ہوم << معصوم خواہش- توقیر عائشہ
600x314

معصوم خواہش- توقیر عائشہ

“چلیں ابو!”، میرا بیٹا سر پہ ٹوپی جمائے تیار کھڑا تھا۔
“ابو!آج تو میں آپکے ساتھ صف میں کھڑا ہوں گا۔” اُس نے بٖڑے اعتماد سے کہا۔ اُس وقت تو اس بات کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا اور نہ ہی اب اتنا وقت بچا تھا کہ میں اسکے معنی پوچھتا۔

آج بہت دن کے بعد مجھے اپنے محلے کی مسجد میں جمعہ پڑھنے کا موقع ملا تھا ورنہ میرے دفتری اوقات ایسے تھے کہ میں دفتر کے قریب ہی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتا تھا۔میں نے اپنے سات سالہ بیٹے انس کا ہاتھ تھامااورمسجد کی قدرے اولین صف میں جا کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر میں اذان ہوئی اور خطبۂ جمعہ اداکیا گیا۔خطبے کے ختم ہوتے ہی امام صاحب نے ایک اعلان کیا۔
” صفیں درست فرما لیں ….صفوں کے درمیاں جگہ خالی نہ چھوڑیں ، بچوں کو پیچھے کر دیجئے۔”
یہ سُن کرصفوں کے درمیان سے کچھ بچے میکانیکی انداز میں نکل کر پیچھے کی جانب چل دیئے۔ جبکہ انس میرا ہاتھ سختی سے تھام کر کہنے لگا،

“میں پیچھے نہیں جاؤں گا۔ آپ کے ساتھ صف میں کھڑا ہوں گا.”
میرے قریب کھڑے ایک نمازی حضرت نے میرے بیٹے سے کہا ،
’’ بیٹا ! جائیے پیچھے کی صف بچوں کی ہے۔‘‘
میں نے نارمل سے انداز میں کہا،’’ یہ یہیں پڑھے گا ۔ ادھر جگہ ہے ، آپ ادھر آجائیں۔‘‘
ایک اور صاب کہنے لگے ،’’ جب بچوں کی جگہ پیچھے ہے تو آپ اسے پیچھے ہی بھیجئے‘‘
پھر ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں۔
’’ بچے نمازخراب کرتے ہیں۔۔۔حکم نہیں ہے جی ، نابالغ ہے۔ ساتھ کھڑا نہ کریں۔‘‘

کچھ تکرار سی ہونے لگی۔ میرا اصرار کہ بچہ میرے ساتھ کھڑا ہوگا، نمازیوں کا اصرار کہ پیچھے بھیجیں۔ امام صاحب نے صفوں میں کچھ ہلچل محسوس کی تو وہ بھی متوجہ ہوگئے اور کہنے لگے، ’’ جناب ! مسجدکا اصول ہے ہم بچوں کی صف پیچھے بناتے ہیں۔ بچے گندگی کرتے ہیں اور نماز میں خلل ڈالتے ہیں۔ ‘‘
میں نے کہا، ’’ امام صاحب ! یہ بچے ساتھ کھڑے نہ ہوں گے تو کیسے سیکھیں گے؟ ہر جگہ بچوں کو ساتھ رکھتے ہیں ۔ مسجد میں نہیں رکھ سکتے۔ کمال ہے۔۔۔‘‘

’’آپ بحث نہ کریں ، آپ جماعت کو دیر کرا رہے ہیں۔‘‘ امام صاحب کے لہجے میں سختی در آئی۔ انس بھی سہم سا گیاکہ اُسکی ذات عجیب سے فساد کا باعث بن رہی ہے۔ میں نے ماحول خراب ہوتے دیکھاتو بیٹے سے کہا۔’’ اچھاجاؤ بیٹا! پیچھے ہی چلے جاؤ۔‘‘ اب مجھے اُسکی وہ معصوم خواہش یاد آئی کہ آج تو میں ابو کے ساتھ صف میں کھڑا ہوں گا۔۔۔میں نے سوچا کہ امام صاحب سے مُلاقات کر کے ضرور اسپر بات کر کے اپنا موقف سمجھاؤں گا۔

آخر دنیا کی ہر جگہ باپ اپنے بچے کوساتھ لے کر جاتا ہے کہ اسکو تجربہ ہو۔ اسکول کی چھٹی ہو تو بعض افراد اپنے بچے کو کاروباری جگہ لے جاتے ہیں ۔ کبھی آفس بھی لے آتے ہیں کہ یہ دنیا دیکھ لے۔ سبزی والااپنے آٹھ سالہ بیٹے کو لے کر ٹھیلا کھینچتا پھرتا ہے کہ یہ سیکھ لے لیکن دین میں داخلے کی بنیادی جگہ مسجد کو بچے کے لئے بے رونق بنا دیتے ہیں۔سارے نمازی اسے پیچھے بھگانے پر زور دیتے ہیں ۔ اسکو مسجد میں گندگی پھیلانے کا باعث قرار دیا جاتا ہے جبکہ دنیا کی اعلیٰ تعلیم کے لئے مہنگے مونٹیسوری اسکولوں کا چُناؤ کرتے ہیں جہاں داخل ہوئے بچے ابھی ’’ ٹوائلٹ ٹرینڈ ‘‘ بھی نہیں ہوتے۔پھر نوجوان نسل سے گلہ کرتے ہیں کہ مسجد سے لگاؤ نہیں۔۔۔

سچی بات تو یہ کہ میں بڑے دن کے بعد اپنے محلہ کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے گیا تھا مگر میرا دل نماز میں نہیں لگا۔کچھ دن تک میں مسجد سے متصل امام صاحب کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہا لیکن ہر دفعہ جواب ملا کہ وہ مصروف ہیں یا گھر میں نہیں ہیں۔میں سمجھ گیا کہ وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتے۔پھر مجھے بھی موقع نہ ملا کہ میں محلے کی مسجد میں نماز پڑھتا۔
کچھ نجی مصروفیات کے باعث میں نے دفتر سے بیس دن کی چھٹی لی ۔ کیلنڈر کے مطابق اسمیں تین جمعہ آنے تھے۔ مجھے اپنے بیٹے کی معصوم خواہش یاد تھی کہ میں آپ کے ساتھ صف میں کھڑا ہوں گا۔

سو میں نے دور کی مسجد کے امام صاحب سے ملاقات کی اور اُنکے سامنے اپنا مقصد اور مدعا بیان کیا اور بچہ کو صف میں ساتھ کھڑے کرنے کی اجازت طلب کی۔ اُنہوں نے مجھ سے اتفاق کیا ۔ یوں میں دوسرے دن جمعہ کی ادائیگی کے لئے اُنکی مسجد جا پہنچااور پُرسکون انداز میں نماز ادا کی۔میں نے محسوس کیا کہ آج انس کے لب و لہجہ اور چال ڈھال میں واضح اعتماد اور جوش موجودہے۔واپسی پر وہ بڑا خوش تھا۔

ایک رات دس بجے کا وقت تھا۔ معمولات سے فراغت کے بعد میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا کہ درواز ے پر بیل ہوئی۔ معلوم ہوا کہ امام صاحب آئے ہیں ۔ کون امام صاحب؟؟ میں کچھ اُلجھ سا گیا۔ باہر گیا تو وہی امام صاحب تھے کہ جن کے رویہ سے میں بددل ہوگیا تھا۔بہر حال میں نے اُنہیں حترام سے اندر بٹھایا۔ کچھ دیر بعد وہ گویا ہوئے:
’’ بچوں کو مسجد میں لانے کے سلسلے میں آپ سے تکرار ہوئی تھی۔اب میں نے اپنے موقف میں تبدیلی کر لی ہے۔ پچھلے دنوں میں کسی مصروفیت کے باعث جمعہ کی امامت کے لئے وقت پر نہیں پہنچ سکا۔ احتیاطاََمیں نے ایک دوسرے صاحب کو امامت کے لئے مقرر کر دیا تھا۔

جب تیار ہو کر مسجد میں داخل ہوا تو جماعت کھڑی ہوچکی تھیاور مجھے بالآخر پیچھے کی صف میں موجود بچوں کے پاس جگہ ملی۔ دورانِ نماز بچے شرارت کرتے رہے۔ کوئی مصنوعی کھانسی کر رہا ہے۔ کوئی دبی ہنسی ہنس رہا ہے۔ کوئی دوسرے کی ٹوپی کھینچ رہا ہے۔ میرے ذہن میں آیا کہ اگر یہ بچے جس بڑے کے ساتھ آئے ہیں اُسی بڑے کے ساتھ صف میں کھڑے ہوں تو اُنکو شرارتوں کا موقع نہ ملے۔ اسی کے ساتھ مجھے آپ کا خیال آیا کہ آپکا موقف درست تھا۔ اسلیئے میں نے مسجد کے اصول و ضوابط میں تبدیلی کر لی ہے۔ اب میری خواہش ہے کہ آپ بچے کے ساتھ جمعہ کی نماز ہمارے ساتھ ہی ادا کیجیئے۔‘‘

حقیقت یہ تھی کہ میں جو اُنہیں اب تک روایتی قسم کا مولوی سمجھ رہا تھا، اس گفتگو سے اُنکے بارے میں میری رائے یکسر تبدیل ہو گئی ۔ بات سمجھ میں آجانے کے بعد وہ اپنی رائے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ علم اور مرتبہ ہونے کے باوجود اسے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا تھا۔بچوں کے لئے سخت گیر ماحول میں تبدیلی لا کر عملی پہلو بھی اختیار کیا۔ اور پھر یہ بھی کہ خود چل کر میرے پاس ملاقات کے لئے آئے۔ اب وہ میری نظر میں روشن خیالی کی ایک عمدہ مثال بن گئے تھے۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment