآنِ مجید کی حفاظت کا ذمہ خود ربِ کائنات نے لیا اور اسی کے ساتھ احادیثِ مبارکہ جو قرآنِ حکیم کی تشریح و توضیح ہیں ان کی حفاظت کا انتظام بھی الٰہی مشیت کے تحت عمل میں آیا۔ ابتدائی دور میں اللہ تعالیٰ نے احادیثِ مبارکہ کی حفاظت کا ذریعہ حضراتِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مضبوط حافظوں کو بنایا۔ عربوں کا حافظہ ویسے بھی ضرب المثل تھا۔ وہ طویل قصائد اور بے شمار اشعار زبانی یاد رکھتے تھے، لیکن جب یہی حافظے صحبتِ رسول ﷺ سے منور ہوئے تو ان کی قوت اور امانت داری کا عالم ہی کچھ اور ہوگیا۔ صحابۂ کرامؓ نہ صرف حضور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات کو محفوظ کرتے بلکہ آپ ﷺ کے افعال، عادات اور معمولات کو بھی اپنے دل و دماغ میں نقش کر لیتے تھے۔
اللہ رب العزت نے جس طرح انبیائے کرام علیہم السلام کو اپنی پیغام رسانی کے لیے منتخب فرمایا اسی طرح خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی معیت و نصرت کے لیے بھی ایک مقدس جماعت کا انتخاب فرمایا، جسے دنیا “صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین” کے نام سے جانتی ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کی مدد کے لیے فرشتوں اور دیگر غیبی اسباب پر بھی قادر تھا جیسا کہ متعدد مواقع پر ہوا، لیکن صحابۂ کرامؓ کا انتخاب محض نصرت کے لیے نہیں بلکہ دین کی امانت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کے عظیم مقصد کے لیے بھی تھا۔ صحابۂ کرامؓ ہر وقت بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر رہتے، آپ ﷺ کے اقوال و افعال کو محفوظ کرتے اور پھر انہیں دوسرے صحابہ تک پہنچاتے تاکہ اس امانت میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہو۔ یہی وہ عظیم مقصد تھا جس کے لیے اس مقدس جماعت کو منتخب کیا گیا۔
جہاں تک خانگی اور ازدواجی زندگی سے متعلقہ امور کا تعلق ہے ان کی تفصیلات امت تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو یہ عظیم ذمہ داری عطا فرمائی۔ یہ پاکیزہ ہستیاں علم و معرفت کے روشن مینار تھیں اور صحابۂ کرامؓ کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں۔ خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مقام اس باب میں انتہائی نمایاں ہے۔ جب کسی مسئلے میں صحابۂ کرامؓ کے درمیان اختلاف ہوتا تو وہ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر رہنمائی حاصل کرتے، اور یوں معاملہ واضح ہوجاتا۔ ہر صحابیِ رسولؓ نے اپنی استطاعت اور فرصت کے مطابق حدیثِ نبوی ﷺ کی خدمت انجام دی لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام اس میدان میں منفرد نظر آتا ہے۔
دیگر صحابۂ کرامؓ جہاں تبلیغِ دین کے ساتھ اپنے معاشی اور خانگی امور میں بھی مشغول رہتے، وہیں حضرت ابو ہریرہؓ نے خود کو تقریباً مکمل طور پر خدمتِ رسول ﷺ کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ان کے دل میں یہ خوف رہتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی وقت مجلسِ نبوی ﷺ سے غیر حاضر ہوں اور حضور اکرم ﷺ کا کوئی فرمان یا عمل ان سے نقل ہونے سے رہ جائے۔ بھوک اور فقر کی شدت کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات وہ بے ہوش ہوجاتے۔ بعض صحابہؓ گمان کرتے کہ شاید مرگی کا دورہ پڑا ہے، حالانکہ خود حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ یہ بیماری نہیں بلکہ شدید بھوک کا اثر تھا۔ یہ قربانی اس عظیم مقصد کے لیے تھی کہ حدیثِ رسول ﷺ کا ایک ایک لفظ محفوظ ہوجائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کا حافظہ غیر معمولی طور پر قوی تھا۔ تاریخِ حدیث میں اس کی کئی مثالیں مذکور ہیں۔ ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ مروان بن عبدالملک نے ایک مرتبہ آپؓ کو امتحان کی غرض سے بلایا۔ اس نے ایک کاتب کو پردے کے پیچھے بٹھا دیا تاکہ وہ حضرت ابو ہریرہؓ کی بیان کردہ احادیث لکھتا جائے۔ ایک سال بعد دوبارہ وہی احادیث سننے کا اہتمام کیا گیا تاکہ دیکھا جائے کہ عمر کے اثرات سے حافظے میں کوئی فرق تو نہیں آیا۔ لیکن حضرت ابو ہریرہؓ نے تمام روایات بغیر کسی کمی بیشی کے اسی ترتیب سے بیان کردیں۔ اس واقعے نے حاضرین کو حیرت میں ڈال دیا۔
احادیثِ مبارکہ کے نقل و روایت میں صحابۂ کرامؓ کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ بعض اکابر صحابہؓ صرف اس خوف سے کم روایت بیان کرتے تھے کہ کہیں نادانستہ طور پر کوئی ایسی بات حضور ﷺ کی طرف منسوب نہ ہوجائے جو آپ ﷺ نے ارشاد نہ فرمائی ہو، یا مفہوم میں کوئی فرق واقع نہ ہوجائے۔ اسی مبارک سلسلے کی ایک عظیم اور تاریخی کڑی “صحیفۂ ہمام بن منبہ” ہے۔ ہمام بن منبہ رحمہ اللہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جلیل القدر شاگرد اور اولین محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے استاذ حضرت ابو ہریرہؓ سے احادیث سن کر انہیں ایک صحیفے کی صورت میں مرتب کیا، جو بعد میں “صحیفۂ ہمام بن منبہ” کے نام سے مشہور ہوا۔
یہ صحیفہ احادیث کی اولین تحریری دستاویزات میں شمار ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا وصال 58 ہجری بمطابق 677ء میں ہوا جبکہ ان کے شاگرد ہمام بن منبہ رحمہ اللہ 101 ہجری بمطابق 719ء میں وفات پا گئے۔ اس صحیفے میں 138 احادیث شامل ہیں، اور حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہی روایات بعد کے مستند مجموعہ ہائے حدیث خصوصاً صحاحِ ستہ، میں بھی تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ امر اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ حدیثِ نبوی ﷺ کی حفاظت کس قدر مضبوط اور مستند بنیادوں پر ہوئی۔ صدیوں تک یہ عظیم علمی سرمایہ مخطوطات کی صورت میں پوشیدہ رہا، یہاں تک کہ معروف محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمہ اللہ نے جرمنی کی برلن لائبریری سے اس نادر قلمی نسخے کو دریافت کیا۔ انہوں نے نہایت محنت اور تحقیق کے بعد اسے عربی زبان میں شائع کیا۔ اس عظیم خدمت پر عالمِ اسلام ہمیشہ ان کا احسان مند رہے گا۔
بعد ازاں مختلف علماء و محققین نے اسے اردو زبان میں منتقل کیا، اس کی تخریج، تحقیق اور شرح کا کام انجام دیا تاکہ اردو خواں طبقہ بھی اس عظیم علمی ورثے سے استفادہ کرسکے۔ اس وقت اس صحیفے کا ایک عمدہ اردو نسخہ پروفیسر مولانا رفیق چودھری صاحب کی تحقیق کے ساتھ دستیاب ہے، جو ایک جید عالم محقق اور کثیر التصانیف شخصیت ہیں۔
یہ کتاب مرکز النور، لاہور سے دستیاب ہے۔



تبصرہ لکھیے