ہوم << جنریشن گیپ – کاشف جانباز
600x314

جنریشن گیپ – کاشف جانباز

اقدار،روایات،تہذیت اور تمدن کا سفر نسل در نسل ہوا کرتا ہے اس میں بگاڑ اس وقت پنپتا ہے جب امنت کے امین ہی خائن بن جائیں.گزرے وقتوں میں جیسی مائیں عظیم ہوا کرتی تھیں انکی اولاد بھی ویسے ہی صفات سے لبریز اور بے مثل ہوا کرتی تھی۔بیٹے میدانِ کارزار کے جوانمرد ہوتے تھے اور بیٹیان حیاء کی لازاول داستانیں۔

پھر لوگ بدلے،طور بدلے جبکہ وقت اسی پرانے چوراہے کے گرد چکر کاٹتا رہا۔ اورسوچ کے موسموں نے انگڑائی لی جسکے بعد غیرت دقیانوسیت کے تالاب میں ڈوب گئی،عفت کا سر کہنہ روایت کے ہتھوڑے سے کچل دیا گیا اور دین کی اہم شقون پر آزاد خیالی کی سیاہین چھا گئی۔ٹرینڈ فالوونگ کے سراب نے حمیت کی سرسبز امین سے اسلاف اور تمدن کی نمی کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیا۔ ایک وقت تھا کہ جب ماں کی چاندنی رات کے اخری پہر میں گھر کے صحن میں پھیل جاتی تھی اسکی زبان رب کے ذکر میں مشغول رہتی تھی اور پاتھ پیر امور خانہ داری میں نمتانے لگتے تھے جبکہ اولاد فجر سے پہلے پہلے بیدار ہوکر اللہ کے حضور سر بسجود ہوجایا کرتی تھی.

دنا کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے ہوتا اور ماں جب یس شریف پڑھ کر ناشتہ تیار کر کے بچوں کو کھلاتی تھی تو وہ ولی، مجاہد، فقیہ اور عالم بن کر معاشرے میں پھیلی سیاہی کے بیچ و بیچ دمکتے تھے۔تب سب کا عزت،،مال اور خوبن برابر تھا رہزنی مفقود اور انساف کا بول بالا تھا۔ پھر نسلوں نے سفر طے کیا اور اقدار کا سورج جو جوبن پر تھا ڈھلتے ڈھلتے ظہر اور عصر کے مابین آگیا. گھرانے فجر تک محصور ہوگئے اور قرآن کی تلاوت ناغون کی نذر ہونے لگی کال تب بھی نہ تھا قاری،حافظ اور دیندار نسل تب بھی نکلتی تھی لیکن معئار کم ہوئے اور انکار گم ہوئے۔ اور پھر حمیت کا سورج پر تھا گرتے گرتے عصر پر آ پہنچا جہان والدین کی صبحیں اخبارات کے مطالعے سے شروع ہونے لگیں اور قرآن کسی ایک فرد کی میراث بن کے رہ گیا جبکہ اولاد دنیاوی اعتبار سے محقق،مدبر اور تنقید نگار بن کر ابھرنے لگی.

اسکے بعد جوبن کا حامل سورج ڈھل ڈھل کے شام کی دہلیز پا آگیا اور صبح کے اوقات کا معمول یکسر تبدیل ہونے لگا آنکھ کھلتے ہی ٹی وی پر ٹکٹکی جمنے لگی اور معاشرتی سرطان جو کسی کونے میں دبکا بیٹھا تھا اب کہ مکمل سر اٹھا کے تھرکنے لگا. اب وہی حمیت کا سورج شب کی دہلیز پر کھڑا اسکا دروازہ مسلسل پیٹے جا رہا ہے اور اس انتظار مین منہمک ہے کہ کب یہ در کھلے اور ظلمت کی سلطنت کا آغاز ہو. دو تین نسلیں پہلے جہاں لبوں پر آیات قرآنی ہوا کرتی تھیں ان کی جگہ رفتہ رفتہ ترانوں نے لی پھر نغموں کو گنگنانے کی روایت پڑی اسی وقت کے دھارے میں بہتے بہتے”چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر” سے ہوتے ہوئےآج ہم “چار بوتل ووڈکا اور نچاں میں شرم اتار” تک آ گئے ہیں۔

جہاں بچے کو نوٹ اور سکون کی تو پہچان نہیں ہوتی کہ یہ کتنے کا سکہ یا نوٹ ہے لیکن اس کم عمری میں بھی ود “پارٹی ال نائٹ اور دارو شارو چلن” جیسے واہیات گانوں کو لبوں پر رکھتے ہیں. جبکہ بدلاؤ صرف بچوں میں ہی نہیں آیا بلکہ بڑے بھی دیس کے بھیس میں رنگے جا چکے ہیں۔جہاں پہلے مسنون دعاؤں اور کلموں کے یاد ہونے پر والدیں اپنے بچوں کے صدقے واری جایا کرتے تھے آج وہی ماضی کے کنجروں اور حال کے اسٹارز کے ایک ایک بول کو گنگناتے بچوں کو بڑے ہی متفخرانہ انداز میں انہیں مہمانوں سے متعارف کراتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک چادر اور چار دیواری مین محیط رہنے والی بیٹیاں آج بازار مین نمائش کا سامان بن کر رہ گئی ہیں۔

(چادر یعنی اپنی عفت اور عصمت کے خیال کے ساتھ ساتھ اپنی اصل وقعت کا اندازہ ہونا جبکہ چار دیواری سے مراد ماں کے بھروسے باپ کے مان اور بھائیوں کے فخڑ کا حساس آبگینہ سنبھال رکھنے کی روش ہے)

پہلے کی پارسائی اب قید تصور کی جاتی ہے اور گزری بے حیائی کو حق اور آزادی کہا جانے لگا ہے حتی کہ جو اسکے خلاف آواز اٹھائے اسے ہی وحشی اور جنسی درندہ کہا جانے لگتا ہے۔ یہی بے باکی اور سوچ کے تغیر کے تغیر کا نتیجہ ہے کہ مرد و زن میں مسافحہ تک کا سین آنے پر جو چینل بدل دیا جاتا تھا تاکہ بچوں پر کوئی برا اثر نہ پڑےاب پوری فیملی ایک ساتھ بغلگیری کے سینز بنا تس سے مس ہوئے دیکھتے ہیں حتی کہ فلمی گانے جنہیں کبھی نھوست اور بے شرمی کا آئکن سمجھا جاتا تھا اج بیٹے بیٹیوں کی بیک موجودگی میں انہیں نہ صرف دیکھا اور سنا جاتا ہے بلکہ حد درجے کا لطف اندوز بھی ہوا جاتا ہے۔

لیکن اب تو کسی فلم،ڈرامے یا گانے کی بھی ضرورت نہین اب تو اشتہارات کا نام پر ہی وہ وہ واہیات ہونے لگی ہیں کہ اللہ کی پناہ انہی کمالات میں موبائل کے وقفے میں عورت کو دراز کردینا دودھ بیچنے کیلئے مجرے کرنا اور ٹوتھ پیسٹ بیچنے کیلئے اسکے سینے کھال دینا معمول بن چکا ہے اور ہم پر ان سب چیزوں کا کوئی اثر بھی نہیں ہوتا۔نامحرم والی تو کہانی ہی ختم ہوگئی ہے پیکجز کے اشتہارات کے نام پر سیٹنگ کا پورا طریقہ بتا دیا جاتا ہے اور جب ان کے مابین بات شروع ہوتی ہے پیچھلے فیملی بھی موجود ہوتی ہیں جسے بلر کر کے دکھایا جاتا ہے۔ وہ چادر جو عفت کی لاج تھی وقت کی تیز رھپیڑون نے اسے سر سے سرکایا جسکے بعد میں وہ گلے میں پڑ گئی پھر اسے دو “پٹہ” بنا لیا گیا اور یہ ڈھلک کر دو کاندھوں سے ایک کاندھے پر جا ٹکی جسکے بعد اس “پٹے” کو اتار کے پھینک دیا گیا گیا۔

آستینیں گھٹتی گئیں،دامن سکڑتے گئے،چاک بڑھتے گئے اور گلے بڑے ہوتے گئے جبکہ اوڑھنی کو گرا ہوا پاکر مردوں سے سر پہ سجا لیا ۔ دورِحاضر کی یوتھ جینڈر وائز بھی بری طرح خلط ملط ہو چکی ہے لڑکیون کی ادھ ننگی پنڈلیان ٹرینڈ اور لڑکون کا پھٹی جینز کو پیروں تلے روندنا فیشن بن گیا ہے۔ بُندے،کانٹے،ہار اور بریسلیٹ عورت نے مرد کی نسوانی کیفیت کو بھانپ کر یہ سب چیزیں اسے تحفتا دے دی ہیں۔ یہ جنریشن گیپ کا اثر ہے کہ دو دہائی قبل تک ٹی وی اشتہارمیں “اے خدا میرے ابو سلامت رہیں” کہنے والی بیٹی آج “سارہ” کی شکل میں اسی ابو کی کوئی بات خاطر میں نہ لاتے ہوئے گھر کی دہلیز صرف اسلئے پار کر جاتی ہے کہ اسے اپنے خواب پورے کرنے ہوتے ہیں اور اس خواب کے درمیان جو بھی پتھر ہو اسے ٹھوکر مارنے کی اس نے پکا ارادہ کر لیا ہوتا ہے پھو وہ پتھر اسکا اپنا باپ ہی کیوں ہو.

یہ جنریشن گیپ ہی ہے کہ پہلے والدین کی عزت،انکے فیصلے اور رضا مندی کو اولین ترجیح دی جاتی تھے اور اب ہاں میں ہاں نہ ملانے پر منہ کالا کرلینے کو اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ عرصہ نہیں گزرا کچھ ہی وقت پہلے تک ایک مخصوص طبقہ “کنجر” کہلاتا تھا جنہیں شادی بیاہ کی تقریبات میں بلوا کر نچوایا جاتا تھا ، لیکن پھر اس روایت نے کروٹ لی اور اب حال یہ ہے کہ رقاصائیں تو ان تقریبات میں اب بھی آتی ہیں لیکن جدت یہ آئی آئی کہ اب صرف ان کرائے کی رقاصاؤں کو ہی نہ نہیں نچوایا جاتا بلکہ اپنے خاندان کی عورتوں بالخصوص نوجوان لڑکیاں ،جن میں بہن،بیٹیاں،بھابھیاں،خالہ اور پھوپھی زادیاں شامل ہوتی ہیں ان سے بھی برابر رقص کروایا جاتا ہے.

انتہاء تب ہوتی ہے جب بھائی بہن اور بیوی پر جبکہ باپ بیٹی اور بہو کے ایک ایک تھمکے پر دیوانہ وار نوتوں کی گتھیان نچھاور کرتے ہیں اور ان عارضی رقاصاؤں کے تہذیب کی زبان میں کئے جانے والے “ڈانس” سے نہ صرف خود محظوظ ہوتے ہیں بلکہ سا رے مہمانوں کی بھی تمام حسرتیں پوری کرتے ہیں۔ اور جو رہ جاتا ہے اسے اس سارے پروگرام کی ڈی وی ڈی بھجوا دی جاتی ہے تاکہ جب جب اسکا دل چاہے وہ اپنا دل بہلا سکے۔ پہلے جو ایک تصویر کھنچوانے سے کتراتی تھیں، آج انہی کو تصاویر میں قید کرنے کیلئے مختلف فوتو سیشن کرائے جاتے ہیں جبکہ اس فیملی اور فرینڈ اورینٹڈ
فوٹو سیشن میں لی گئیں تصویریں کہاں کہاں اور کس کس کے پاس پہنچتی ہیں آج اسکی کسی کو ذرہ برابر پرواہ نہیں۔

اور تو اور ہم جس عمر میں “اکڑ بکڑ بمبے بو” زبان پر لاد رکھتے تھے جس میں درھقیقت ایک سبق پوشیدہ تھا چوری سے کراہیت کا اسے ہی آج گانے میں ڈھال کر ذہنی سطح کو بری طرح سے کھرچنے کا خاطر کواہ سامان مہیا کردیا گیا ہے۔ کل جو سطریں یہ یوں تھیں:
“چور کی بیٹی کیسی ہے دلہن بن کے بیٹھی ہے۔
چائے گرم بسکٹ گرم کھانے والا بے شرم۔”
وہی آج یوں ہو چکی ہیں۔۔۔
“رات کے بج گئے پونے دو،
جو ہوتا ہے ہونے دو۔۔۔۔”

واعی میں آج ہم پر جنریشن کے اعتبار سے پونے دو ہی بج چکے ہیں یعنی ادھی رات کب کی ہو چکی۔ پہلے والے فائدے میں رہ گئے کہ ہم بھی انہی میں شامل ہیں جنہیں ماوں کی چھاتیوں سے چمٹنا انکی گہری محبت اور انس حاسل ہوا آنے والا وقت اس خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے کہ کل کی مائیں اپنے بچوں کیلئے شاید ہی مصروفیت میں سے وقت نکال سکیں کیونکہ وہ موبائل،تیبفلان اور دھماکہ جیسی بیسیوں دوسری مضروفیات میں الجھنی ہوا کریں گی۔ لہذا آنے والی نسل کیلئے دلی تعزیت جنہیں شاید ماں کی وہ مامتا نہ مل سکے جو پہلوں نے پا لی۔۔۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment