ہوم << پاکستانی ٹھرکی اور امریکن ٹھرکی – معوذ اسد صدیقی
600x314

پاکستانی ٹھرکی اور امریکن ٹھرکی – معوذ اسد صدیقی

امریکہ میں جم میں جانے والی خواتین کو کس رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے !

میں اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ کہہ رہا ہوں کہ پاکستانی عام امریکی کے مقابلے میں زیادہ ٹھرکی رویہ رکھتے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو خود کو لبرل کہتے ہیں، اور کچھ وہ جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دکھاوا کرتے ہیں،دونوں ہی کی حقیقت اکثر سب کے سامنے آ جاتی ہے۔

اصل میں وہی لوگ سچے ہیں جو اللہ کے خوف سے اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہیں، ورنہ چاہے کوئی مذہبی ہو یا لبرل، ٹھرکی پن چھپتا نہیں۔انصار عباسی کے ٹویٹ پر پریشان ہونے والے پاکستانی لبرلز کے لیے نیچے ایک رپورٹ موجود ہے.یہ پاکستان کی نہیں بلکہ امریکہ کے جمخانوں کی صورتحال پر مبنی ہے۔ جب وہاں یہ حال ہے تو ہمارے ہاں کیا صورت ہوگی، اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ جم میں آدھی سے زیادہ خواتین (56٪) ورزش کے دوران ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں۔ یہ صرف ایک ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سماجی رویہ بن چکا ہے، جس کی وجہ سے کئی خواتین اپنا روٹین بدل دیتی ہیں یا جم جانا ہی چھوڑ دیتی ہیں۔

دنیا بھر اور امریکہ مئں ہراسانی کی اقسام میں تاڑنا اور ڈرانا، یا ویڈیوز بنانا ، جسمانی طور پر تنگ کرنا، بہت قریب آنا یا پیچھا کرنا ، زبانی ہراسانی، فضول مشورے، نامناسب باتیں یا بار بار نمبر مانگنا وغیرہ شامل ہے . اور سب سے سنگین، جنسی ہراسانی یعنی غلط طریقے سے چھونا۔

مصنف کے بارے میں

معوذ اسد صدیقی

معوذ اسد صدیقی 25 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ ہم نیوز امریکہ کے بیوروچیف ہیں۔ ان کا شمار امریکہ میں پاکستانی صحافت کے چند معروف صحافیوں میں ہوتا ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد مختلف اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ ان کا تجزیہ ہمیشہ غیرجانبداری کا رنگ لیے ہوتا ہے۔ امریکہ کی پاکستانی کمیونٹی میں ان کی پہچان خدمتِ خلق ہے۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment