موبائل فون کے ساتھ نئی نسل کی وابستگی، اس کے مضر اثرات اور لازمی تباہی کے کئی واقعات و مضامین نظر سے گزرے تو اندازہ ہوا کہ آج کل نئی نسل تو ایک طرف، اس وابستگی میں “بزرگ نسل” بھی کسی سے کم نہیں، جس کی زرّیں مثال ہمارے قابلِ احترام والدین ہیں۔
ابو جی (پروفیسر گوہر صدیقی) کی اس وقت طویل شوگر کے نتیجے میں بینائی متاثر ہے، جس کی وجہ سے لکھنے پڑھنے کے کام میں بے حد وقت محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ والدین کا سایہ مکمل صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔ پہلی زوجۂ محترمہ کی وفات کے بعد ابو نے دوسری شادی کی، یوں کل ملا کر ہم بہن بھائیوں کی تعداد آٹھ بہنوں اور چار بھائیوں پر مشتمل ہے۔ تاہم اس پیرانہ سالی میں والدین کی ہمہ وقتی رفاقت کی نعمت مجھ ناچیز اور میری اکلوتی بیٹی نمرہ کے حصے میں بفضلہٖ آئی۔زندگی کے شب و روز نہایت بابرکت اور پرسکون گزر رہے تھے، جب امی اور ابو کی زندگی میں موبائل فون در آئے، جن سے میری رقابت نے، نہ چاہتے ہوئے بھی، ایک مستقل دشمنی کی صورت اختیار کر لی ہے۔ وجوہات جان کر شاید آپ کو اس فیصلے، یعنی اس دشمنی، سے اتفاق ہو۔
والد صاحب، جو کہ سابق پرنسپل، رکنِ مرکزی شوریٰ جماعتِ اسلامی، اور پنجاب کے تعلیمی میدان میں ساٹھ برس تک ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور بجا طور پر “جھنگ کے سرسید” کے لقب سے معروف ہیں، زندگی میں “سیکھنے” کے نہایت قائل ہیں۔ان کی سیکھنے کی یہ خواہش موبائل کے ہر پروگرام پر اس قدر غالب ہے کہ میں، جو ذاتی طور پر اس کے کُلی استعمال سے نابلد تھی، “سکھانے” کے عمل سے اس قدر اتر چکی ہوں کہ اپنے تئیں خود کو “طاق” تصور کرتی ہوں۔ابھی ایک موبائل سیٹ کے ساتھ شناسائی کے مراحل بمشکلِ تمام طے ہوتے ہیں کہ دوسرا حاضر! میں نے دبے لفظوں میں احتجاجاً سب کو سمجھانا چاہا کہ موبائل فون کے علاوہ تحائف کی کئی اور صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ابو کا کام ایک سادہ موبائل سے بھی چل سکتا ہے، لیکن نقار خانے میں طوطی کی ہرگز نہ سنی گئی۔ بلکہ جو صاحبزادے، پوتے، نواسے ملاقات کے لیے آ رہے ہیں، ان کے لیے لازمی ہے کہ ایک آدھ نئے پروگرام سے متعارف کروا کر جائیں۔
پچھلے عرصے میں خاندان والوں پر مشتمل واٹس ایپ گروپ “گلستانِ گوہر” کے نام سے تشکیل دیا گیا، جس کے آغاز میں ابو جی کی طرف سے سب کو سلام کیا گیا۔ جواب دینے کا سلسلہ جو شروع ہوا تو کئی دن بیت گئے، مگر سلام کے جواب آتے ہی رہے۔ ہر پیغام کو پڑھ کر، یا آڈیو ہونے کی صورت میں چلا کر، سنتے رہے۔ یہاں تک کہ خاموشی سے، بکراہت، پیغام کی ٹون کو خاموش کر دیا گیا۔
چاند رات کا قصہ ہے۔ ہم اپنی بہنوں اور بھانجیوں کے ساتھ مل کر مہندی لگانے اور لگوانے کے “غیر ادبی” شغل میں مصروف تھے کہ ابو جی ہاتھ میں فون تھامے آ گئے۔
“ذرا دیکھو، کس کے اتنے پیغامات آ رہے ہیں؟”
میں نے بتایا کہ فلاں فلاں دوست احباب آپ کو عید مبارک کے پیغام بھیج رہے ہیں۔ سن کر نہایت خوش ہوئے اور جواب ارسال کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔
عید مبارک کے تہنیتی پیغام کے لیے الفاظ کے چناؤ کا مرحلہ درپیش تھا۔ میری چھوٹی ہمشیرہ نہدیہ، جسے انگریزی سے خاص شغف ہے، نے دو سطروں پر مشتمل پیغام تجویز دیا، جسے سختی سے رد کرتے ہوئے کہنے لگے:
“کم از کم عید مبارک کا پیغام اردو میں ہونا چاہیے۔”
دقیق اردو الفاظ پر مشتمل پیغام مرتب کیا گیا، پھر رابطے کی فہرست نکال کر بھیجنے کا مرحلہ آیا۔ حروفِ تہجی کے لحاظ سے ہر دوست، اس سے دیرینہ وابستگی کی وجوہات اور موجودہ صورتحال کے مطابق انتخاب کرتے رہے، یہاں تک کہ رات کا ایک پہر گزر گیا۔ یوں چاند رات، موبائل فون کے سنگ، ایک یادگار اور خوشگوار اثرات لیے رخصت ہوئی۔ امی اور ابو، دونوں ہی بالالتزام اپنے فون ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں، اور کال وصول نہ کرنے کا حادثہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب ان کے آرام کی خاطر خاموشی سے جا کر انہیں “خاموش” یا “بند” کر دیا جائے۔ دوسروں سے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں۔
ایک مرتبہ ابو جی کے ایک قریبی عزیز بیمار پڑ گئے اور فون پر اپنی کیفیت سے آگاہ کیا۔ چند دن بعد ابو کو خیال آیا تو ان سے دوبارہ رابطہ کر کے حال احوال پوچھنے کی کوشش کی، مگر آگے سے کوئی فون کال وصول نہ کر سکا۔ اب باری باری ان کے دونوں بیٹوں کو فون ملایا، اتفاقاً وہ دونوں نمبرز بھی کال نہ لے سکے۔ اس صورتحال پر نہایت مغموم اور دل گرفتہ ہو گئے کہ:
“لیجیے، میرے عزیز دوست تو پہنچ گئے اللہ کے حضور۔ دونوں بیٹے تجہیز و تکفین میں مصروف ہونے کی وجہ سے فون وصول نہیں کر سکے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو غریقِ رحمت کرے۔”
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ “مرحوم” کی کال آ گئی اور بتایا:
“میں ابھی ابھی بیدار ہوا تو آپ کی کال دیکھی۔”
موبائل کمپنیوں کے پیغامات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا کہ انہیں بغیر پڑھے بھی صفحۂ ہستی سے مٹایا جا سکتا ہے، کوئی حرج نہیں۔ ایک روز مصمم ارادہ کر کے بولے:
“میری طرف سے ایک پیغام ان کمپنی والوں کو لکھ دو کہ میں آپ کے فالتو پیغامات پڑھنے کا پابند نہیں، آئندہ میرے نمبر پر کوئی غیر ضروری پیغام رسانی نہ کریں۔”
ایک مرتبہ ہمارے دیرینہ ڈرائیور صاحب رخصت پر چلے گئے تو نئے ڈرائیور کی تعیناتی کا مرحلہ درپیش تھا، جس کی بنیادی شرائط ڈرائیور کا باریش اور پنج وقتہ نماز کا عادی ہونا تھیں۔ گاڑی چلانے کی اہلیت البتہ اضافی خوبی تھی۔ بالآخر ایک ڈرائیور رکھ لیا گیا۔ موصوف نے تیسرے ہی دن آنے میں تاخیر کر دی تو میں نے کال ملا کر ابو کے کان سے لگا دی۔ آگے سے رنگ ٹون “تیرے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہو” متواتر بجتی رہی۔
نہایت برہمی سے بولے:
“جس بدنصیب کو صبح صبح گانے سننے سے فرصت نہیں، اسے نوکری پر بروقت پہنچنا کہاں یاد ہوگا!”
اور اسے فوراً برخاست کر دیا گیا۔
امی جی کی کیفیت ابو جی سے مختلف نہیں۔ شروع میں نہایت محبت و احترام سے ہر کمپیوٹرائزڈ کال کا جواب دینا ضروری خیال کرتیں۔ اس پر نہایت جزبز ہوتیں کہ اپنی بات سنا کر فون بند کر دیتی ہے، میری سنتی ہی نہیں۔
ایک دن سنا کہ کہہ رہی تھیں:
“وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ، بیٹے! اردو میں بات کرو۔”
ہماری ایک ہمشیرہ، جو سعودیہ میں مقیم ہیں، اس مرتبہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آئیں تو پتا چلا کہ ان کا بیٹا “زہید”، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مناسبت سے، خود کو “عمر” کہلوانا زیادہ پسند کرتا ہے۔ چنانچہ اسی نام سے اسے پکارا جانے لگا۔
ان کی روانگی کے چند دن بعد کسی اجنبی خاتون کا فون امی کے موبائل پر آیا۔ انہوں نے عمر کے بارے میں پوچھا تو امی تفصیلاً جواب دے رہی تھیں:
“عمر تو سعودیہ چلا گیا۔”
مذکورہ خاتون نہایت صدمے کے عالم میں بولیں:
“کب؟ کیسے؟”
نہایت اطمینان سے جواب دیا:
“اپنے پروگرام کے مطابق۔”
اس نے پوچھا:
“آپ کون؟”
کہنے لگیں:
“میں عمر کی نانی اماں۔”
مجھے صورتحال کا اندازہ ہوا تو مداخلت کر کے خاتون کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ اب ان کے سانس بحال ہوئے اور یہ اجنبی کال ایک اچھی دوستی میں تبدیل ہو گئی۔ امی کے ساتھ اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کہیں بھی، کسی بھی وقت، ایک “مِسڈ کال” کے ذریعے بلاوا آ سکتا ہے۔ صبح سویرے چائے اور انڈے کی طلب سے لے کر رات کی آخری چائے کی پیالی تک، دن بھر کا سارا سفر “مِسڈ کال” کے ذریعے پیغام رسانی پر مختصر ہو چکا ہے۔ ایمرجنسی صورتحال میں کیفیت یہ ہے کہ سامنے کمرے سے دیدار بھی نصیب ہے اور سلسلۂ کلام بذریعہ موبائل جاری ہے۔
چلتے چلتے چند روز قبل کا واقعہ بھی سن لیجیے۔
ایک روز صبح سویرے ابو جی نے تلاوتِ کلام لگانے کی فرمائش کی۔ ہم تلاوت لگا کر، ناشتے سے فارغ ہو کر، گھر سے ملحق اسکول روانہ ہو گئے۔ تقریباً دس بجے گھر کا چکر لگانے کا سوچا۔ ابو کے کمرے سے ہنوز تلاوت کی آواز سن کر نہایت حیرت ہوئی کہ آج اتنی طویل تلاوت؟
کمرے میں جھانک کر دیکھا تو امی اور ابو، پسینے میں شرابور، تلاوت بند کرنے کے لیے مشقِ ستم فرما رہے ہیں۔ اس لمحے ان کی بے بسی دیکھ کر نہایت پیار آیا اور دل سے یہ دعا نکلی:
“یا اللہ! میرے والدین کو موبائل فون کے استعمال کا مکمل فہم و شعور عطا فرما۔”
آپس کی بات یہ ہے کہ اب ہم جب بھی آرام کا ارادہ کریں، سب سے پہلے جا کر دونوں موبائل خاموشی سے “خاموش” کر دیتے ہیں۔



تبصرہ لکھیے