ہوم << بے گناہ انسانوں کا قتل – راحیل گوہر
600x314

بے گناہ انسانوں کا قتل – راحیل گوہر

خالق کائنات نے انسانوں کو اپنی جن نعمتوں سے نوازا ہے اس میں سب سے عظیم تر اور عجیب تر نعمت یہ زندگی ہے، جس کے نعم البدل کا کوئی تصور بھی انسان کے حاشیۂ خیال میں نہیں آسکتا۔ جبکہ یہ نعمت خداوندی اس دنیائے فانی میں صرف ایک ہی بار نصیب ہوتی ہے۔یہاں سے جو گیا وہ کبھی لوٹ کر نہ آیا۔یہ زندگی تو ایسی غیر یقینی چیز ہے کہ بسا اوقات آدمی لمحوں میں حقیقت سے فسانہ بن جاتا ہے۔بقول شاعر:

زندگی کیا ہے چند عناصر کا ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انھیں اجزا کا پریشاں ہونا

زندگی ایک وقفۂ امتحان ہے جس کا ایک محدود دورانیہ ہے، امتحان کایہ دورانیہ مکمل ہو جائے تو زندگی کا چراغ گل ہوجاتا ہے، یہی اس دنیا کی اٹل حقیقت ہے، گویا جو مر گیا اس کی قیامت اس پر واقع ہوگئی۔اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ اسلام انسانی جان کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ خواہ انسان کا تعلق کسی بھی مذہب، رنگ و نسل، عقیدے ، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن سے ہو۔بحیثیت انسان اللہ کی نظر میں سب ایک ہیں اس میں کافر و مؤمن کی کوئی تفریق نہیں۔ فرمان الٰہی ہے:
’’ اے لوگو! اپنے پرور دگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کیا،
اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔‘‘ ( النساء 01)

اللہ نے انسانی جان کی حرمت کے تحفظ کی بہت تاکید کی ہے۔اللہ اپنی خلقت کے سود و زیاں سے غافل کیوںکر ہوسکتا ہے،جو ایسا سمجھتا ہے وہ غفلت کی اندھیری گھاٹیوں میں گرا ہو اہے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسانی جان کی عظمت کو واضح کر تے فرمایا:
’’ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین پر فساد پھیلانے والا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے
تمام لوگوں کو قتل کر دیا۔ اور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے،اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ کر دیا۔‘‘ (المائدہ 34)

اس آیت مبارکہ سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اللہ کی نظر میں انسانی جان کی حرمت کتنی قدر و منزلت کی حامل ہے ،انسان ہی وہ ہستی ہے جس کی عزت و توقیر کائنات کی تمام مخلوق پر فوقیت رکھتی ہے۔اسی لیے شرک کے بعد عظیم تر گناہ معصوم اور بے گناہ انسان کی جان لینا ہے ۔
ارشاد ربانی ہے:
’’ اور مت قتل کرو اس جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے، مگر حق کے ساتھ۔‘‘(الاسراء 33)

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ’حجۃ اللہ البالغہ‘ میں لکھتے ہیں: ’’ تمام اہل ادیان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قتل سب گناہوں میں بڑھ کر گناہ ہے،کیوںکہ اس میں خواہش غضب میں نفس کی اطا عت ہے اور لوگوں میں فساد ڈالنے کا بڑا سبب ہے اور ا س میں خلق الٰہی کے تغیر اور بنیاد الٰہی کا منہدم کر نا ہے۔قتل عمد میں فساد زیا دہ ہے اور اس کا داعیہ بھی قوی ہے لہٰذا اس میں سخت سزا کا دینا مناسب ہے تاکہ پورے طور پر اس کے ارتکاب سے روکے۔جان بوجھ کر(عمدًا) کسی کو قتل کر نے پر اللہ نے اپنے غضب کا یوں اظہار فرمایا ہے:
’’ اور جو کوئی کسی مؤمن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (النساء 93)

کتاب و سنت کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ خالق کائنات نے ایک طرف انسان کی رزق کی فراہمی کا ایک مربوط نظام وضع کیا ہے تو دوسری جانب اس کی روحانی اور تمدنی زندگی کی آبیاری کے لیے بھی ایک ایسا بے مثال لائحہ عمل پیش کیا ہے جو اپنی ہیئت ترکیبی میں مکمل طور عدل کی انوار و برکات پر مبنی ہے۔عدل کا رویہ انسان کے ندر ایک احساس تحفظ پیدا کرتا ہے اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ عدل ہی وہ شے ہے جس کا آج عالمی سطح پر فقدان ہے اور دور جدید میں مسند اقتدار پر بیٹھے حکمراں بھی عدل و انصاف کی ضروت اور اہمیت سے غافل ،طاقت و جبر کے زور پر حکومت کر رہے ہیں۔

اللہ کی طرف سے انسان کو جو ایک نظام عدل و قسط سو نپا گیا ہے اس میں اس کی مخلوق پر ظلم و استحصال ، جائز حقوق کی پامالی،احکام الٰہی سے بغاوت اور بندوں کو اپنے ہی جیسے دوسرے بندوں کی فکری اور عملی غلامی سے نجات دلانے کا کامل قانون موجود ہے۔اور حیات دنیوی کے تمام گوشوں تعلیم، معیشت، سیاست، ثقافت اور سماجی اقدار کے تحفظ کا ایک جامع پروگرام سامنے لایا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات ہی وہ واحد اور بہترین راستہ ہے جس پر چل کر ایک پرسکون، کامیاب اور زندگی کی حلاوتوں سے متمتع ہو کر اس خیر و شر کی دنیا میں رہا جاسکتا ہے۔ورنہ گمراہی، دجل و فریب اور زیغ و ضلال کے زہریلے ناگ انسان کو نگلنے کے لیے منہ پھاڑے دنیا کے ہر دوراہے پرکنڈلی مارے بیٹھے ہیں۔

عدل کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پھر انسان کی فکری، عملی اور نظری قوت کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔اور بنی نوع انسان کی یہی کمزوریاں اسے ترقی یافتہ قوموں کی غلامی پر مجبور کر دیتی ہیں۔اور آج عالمی سطح پر مسلم امت ،اقوام مغرب کی غلامی کا یہ قلادہ اپنے گلے میں ڈالے بیٹھی ہے۔اسلام انسانیت پرور دین ہے،یہ سابقہ ادیان یا پچھلی اقوام کی طرح تنگ نظری کا رویہ اختیار نہیں کر تا اور نہ دیگر مذاہب اور ان کے عقائد و نظریات کے خلاف کسی قسم کا تعصب کا اظہار کر تا ہے۔بلکہ اسلام کا بنیادی و صف محبت، رواداری،بھائی چارگی اور ایثار و قربانی ہے۔اسلام مذہبی رواداری میں کسی کی ناحق جان لے لینا، یا کسی کا مال زور زبردستی سے ہڑپ کرلینے کی سختی سے مما نعت کی ہے۔

اسلام اس امر کی بھی تاکید کرتا ہے کہ لوگوں کے لیے ہر گز روا نہیں کہ وہ محض مذہبی اختلافات یا باہمی رنجشوں کی بنا پر بے گناہ انسانوں کو قتل کر دیں۔یا ایک دوسرے پر ظلم و تعدی کریں۔سورۃ المائدہ کی آیت 02میں ارشاد الٰہی ہے :
’’ نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کر تے رہو اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو،اللہ سے ڈرتے رہو،
بے شک اللہ تعا لیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘

انسان کا قتل ناحق تو ایسا عظیم جرم ہے اس کے بارے میں محمد عربیﷺ نے فرمایا:
’’ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس دنیا کا خاتمہ کسی مؤمن کے قتل ناحق سے کہیں زیادہ ارزاں ہے‘‘۔(ترمذی، ابن ماجہ)

اور انسان کی تو بات ہی کیا ، اسلام تو کسی جانور کو بھی بلا وجہ قتل کرنے کی اجا زت نہیں دیتا۔ ارشاد نبویﷺ ہے:
’’ مینڈک کو بلا وجہ قتل نہ کرو.‘‘ ( صحیح الجامع الصغیر)

چنانچہ کسی انسان کو اذیتیںدینا ، اس پربہیمانہ تشدد کرنا یا جیتے جاگتے انسان کو زندہ جلا کر ماردینا اسلام کی نظر میں محض سخت ترین گناہ ہی نہیں بلکہ انسانیت کی توہین اور اس کی دھجیاں بکھیر دینے کے مترادف ہے۔ اس غیر انسانی طرز عمل میں خواہ کسی بھی قوم اور مذہب کے ماننے والے ہوں،سب درندگی اور سفاکیت کی گھناؤنی مثال ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment