مولانا سید مناظر احسن گیلانی مرحوم ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے ان کی علمی تحقیقات کو ہر علمی طبقہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ نظام تعلیم کے مسئلہ پر ان کی ایک کتاب “بر صغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت “اپنے موضوع پر منفرد کتاب ہے جس میں انہوں نے ہند وستان کے قدیم اسلامی نظام تعلیم ،طریقہ تعلیم ، نصابی کتب اور جدید تعلیمی مسائل اور تربیت جیسے موضوعات پر محققانہ اور خوبصورت انداز سےبحث کی ہے۔
درج ذیل مضمون مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی کتاب سے ماخوذ ہے جسے کتاب کے تعلیمی حصہ کا خلاصہ بھی کہا جاسکتا ہے مضمون مولانا کے متفرق کلام کو جمع کر کے بنایا گیا ہے ۔ عبارت میں تسلسل کے لیےتغیر یسیر کیا گیا ہے ۔
قدیم ہندوستان میں اسلامی نظام تعلیم کے تین مراحل
ابتدائی تعلیم
جہاں تک میرے مطالعہ کا تعلق ہے مسلمانوں نے اس ملک میں پہنچ کرتعلیم کا جو طریقہ اختیار کیا اس میں بچوں کو حسب دستور پہلے قرآن ناظرہ پڑھا لیا جاتاتھا ۔قرآن پڑھانے والے معلموں کوعموما ًمقری کہاجاتا تھا۔اس زمانے میں معلوم ہوتا ہے کہ مقری یعنی بچوں کو قرآن پڑھانے کا کام وہی لوگ کرتے تھے جو باضابطہ فن قرائت سے واقف ہوتے تھے۔ کچھ بھی ہو تعلیم کی ایک منزل ایسی ضرور تھی جس کے ختم کرنے والے دانشمند ،یا مولوی،یا ملا ،مولانا وغیرہ الفاظ کے مستحق نہیں قرار پاتے تھے ۔ اس کے بعددوسری منزل شروع ہوتی تھی ۔ یعنی باضابطہ عربی زبان میں عربی اور اسلامی علوم کے سیکھنے کا مرحلہ پیش آتا تھا جہاں تک تلاش و تتبع سے معلوم ہوتا ہے تعلیم کا یہ حصہ بھی دو منزلوں میں منقسم تھا۔ ایک درجہ فاضل کا تھا ،جو علوم اور کتابیں اس درجہ میں پڑھائی جاتی تھیں ان ہی کا نام علم فضل تھا۔اور اس سے پہلے جو کچھ پڑھایا جاتاتھا فضل کے مقابلہ میں ہم اسے علم ضروری کا درجہ قرار دے سکتے ہیں ۔
علم ضروری اورعلم فضل
علم ضروری کے درجہ میں صرف میں میزان اور زرادی پڑھائی جاتی تھی ،صرف کے سوا نحو میں کافیہ و مفصل اور فقہ میں قدوری و مجمع البحرین یہ دونوں کتابیں دانشمندی کے ضروری درجہ کے لیے کافی سمجھی جاتی تھیں ۔بہرحال میں یہ خیال کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں دانشمندی(علم ضروری ) کے لیے علم کا جتنا حصہ ضروری خیال کیا جاتا تھا اپنے زمانہ کے حساب سے ہم اس کو شرح جامی اور شرح وقایہ تک کی تعلیم کے مساوی قرار دے سکتے ہیں ۔ بہرحال اگر میرا یہ قیاس صحیح ہے کہ فضل کے مقابلہ میں علم کا جو ضروری درجہ تھا اس میں بس یہی صرف ونحو اور فقہ کی دو کتابیں پڑھائی جاتی تھیں تو سمجھا جاسکتا ہے کہ اس درجہ تک ہمارے نصاب میں اس زمانہ کی حد تک نہ منطق کی کوئی کتاب داخل تھی اور نہ فلسفہ کی ۔ ہاں اس کے بعد فضل کا درجہ شروع ہوتا تھا۔کبھی کبھی مؤرخ ملا عبدالقادر وغیرہ اس درجہ(فضل) کی کتابوں کو کتب منتہیانہ بھی کہتے ہیں ۔
جس زمانہ میں ہندوستان کا عام تعلیمی نصاب معقولات میں صرف قطبی اور شرح صحائف تک محدود تھا،ان ہی دنوں میں عقلی علوم کے ان ماہرین کی ایک بڑی جماعت اس ملک میں درس وتدریس میں مصروف تھی جن لوگوں کو ان علوم کا شوق ہوتا تھاوہ بطور اختیاری مضامین کے عام نصاب کی تکمیل کے بعد ان علوم کو پڑھا کرتے تھے لوگوں کو معلوم نہیں ورنہ جب کتابوں میں یہ لکھا ہوا تھا کہ منطق و فلسفہ کے مشہور امام علامہ قطب الدین الرازی التحتانی کے براہ راست شاگرد (محقق دوانی)ہندوستان پہنچ کرفنون عقلیہ کی تعلیم دے رہے تھے تو اسی سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ ہندوستان میں ان علوم کے متعلق کون کون سی کتابیں نہ پڑھائی جاتی ہوں گی۔
درس نظامی میں کتب معقولات کی کثرت
واقعہ یہ ہے کہ آخر زمانہ میں ہمارا جو نصاب درس نظامی کے نام سے مشہورا ہوا ،اس میں حدیث کی ایک کتاب مشکوۃ اور تفسیر میں جلالین ،بیضاوی کی صرف ایک سورۃ بقرۃ ، شرح وقایہ اولین اور ہدایہ اخرین (جو کہ معنی ًفقہ کی ایک ہی کتاب ہوئی )شامل تھیں۔ گویا بیضاوی کی ایک سورۃ کا اگر لحاظ نہ کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ضرورت والے نصاب میں ہی نہیں بلکہ نصاب فضل میں بھی خالص دینیات کی کل تین کتابیں جلالین ،مشکوۃ ،شرح وقایہ،وہدایہ کے سوا کنز و قدوری کے مختصر فقہی متون کے بعد تقریبا چالیس بچاس کتابیں جو پڑھائی جاتی تھیں وہ خاص عقلیات کی کتابیں ہیں یا ایسی کتابیں ہیں جن کا بظاہر تعلق تو کسی دوسرے فن سے ہے لیکن درحقیقت ان کا طرز بیان اول سے آخر تک وہی معقولات کی کتابوں کا سا ہے ،انتہا یہ ہے کہ شرح ملاجامی بہ ظاہر نحو کی کتاب ہے لیکن جاننے والوں سے مخفی نہیں ہے کہ نحوی مباحث کو بھی اس میں عقلیت کا رنگ دیا گیا ہے اور جب نحو کی کتاب کا یہ حال ہے تو پھر اصول فقہ یا کلام کی جو کتابیں ہیں ان میں منطقیت اور عقلیت کی جس حد تک گنجائش پیدا ہوسکتی تھی ظاہر ہے ۔
کتب معقولات کی کثرت کی وجوہات اور تاریخ
کتب معقولات کے اضافہ کا پہلا دور
سکندر لودھی کی تخت نشینی894ھ تک تقریبا دو سو سال تک منطق و کلام کی مقدار ہمارے نصاب میں وہی قطبی و شرح صحائف کی حد تک تھی۔سکندر لودھی کی علم پروری کی وجہ سےدلی میں ارباب علم و فضل کا جو غیر معمولی مجمع اکٹھا ہوگیا تھا ،ان ہی میں دو بھائی شیخ عبداللہ اور شیخ عزیز اللہ بھی تھے دراصل یہ دونوں حضرات ملتان کے علاقے تلبن نامی کسی قصبہ کے رہنے والے تھے۔جو شاید اب کوئی غیر معروف گاؤں ہے ۔ان دونوں حضرات فن تدریس میں کمال حاصل تھا،شیخ عبداللہ کو تو سکندر نے دلی ہی میں رکھ لیا۔اور مولانا عزیزاللہ سنبھل روانہ کردیے گیے۔جو اس زمانے میں اس علاقے کا مرکزی شہر تھا،سلطان سکندر شیخ عبداللہ کے طریقہ تدریس کا گویا عاشق تھا۔۔۔۔۔چالیس سےزیادہ نحریر و متبحر علماء جس کے حلقہ درس سے اٹھے ہوں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کتنوں کو پڑھایا ہوگا۔اب سنئے ہمارے تعلیمی مؤرخین کا بالاتفاق یہ بیان ہے کہ:
“”ایں ہر دو عزیز (شیخ عبداللہ و عزیزاللہ)ہنگام خرابی ملتان در ہندوستان آمدہ علم معقول رادریں دیاردارند۔۔۔۔
جس کے یہی معنی ہوئے کہ علم معقول کی کتابوں کی زیادتی کا دور دورہ اسی زمانہ کے بعد شروع ہوا۔
کتب معقولات کے اضافہ کا دوسرا دور
معقولاتی کتابوں کے اضافہ کا یہ پہلا دورتھا۔اس کے بعد لودھیوں کی حکومت ختم ہوجاتی ہے ۔بابر مغل حکومت قائم کرتے ہیں اتنا تو ہر سکول کا بچہ جانتا ہے کہ بابر کے بعد ہندوستان کا بادشاہ ہمایوں عقلی علوم کا حد سے زیادہ دلدادہ تھا۔ہمایوں کے بعد دور اکبری شروع ہوا،مختلف دینی اور عقلی قلابازیوں سے گزرتے ہوئے اکبر کا دربارصرف فلسفہ اور حکمت کا دربار بن گیا۔ اکبر کے دربار کی ایک بااثرعلمی فلسفی ہستی میر فتح اللہ شیرازی کی تھی جو دربااکبری میں بڑے درجہ پر فائز تھے ۔ اب اس کے بعد تعلیمی مورخین کا بیان سنیے مولانا غلام علی آزاد فرماتے ہیں ۔
“تصانیف علماء متاخرین ولایت (ایران وخراسان وغیرہ)مثل محقق دوانی ومیر صدرالدین ومیر غیاث منصور ومرزاجان میر فتح اللہ شیرازی درہندوستان آورد”۔
ان ہی میر فتح اللہ شیرازی نے ان مصنفین کی کتابوں کو “درحلقہ درس انداخت” .اب خیال کیجیے کہ ملتان سے شیخ عبداللہ وعزیزاللہ معقولات کا جو ذخیرہ لائے تھےسکندری حکومت کی سرپرستی انہیں بھی حاصل تھی اور اسی لیے جس حد تک ان علوم کو انہوں نے رواج دینا چاہا اس حد تک وہ رائج بھی ہوگئے ۔لیکن ایران سے عقلیت کے جس طوفان کو میرفتح اللہ ہندوستان لائے اسے تو سلطنت کی صرف پشتیبانی ہی نہیں حاصل تھی بلکہ حکومت کے اساطین واراکین کے گھرگھرمیں ایک ایک بچہ کو میر صاحب نے یہ شیرازی شراب درے انہماک و توجہ سے پلارہے تھے۔سوچنے کی بات ہے کہ ملک کے تعلیمی ماحول پر اس کا کیا اثر ہوسکتا تھا۔یقینایہی اس کا نتیجہ ہوسکتا تھااور وہی ہوکررہا جیسا کہ مولانا آزاد نے لکھا ہے:
“ازاں عہد (از عہد فتح اللہ شیرازی)معقولات رارواجے دیگر پیدا شد”۔
اور یہ تھا ہمارے تعلیمی نصاب کا دوسرا انقلابی دور۔
کتب معقولات کے اضافہ کا تیسرا دور
میر فتح اللہ شیرازی نے درباری امراء کے بچوں میں اپنے علمی مذاق کو عام کر کے جہاں معقولات کے غلبہ کی راہ کھولی تھی وہیں ایک واقعہ اور ہے ،ملا عبدالقادر بداؤنی کے لکھا ہے کہ میر فتح اللہ اپنی طبیعت کی کرختگی کی وجہ سے کسی شاگرد رشید کے پیدا کرنے میں ناکام ہوئے مگر ان کا یہ دعوی کلیۃ درست نہیں ۔اسی زمانہ کے ایک مشہور مدرس مولانا عبدالسلام لاہوری تھے۔ملاعبدالسلام کے ممتاز استادوں میں میر فتح اللہ کے سوا کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے۔میرے نزدیک تو میر فتح اللہ کے صرف یہی ایک شاگرد دوسروں کے بیسیوں شاگردوں کے مقابلہ میں بالکل کافی ہیں ،ساٹھ ساٹھ سال تک مسلسل درس دینا کوئی آسان نہیں ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ جمع کثیر ان کے علم سے مستفید ہوا ،اب سنیے کہ اس جمع کثیر میں جس شخص نے ملا عبدالسلام کے شاگردوں میں نمایاں امتیاز حاصل کیا عجیب اتفاق ہے کہ ان کا نام بھی عبدالسلام ہی ہے ،فرق یہ ہے کہ استاد عبدالسلام لاہوری ہیں اور شاگرد عبدالسلام اودھ کے مشہور مردم خیز قصبہ دیوہ کے تھے ۔گو آخر عمر ان کی بھی لاہور میں گزری۔
تذکرہ علماء ہند کے مصنف کے مطابق درس نظامیہ کے بانی اول ملا نظام الدین (فرنگی محل)کے والد ملا قطب الدین سہالی ان کے شاگرد تھے۔جس کے معنی یہ ہوئے کہ جس نصاب کا نام نصاب نظامیہ ہے اور اسی کے متعلق معقولاتی کتابوں کی کثرت کی عام شکایت ہے اس نصاب کے بانی کا تعلیمی سلسلہ دراصل ملا فتح اللہ شیرازی پر منتہی ہوتا ہے کیونکہ ملا نظام الدین سہالوی کو اگرچہ اپنے والد سے براہ راہ شاگردی کا موقع نہ مل سکا لیکن ان کے دو شاگرد ،امان اللہ بنارسی اورقطب الدین شمس آبادی کی شاگردی میسر آئی ۔ گویا علمی شجرہ اگر بنایا جائے تو اس کی شکل یہ ہوسکتی ہے ۔
ملانظام الدین ،شاگرد ملا قطب الدین و امان اللہ بنارسی
شاگرد ملا قطب الدین سہالوی
شاگرد عبدالسلام دیوی
شاگرد عبدالسلام لاہوری
شاگرد میر فتح اللہ شیرازی
جس کا یہی مطلب ہوا کہ میرفتح اللہ کا تعلیمی اثر صرف امیر زادوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہندوستان کے عام علمی خانوادے بھی ان کی تعلیم سے متاثر ہوئے خصوصا درس نظامیہ کے نصاب کی ترتیب جس ذات گرامی کی طرف منسوب ہے چند واسطوں سے میر فتح اللہ شیرازی پر ان کی تعلیم کا سر رشتہ بھی منتہی ہوتا ہے ۔اب اس زمانہ میں اودھ کی حکومت کا نجباء وشرفاء کے ساتھ جو برتاؤ ہوا اس کو اور ہندی امیر زادوں کو میر فتح اللہ کی تعلیم نے عقلیت کا جو چسکا لگا دیا اس کو پھر خود ہندوستان کا نظامیہ نصاب جس نے مرتب کیا میر فتح اللہ سے اس کا جو تعلیمی رشتہ اور تعلق ہے اس کو اور ان ساری باتوں کو پیش نظر رکھنے کے بعد اس کا جواب باآسانی مل جاتا ہے کہ پچھلے دنوں ہمارے تعلیمی نصاب پر معقولی کتابوں کا وزن زیادہ کیوں پڑگیا ۔ معقولات کو اتنی تعدادمیں داخل نصاب کیوں گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ صورت نصاب کی جو کچھ بھی ہو گئی تھی وہ زمانہ کے انقلاب کا نتیجہ تھا جس سے ملک گزر رہا تھا قریب قریبوہی صورت اس وقت بھی پیش آگئی تھی جس طرح آج ہمارے سامنے ہے ۔
جدید تعلیم کے مسائل
آج تعلیم کو دوحصوں پر تقسیم کردیا گیا ہے ایک کا نام دینی علوم اور دوسرے کا دنیاوی علوم نام رکھا گیا ہے دونوں کی تعلیم گاہیں الگ الگ ہیں دونوں کا نصاب جدا جدا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر نصاب کے پڑھنے والے اس نصاب اور اس کے آثار ونتائج سے قطعا بےگانہ ہیں جسے انہوں نے نہیں پڑھا ہے ملک میں پڑھے لکھے طبقے کی دو مستقل جماعتیں قائم ہوگئی ہیں ،امتیاز کے لیے ایک کا نام علماء اور دوسرے کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں دونوں کا دعوی ہے کہ عام مسلمانوں کی رہنمائی کا استحقاق ان ہی کو حاصل ہے اور ہے بھی یہ بات کہ جہل کی پناہ گاہ ہمیشہ علم ہی بنا رہا ہے چونکہ دونوں کے پاس علم ہے علم نے دونوں کے دل ودماغ کو منور کیا ہے اس لیے عوام بیچارے جو علم سے تعلق نہیں رکھتے محتاج ہیں کہ جاننے والوں کے مشوروں اور آراء پر چلیں ،مسئلہ یہاں تک تو درست ہے.
لیکن سوال آگے پیدا ہوتا ہے کہ اب علم کے نمائندے بجائے ایک کے دو طبقے ہیں عوام پریشان ہیں کہ کس کے پیچھے جائیں کس کی سنیں اور کس کی نہ سنیں حالت تو یہ ہے کہ ان دونوں علمی گروہ میں سے جو بھی میدان خالی پاتا ہے ہر ایک کو بجائے ایک کام کے مستقل دو کام کرنے پڑتے ہیں یعنی عوام کو اپنے سوا علم کے دوسرے طبقہ سے منتفر کرنا ایک مستقل کام یہ ہے: اس کے بعد پھر ان کے سامنے اپنی تجویزوں کو رکھنا ، وقت کی زیادہ مقدار عموما پہلے کام میں خرچ ہو جاتی ہے ،مسٹر اور مولانا یا لیڈر اور علماء ،تعلیم یافتہ اور مولوی ،بتدریج ان دونوں الفاظ میں کشمکش بڑھتی چلی جارہی ہے ،ہر ایک دوسرے کے وجود سے بےزار ہے ،فسق ،الحاد بے دینی کا الزام علماء تعلیم یافتوں پر عائد کررہے ہیں تاریک خیالی ،ابلہی ،ناواقفیت کی تہمتیں علماء پر تعلیم یافتوں کی طرف سے جوڑی جارہی ہیں ۔
میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ کوئی خوشگوار صورت حال ہے اور اس کی مستحق ہے کہ اس کو باقی رکھاجائے ۔لوگوں نے ان بزرگوں کی کیوں قیمت نہیں پہچانی جنہوں نے تیرہ سو سال کی اس طویل مدت میں علم کی اس دو عملی اور تقسیم کو شدت سے روکے رکھا ،لوگ سوچتے نہیں ہیں ورنہ میں مسلمانوں کے چند اہم کارناموں میں ان کا یک بڑا کارنامہ تعلیمی نصاب کی وحدت کو بھی سمجھتا ہوں ۔تیرہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ان میں وہی تعلیم یافتہ بھی تھے جو علماء کہلائے جاتے ہیں اور وہی علماء بھی تھے جنہیں آج کل تعلیم یافتہ کہا جاتا ہے فلسفی بھی پیدا ہورہے تھے اور ریاضی داں بھی ،حکیم بھی مہندس بھی محدث بھی مفسر بھی طبیب بھی فقیہ بھی شاعر بھی ادیب بھی صوفی بھی لیکن یہ کیسی عجیب بات تھی کہ تعلیم کا ایک ہی نظام تھا جس سے یہ ساری مختلف پیداواریں نکل رہی تھیں ۔
تعلیمی مسائل میں اسلاف کی بیدار مغزی اور مسئلہ کا حل
خلاصہ یہ کہ جہاں تک پچیس تیس سال کے غور وفکر سے میں نصاب کے مسئلہ میں جس نتیجہ تک پہنچا ہوں وہ یہی ہے کہ تبحر واحاطہ مطالعہ و وسعت معلومات کے لیے نہیں بلکہ استاد سے پڑھنے اور درس کی حد تک چند مختصر فقہی متون کے سوا بزرگوں نے دینیات (یعنی حدیث ،تفسیر ،فقہ)کے لیے اگر ان تین کتابوں (جلالین ،مشکوۃ ،ہدایہ وشرح وقایہ)کو کافی خیال فرمایا تھا تو اس میں انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی تھی بلکہ اس ذریعہ سے انہوں نے تعلیمی نظام کی وحدت کو قائم رکھنے کی جو راہ نکالی وہ ایسی عجیب وغریب بات ہے کہ ہر زمانہ میں اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے وہ لعنت جس میں مختلف تعلیمی نظامات کے نفاذ سے کوئی قوم مبتلا ہو جاتی ہے اس سے جب چاہا جائے نجات حال کرنے والے نجات حاصل کرسکتے ہیں ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ جب تک علوم دینیہ کا اقتدار باقی تھا اس وقت تک تو دینیات کی جتنی کتابیں چاہیں ہم پڑھا سکتے تھے لیکن جب زمانہ نے رنگ بدلا ، حکومت اور سوسائٹی دونوں میں صرف ان علوم وفنون کی وقعت ہے جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ۔
ایسی حالت میں باآسانی بجائے اس علمی فتنہ کے جس کا تماشا دور حاضر میں ہم کررہے ہیں کہ تعلیم کے دو مستقل سلسلے ایک ساتھ ملک میں جاری ہیں ایک طرف جوامع و کلیات یونیورسٹیوں اور کالجوں کی تعلیم اور ان کے تعلیم یافتہ حضرات ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس ومکاتب اور ان کے پڑھے ہوئے علماء وفضلاء ہیں ہر ایک دوسرے کے علم ،دوسرے کے نقطہ نظر سے ناواقف ہے لیکن اسی کے ساتھ علم کا دعوی دونوں کو ہے ۔ عوام ان کے ہاتھوں میں فٹ بال کی گیند بنے ہوئے ہیں۔ مصیبت کا احساس سب کو ہے لیکن اس کا علاج کیا ہے کیا اسکولوں اور کالجوں کے نام نہاد دینیات کے کورس کے اضافہ سے اس مصیبت کا خاتمہ ہوجائے گا یا پھر عربی تعلیم گاہوں میں انگریزی کی چند ریڈریں یا روشن خیال مولویوں کے نزدیک جس چیز کا نام سائنس ہے۔ اس مولویانہ سائنس کی تعلیم کا دینی مدارس میں اجراء اس مرض کا علاج ہے میں اس کے متعلق وفی الشمس ما یغنیک عن زحل کے سوا اور کیا پڑھ سکتا ہوں ۔ عیاں را چہ بیان۔
دوہرے نظام تعلیم سے وحدت کی طرف
یہی بات کہ قدیم نصاب میں دینیات کے مضامین (قرآن ،حدیث ،فقہ)کو محوری اور اساسی مضمون قرار دے کر درس کے لیے ہر مضمون کی ایک ایک ٹھوس جامع ،حاوی مختصر کتاب کا انتخاب کر کے دینیات کے لیے پورے نصاب میں جیسا کہ میں نے عرض کیا صرف تین کتابوں کو کافی قرار دیا گیا ۔اور اس کے پڑھنے والوں کے لیے ایک وسیع میدان چھوڑ دیا گیا جس میں جب ضرورت تھی تو فارسی کے نظم و نثر کی بیسیوں کتابوں کی مکتبی زندگی میں اور منطق ،فلسفہ ،ریاضی ،ہندسہ ،اصول کلام ،ادب عربی ،کی تقریبا ساٹھ ستر کتابوں کی اعلی عربی تعلیم مین کافی گنجائش نکل آئی پھر جب تک موقعہ تھا ان غیر دینیاتی مضامین کی حیثیت اختیاری مضامین کی رہی اور جیسے جیسے زمانہ کا مطالبہ بڑھتا گیا ان مجامین میں سے جن کو لازم قرار دینے کی حاجت ہوئی انہیں لازم قرار دے دیا گیا اور یوں ہی مسلمانوں کے اس واحد تعلمی نظام س ے منطقی ملا ،فلسفی ملا،مہندس ملا،ادیب ملا،شاعر ملا،الغرض باوجود ملا ہونے کے جس جس چیز کی ضرورت تھی وہی بن بن کر نکلتے رہے ۔
کیا بسہولت تمام آج بھی بزرگوں کے اسی تعلیمی منہاج کو سامنے رکھ کر ہم حقیقی اور خالص دینیات کے ان اساسی مضامین کی ان ہی تین کتابوں کو باقی رکھتے ہوئے وہی فارسی جو کچھ دن پہلے ہندوستان کی حکومت کی زبان بھی تھی اور وہی معقولات جس کی مغل دربار میں قیمت ملتی تھی بجائے ان غیر دینیاتی مضامین کے عصر حاضر میں حکومت کی جو زبان ہے اور موجودہ حکومت جن علوم وفنون کے پڑھنے ولوں کا اپنی ضرورتوں کے لیے مطالبہ کر رہی ہے ہم زمانہ کا لحاظ کرتے ہوئے ٹھیک اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر اپنے نصاب میں ان جدید مضامین کو شریک کر کے بجائے فلسفی ملا کے سائنٹسٹ ملا ور بجائے منطقی ملا کے سائکو لجسٹ ملا وغیرہ ملاؤں کی مختلف قسم نہیں پیدا کرسکتے ۔
ملائیت کہیے یا دینی علوم ان کے لیے جب صدہا سال تک وہی تین کتابیں کافی سمجھی گئیں تو پھر آج بھی اسی ملائیت کے لیے ایک دینی عالم ہونے کے لیے یہی تین کتابیں کیوں کافی نہ ہوں گی ۔میں نہیں سمجھتا کہا کہ اگر اسکولوں اور کالجوں کی تعلیم کی جو مدت اس وقت مقرر ہے یعنی بی اے ہونے کے لیے کم از کم چودہ سال کی تعلیم ضروری ہے اس چودہ سال کے نصاب میں دینیات کی ان تین کتابوں (قرآن ،مشکوۃ ،ہدایہ ، ووقایہ) کی جگہ نہیں نکل سکتی ۔ سچ یہ ہے کہ بزرگوں کے اس عجیب وغریب نمونے پر جب سے مجھے تنبہ ہوا یعنی دینیات کی کل تین کتابوں کے سوا ملائیت کے نصاب کا سارا میدان غیر دینیاتی کتابوں سے بھرا ہوا جو محسوس ہوا تو حقیقت یہ ہے کہ اسی وقت سے میں اپنے اندر یقین کو پاتا ہوں کہ اسی میدان کو قدیم مطالبے والے غیر دینی علوم کو نکال کر باآسانی موجودہ مطالبوں کے مطابق والے مضامین کےلیے پوری قوت اور کافی وسعت دلی کے ساتھ ہم جگہ نکال سکتے ہیں ۔
نظام تعلیم کی دوئی ختم کرنے کے لیے ابتدائی خاکہ
خلاصہ یہ کہ ابتدائی مکتبی تعلیم کے نصاب میں اگر حسب ذیل امور کو پیش نظر رکھ لیاجائے تو اس مسئلہ سے نمٹا جاسکتا ہے:
1۔ صرف وہی چیزیں پڑہائی جائیں جو استاذوں سے پڑھے بغیر نہیں سیکھی جاسکتی
2۔ اردو میں ترقی کے لیے اردو ہی کی کتابوں کو سالہا سال تک پڑہائے چلے جانا کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کرتا بلکہ اردو میں قوت پیدا کرنے کے لیے فارسی اور فارسی میں بچوں کو قوی کرنے کے لیے عربی کا سکھانا ضروری قرار دیا جائے
3۔ عربی زبان کے صرف اسی حصہ کو مسلمانوں کے لیے ضروری سمجھا جائے جس میں ان کی دینی معلومات ہیں ۔باقی عربی کے دوسرے حصہ کو اعلی تعلیم میں بطور اختیاری مضامین کے چاہا جائے تو رکھا جا سکتا ہے ۔بلکہ اس کے اختصاسی علماء بھی اختصاصی درجوں میں اگر پیدا کیے جائیں تو وہ دوسری ضرورت ہیں لیکن ہر پڑھے لکھے مسلمان کو جس عربی کی حاجت ہے وہ صرف اسلامی ادبیات ہی والی عربی ہے۔
4۔ اس عربی کو قصہ کہانی کی کتابوں کے ذریعہ سکھانے کی وجہ خود قرآنی پاروں اور فقہی و حدیثی متون کے ذریعہ سے سکھانا زیادہ مفید اور ضروری ہے کہ یہ یک کرشمہ ودوکار ہے۔
5۔ اسلامی ادبیات والی عربی کے لیے نحوی اور صرفی قواعد کے ان طویل طویل سلسلوں کی حاجت نہیں جو کسی زمانہ میں دماغی تمرین اور ذہنی تشحیذ کے لیے پڑھائے جاتے تھے۔
ان پنجگانہ اصولوں کو پیش نظر رکھ کر اگر نصاب بنایا جائے تو میں نہیں سمجھتا کہ نو سال میں میٹرک تک کی انگریزی و حساب کے ساتھ بچوں کے اندر اس کی صلاحیت کیوں نہ پیدا ہوجائے گی کہ آئندہ کلیاتی تعلیم کے نصاب میں قران ،حدیث اور فقہ کی ان تین کتابوں کو بی اے تک کے چار سال میں دوسرے اختیاری و متناسب مضامین کے ساتھ پڑھ کر ختم کر دیں جو قدیم درس نظامی میں دینیات کی اخری کتابیں ہیں ۔ تجربہ بتائے گا کہ انگریزی ادب اور جدید علوم میں متناسب علوم کا کوئی گروپ درس نظامیہ کے ان تین دینیاتی کتابوں کے ساتھ بخوشی جمع ہوسکتے ہیں پھر جیسا کہ میں نے عرض کیا بے کے بعد ایم اے کے اختصاصی درجہ میں اپنی اپنی مناسبت کے لحاظ سے طلبہ جس فن میں خصوصیت پیدا کرنا چاہیں پیدا کرسکتے ہیں۔اس طریقہ کا سب سے اصولی اور بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ملا اور مسٹر کا سارا قصہ ہی ختم ہوجائیگا ۔ پھر ملا ہی مسٹر اور مسٹر ہی ملا ہو گا جیسا کہ پہلے بارہ ساڑھے بارہ سو سال تک مسلمانوں میں عموما ہوتا رہا۔
مختصر نصاب تعلیم سے ماہرین فن کی تیاری کا مسئلہ
رہا یہ سوال کہ اس نصاب سے ماہرین فن کیسے تیار ہوں گے تو اس جواب یہ ہے کہ کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے ۔اسی نصاب تعلیم سے ،سراج ہندی جیسے عالم ابھرے جنہوں نے امام ابن تیمیہ کو مناظرہ میں ہرایا ،اسی سے صاحب مشارق الانوار تیار ہوئے شیخ علی متقی صاحب کنزالعمال،شیخ عبدالوہاب متقی ،شیخ ابو الحسن سندھی ،شیخ حیات سندھی،شیخ طاہر پٹنی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی،شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ،مولانا رحمت اللہ کیرانوی جیسی عبقری شخصیات اسی مختصر نصاب تعلیم سے تیار ہوئیں۔لھذا تاریخ سے اس نصاب کی افادیت واضح ہے



تبصرہ لکھیے