ہوم << کنگ چارلس کاخطاب – کامران رفیع
600x314

کنگ چارلس کاخطاب – کامران رفیع

شاہ چارلس کی حالیہ تقریر اُن خطابات میں سے ایک ہے جنہیں صرف سنا ہی نہیں جاتا، پڑھاپڑھایا بھی جاۓ گا. یہ تقریر بیک وقت بہت کچھ “سکھاتی” بھی ہے اور بہت کچھ “سمجھاتی” بھی ہے۔ پہلے اُس پہلو کی بات کر لیتے ہیں جو سیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بطور مقرر شاہ چارلس نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

الفاظ کا انتخاب،
جملوں کی ساخت،
وقفوں کا استعمال،
لہجے کی نرمی
اور
اختلاف کو تہذیب میں لپیٹ کر پیش کرنے کا فن

یہ سب اُس سیاسی روایت کی یاد دلاتا ہے جہاں گفتگو ابھی مکمل طور پر شور میں تبدیل نہیں ہوئی۔انہوں نے جہاں جہاں ظرافت (Humor) اور شائستہ طنز استعمال کیا، وہاں تقریر محض سیاسی بیان نہیں رہی بلکہ ایک تربیت یافتہ تہذیبی اظہار بن گئی۔ ایک ایسے عہد میں جہاں سیاست دانوں کی اکثریت مکالمے کے بجائے چیخ، دلیل کے بجائے دشنام، اور اختلاف کے بجائے کردارکشی کو سیاست سمجھ بیٹھی ہے، وہاں یہ تقریر واقعی ایک معیار محسوس ہوتی ہے۔
دنیا بھر کے سیاسی قائدین کو کم از کم اتنا ضرور سیکھنا چاہیے کہ مخالف سے اختلاف کرتے ہوئے زبان کو کیسے مہذب رکھا جاتا ہے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ خطابت کی خوبصورتی اکثر تاریخ کے حقاٸق اور کمزوروں کے زخموں پر الفاظ کے مخمل لپیٹ دیتی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں “سیکھنے” کے بعد “سمجھنے” کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ جب یہی تقریر کسی برطانوی شہری کے بجائے برصغیر کے کسی وارث، کسی برطانیہ کے عرب انتداب (Mandate) کے کسی باسی، کسی افریقی نسل کے فرد، یا کسی ریڈ انڈین (Indigenous) کی سماعت میں داخل ہوتی ہے تو اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔
الفاظ وہی رہتے ہیں… مگر مطلب بدل جاتے ہیں کیونکہ حافظہ مختلف ہو جاتا ہے۔ جب شاہ چارلس “مشترکہ اقدار” (Common Values) کی بات کرتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ “مشترک” آخر کن کے درمیان تھا؟

کس کے حقوق مشترک تھے؟
کس کی انسانیت قابلِ تحفظ سمجھی گئی؟
اور کس کی زمین، زبان، شناخت اور تاریخ کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھا گیا؟

حقیقت یہ ہے کہ مغربی سیاسی اخلاقیات کی یہ عالمگیریت (Universalism) کبھی بھی مکمل طور پر عالمگیر نہیں رہی۔ اس کے مرکز میں اکثر ایک مخصوص تہذیبی، مذہبی اور سیاسی تصورِ دنیا موجود رہا ہے ایک ایسی “سیاسی عیسائیت” (Political Christianity) جو خود کو انسانی تہذیب کا اخلاقی معیار سمجھتی ہے ، رہی باقی دنیا تو اس کو یا تو “مہذب کیے جانے” کے قابل سمجھا گیا یا “منظم کیے جانے” کے۔ اور غور کیجیے یہ محض داخلی سیاست یا سماجی رویوں کا معاملہ نہیں۔ یہ طاقت، تہذیب اور عالمی تعلقات کی وہ ساخت ہے جس نے صدیوں تک یہ طے کیا کہ کون قوم “تاریخ بنائے گی” اور کون قوم “تاریخ برداشت کرے گی”۔

اہم تر بات یہ ہے کہ بہت عرصے بعد کسی برطانوی ساورن (Sovereign) نے سیاسی عیساٸیت کو بین السطور اور کبھی کھلے لفظوں میں بین الاقوامی تعلقات کا معیار قرار دیا ہے. اور یہی وہ مشترکہ اقدار ہیں جو برطانیہ کے امریکی جنگ آزادی کے تمامظالم کے باوجود اسے اور امریکہ کو بقول چارلس سب سے گہرا اور معنی خیز اتحاد بناتی ہیں (پاکستان بنگلہ دیش افغانستان اس سے کچھ سیکھیں ۔ ترک اور عرب بھی اس سے کچھ سمجھیں ). بہر کیف ، ایک سابقہ کالونی کے شہری کے طور پر سمجھنا مگر یہ بھی ہے کہ شاٸستہ تقریروں کے سحر میں ہم انکی ناشاٸستہ تاریخ بھول نہیں سکتے۔ جب کنگ چارلس کہتے ہیں کہ اُن کے کندھوں پر “تاریخ کا بوجھ” ہے، تو ایک ریڈ انڈین کے ذہن میں سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا اس بوجھ میں وہ لاکھوں روحیں بھی شامل ہیں جن کی زمینیں شاہی چارٹرز (Royal Charters) کے ایک دستخط سے ضبط کر لی گئیں؟

وہ بستیاں؟
وہ تہذیبیں؟
وہ زبانیں؟
وہ نسلیں جنہیں ترقی، تجارت اور تہذیب کے نام پر روند دیا گیا؟
وہ جس چار سو سالہ “تعلق” کا ذکر فخر سے کرتے ہیں، وہ ہمارے لیے تعلق نہیں تھا۔ وہ چار صدیاں ہماری زمینوں کی ضبطی، ہماری معیشتوں کی تباہی، ہماری شناختوں کی تحلیل، اور ہماری نفسیات کی غلامی کی داستان تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ الفاظ کا خوبصورت طلسم ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات شائستہ لہجے میں کہی گئی بات بھی طاقت کی وہی پرانی زبان ہوتی ہے… صرف اس کے آداب بدل جاتے ہیں۔

اور شاید اس تقریر کا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے کہ جو کچھ بھی شاہ چارلس اور انکی قوموں کے لیے “کامن ویلتھ” (Commonwealth) ہے، وہ دنیا دنیا بھر کے لیے درحقیقت ہمیشہ ایک “کامن نقصان” ہی رہا۔ خطابت جتنی بھی شاندار ہو، تاریخ کا حساب صرف لہجے سے معاف نہیں ہوتا شاہ معظم جناب کنگ چارلس فلپ آرتھر جارج صاحب

مصنف کے بارے میں

کامران رفیع

کامران رفیع نصاب سازی اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پاکستان کے بڑے ادارے آفاق کے ایچ آر ہیڈ ہیں۔ اس سے پہلے ڈوگر پبلشرز کے ریسرچ اینڈ مارکیٹنگ ہیڈ رہے ہیں۔ علم و تحقیق سے شغف ہے۔ ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں.

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment