ہوم << ویب سائٹس کے مدیران کے نام ایک خط - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ویب سائٹس کے مدیران کے نام ایک خط - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

مسلسل آتے آرٹیکلز کی بھرمار، تحاریر میں اغلاط کا طومار، ویب سائٹ کا معیار برقرار رکھنے کی جدوجہد، ٹریفک بڑھانے کی فکر، عمدہ پوسٹ کو پیک آور میں پبلش کرنے کی پابندی، ہر روز کچھ نیا کچھ منفرد کردکھانے کی خواہش، ویب پر ٹیکنیکل مسائل کا انبار اور تعلقات کی بنیاد پر پبلشنگ کا دباؤ، یہ سب اور اس جیسے کئی مسائل آپ سب کو روزانہ کی بنیاد پر ہینڈل کرنا پڑتے ہیں.
خود بھی کچھ لکھنا ہے اور دوسروں کا لکھا پڑھ اور سمجھ کر ایڈٹ بھی کرنا ہے، اسے اپ لوڈ بھی کرنا ہے.
ویب سائٹس کے مشغلے کے علاوہ حقیقی دنیا میں غم روزگار اور روزانہ بیج ڈال کر کھیتی کاٹنے کی مشقت کسی بھی انسان کو تھکا دیتی ہے. انسانی ہمت لامحدود نہیں. سردی گرمی اور اونچ نیچ ساتھ کے ساتھ چلتی رہتی ہے.
اس سب کا بوجھ لامحالہ آپ کی طبیعت کی شگفتگی اور ورک کیپیسٹی پر پڑتا ہے. کام بانٹ لیجیے. ویب سائٹ ون مین شو نہیں. یہ ایک مکمل ادارہ ہے. مختلف شعبوں کے ماہرین اپنے اپنے شعبے کو چلاتے ہیں. اس عمارت کی ہر ایک اینٹ اپنی جگہ اہم ترین اور ناگزیر ہے گویا
ہے جو ذرہ جہاں ہے آفتاب ہے
اپنے ساتھیوں کو اہمیت دیجیے، سب کو ساتھ لے کر چلیے. وقتا فوقتا کسی مخصوص شعبے کو سنبھالنے والے ٹیم ممبر کی کارکردگی کی علی االاعلان تعریف کیجیے. اس سے حوصلہ بڑھتا اور جذبے توانا رہتے ہیں. ہندومت کا ایک مقولہ ہے
”گاہک بھگوان ہوتا ہے.“
ویب سائٹس کے دو گاہک ہیں. رائٹرز اور ریڈرز.
ریڈرز آپ کے سامنے محض نمبرز کی گنتی میں موجود ہوتے ہیں، چند ایک کمنٹس میں حاضری لگوا دیتے ہیں.
رائٹرز آپ کے اسٹارز ہیں. جس طرح ہر ستارہ یکساں روشنی مہیا نہیں کرتا، اسی طرح ہر رائٹر ہر تحریر اچھی نہیں لکھ سکتا. کہنہ مشق لکھاری اپنی کمی پر خود قابو پا سکتے ہیں لیکن نئے لکھاری کو آپ سکھاتے اور بناتے ہیں یا توڑتے اور مٹاتے ہیں. جی جناب چونکیے مت.
آپ کا کسی کی تحریر کو بےکار لیبل کرنا، اسے فارغ کہنا یا ردی کی ٹوکری کی نظر کر دینا ایسے لکھاری کے قلم کے لیے زہر قاتل ہے.
نیا لکھاری اگر ویب پر چھپنے کے قابل نہیں تب بھی اس کی تحریر کو متعلقہ لکھاری کی اجازت سے اپنے پیج یا گروپ میں شیئر کیجیے. جہاں ویب کے دوسرے رائٹرز اور سب ایڈیٹرز اس لکھاری کی اصلاح کے لیے مشورے دیں. ایسا پرسنل لیول پر ان باکس میں بھی کیا جا سکتا ہے لیکن پبلک فورم پر کرنے سے ایک سے زیادہ آرا اور تجاویز آئیں گی جس سے نت نئے آئیڈیاز بھی جنم لیں گے، اس کے ساتھ ساتھ ایک نوآموز کی تحریر کی اصلاح بہت سے دوسرے نوآموز و نومولود لکھاریوں کے قلم کو چلنا سکھائے گی.
اسی طرح کہنہ مشق مصنفین کی تحاریر کو کیٹیگرائز کرنا نسبتا غیر منصفانہ سا قدم ہے جیسے آپ کسی ماں کی سگی اولاد میں فرق کر رہے ہوں. آپ اپنے اچھے مستقل رائٹرز کا انفرادی سیکشن بنا دیجیے جسے حسب میرٹ متعلقہ سیکشن میں پروموٹ کرتے رہیں.
ویب ایک برقی اخبار ہے لیکن ایک آزاد اخبار، ہائیڈ پارک کی طرح کا فورم، اس پر شائع ہونے والی تمام تحاریر الگ الگ مکتبہ فکر کو ظاہر کرتی ہیں. الگ اصناف اور الگ سوچ سے تنوع اور ان متنوع خیالات سے پیدا شدہ رنگارنگی ہی ویب کا حسن ہے، اسے مدیران کرام اپنی ذاتی چوائس سے گہنائیں مت. آپ دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں یا بائیں سے، یا درمیانے دھڑ سے. آپ سب کی تحاریر پبلش کیجیے. آپ فیمینسٹ ہیں تب بھی مرد کا زاویہ چھاپیں اور مرد شاؤنزم کے حامی ہیں تو فیمینسٹ نکتۂ نظر کو چھپنے سے مت روکیں.
زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ مخالف کمنٹس کی بھرمار ہو جائے گی. تب بھی الٹیمیٹلی ویب سائٹس کی ٹریفک ہی بڑھے گی جو بہت ضروری ہے.
ہاں ویب پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ایک باپ اپنی بیٹی کو آپ کی ویب سائٹ پڑھنے کے لیے ریکمنڈ کر سکے.
وقتا فوقتا ویب کا لائحہ عمل ریوائز کرتے رہیں اور حالات کے پیش نظر مناسب ترامیم کرتے رہیں.
اردو ویب سائٹس سب سے بڑا کام اردو کی ترویج کا کر رہی ہیں. اور انہی ویب سائٹس نے اردو کی نشاتہ ثانیہ کا پہلا باب رقم کرنا ہے. اس کا خاص خیال رکھیں.
اپنے اسٹارز کو انتظار کی ذہنی اذیت سے بچائیے کیونکہ پبلشنگ میں رکاوٹ و تاخیر ذہنی انقباض کا باعث ہوتی ہے جیسے جڑواں بچوں میں سے پہلا جب تک پیدا نہ ہو پائے تب تک دوسرے کی باری نہیں آتی. نہ وہ گھوم کر سیدھا ہوتا ہے نا ڈلیور ہو سکتا ہے. بڑی سخت کیفیت ہے یہ جناب.
پابندی کسی بھی آزاد منش، صبا طبع کے لیے حبس کا موسم ثابت ہوتی ہے جیسے کسی جنگجو کو کولہو کا بیل بنا دیا جائے، روں روں رہٹ کے گردا گرد غیر تعمیری گھمن گھمیریوں میں اس کے اندر کی شمشیر تابدار کو زنگ کھا جائے.

Comments

Click here to post a comment