بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کو محض چند درندہ صفت افراد کی انفرادی بربریت سمجھ کر دیکھنا ہی وہ بنیادی غلطی ہے جس کی وجہ سے ہم ان واقعات کے اصل اسباب تک پہنچ نہیں پاتے۔ ہماری توجہ عموماً جرم کے بعد دی جانے والی سخت سزاؤں پر مرکوز رہتی ہے، جو بلاشبہ ضروری ہیں، مگر جرم کے وقوع سے پہلے اس کی روک تھام، اس کے پسِ پردہ سماجی رویوں اور اس ماحول پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے جو ایسے جرائم کو پنپنے، پھیلنے اور رفتہ رفتہ معمول بننے کی گنجائش دیتا ہے۔
اتنی کثرت سے رونما ہونے والی بربریت کبھی خلا میں پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے پس منظر میں ایک پوری فضا، ایک بتدریج پیدا ہوتی قبولیت، ایک خاموش معاشرتی رواداری اور اب ایک وسیع ڈیجیٹل دنیا بھی کارفرما ہوتی ہے جو جرم کی قباحت کو آہستہ آہستہ ماند کر دیتی ہے۔ مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال پر مشتمل مواد، جسے درست اصطلاح میں Child Sexual Abuse Material (CSAM) کہا جاتا ہے، بعض WhatsApp groups، Telegram channels اور private chats میں باقاعدہ طلب کیا جاتا، جمع کیا جاتا اور ایک دوسرے تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ اسے “porn” کہہ دیا جاتا ہے، گویا یہ محض کسی نوع کا جنسی مواد ہو، حالانکہ یہ کسی بچے پر گزرنے والے حقیقی ظلم، خوف، بےبسی اور بےحرمتی کا محفوظ شدہ ریکارڈ ہے۔
جب کسی بچے کی چیخ، اس کی بےبسی اور اس کے جسم پر روا رکھا جانے والا ظلم ایک clip، file یا link بن کر ایک موبائل سے دوسرے موبائل تک گردش کرنے لگے، لوگ اسے تلاش کریں، مانگیں، محفوظ کریں اور دوسروں کو بھیجیں، تو معاملہ ایک مجرم کے انفرادی فعل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے ایک ایسی متوازی دنیا تشکیل پاتی ہے جہاں بچوں کا استحصال قابلِ دید، قابلِ طلب اور قابلِ تبادلہ شے بن جاتا ہے۔اسی مسلسل مشاہدے، تبادلے اور طلب کے نتیجے میں وہ چیز جو اپنی اصل میں سفاک جرم ہے، معاشرتی شعور میں نارملائز ہونے لگتی ہے۔ اور جو شخص CSAM دیکھتا، مانگتا، جمع کرتا یا آگے پہنچاتا ہے، وہ محض “porn دیکھنے والا” انسان نہیں، بلکہ ایک مجرمانہ سلسلے کا حصہ ہے جو بچوں پر ہونے والے حقیقی ظلم کو جنسی مواد کی صورت دے کر نہ صرف اس کی قباحت کم کرتا ہے بلکہ child abuse کی قبولیت، طلب اور استمرار میں بھی اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
اور یہ سب پاکستان کے نافذ قانون میں باقاعدہ جرم ہے۔ Prevention of Electronic Crimes Act 2016 (PECA) کے Section 22 کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کے sexually explicit material کو بنانا، پیش کرنا، دوسروں کے لیے دستیاب کرنا، تقسیم کرنا، منتقل کرنا، حاصل کرنا یا بلا قانونی جواز اپنے information system میں محفوظ رکھنا جرم ہے۔
2023 کی ترمیم کے بعد اس جرم کی سزا:
کم از کم چودہ سال اور زیادہ سے زیادہ بیس سال قید، اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ مقرر ہے۔ اسی ترمیم کے تحت Section 22A میں درج ذیل افعال کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے: Online grooming، solicitation اور cyber enticement، یعنی کسی بچے سے online اعتماد یا تعلق قائم کر کے اسے sexual گفتگو، تصاویر، ویڈیوز یا کسی اور نوع کے sexual exploitation کی طرف مائل کرنا، یا اس سے ایسا material طلب کرنا یا بنوانا، قابلِ سزا فعل ہے. اس جرم پر پانچ سے دس سال قید، اور پانچ لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اسی قانون کا Section 22B بچوں کے commercial sexual exploitation کو جرم قرار دیتا ہے، جبکہ Section 22C online رابطے کے ذریعے کسی بچے کو اغوا، abduct یا traffic کر کے جنسی استحصال تک پہنچانے کو الگ سنگین جرم قرار دیتا ہے۔
اس جرم کی سزا:
چودہ سے بیس سال قید، اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ ان دفعات کا سرکاری متن 2023 کی ترمیم میں موجود ہے۔ قانون شکایت کا حق بھی صرف متاثرہ بچے یا اس کے والدین تک محدود نہیں رکھتا۔ ایسا شخص بھی شکایت کنندہ بن سکتا ہے جس کے پاس معقول بنیاد ہو کہ یہ جرم ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔ اس لیے اگر کسی WhatsApp group، Telegram channel، private chat یا social-media account میں آپ کو Child Sexual Abuse Material (CSAM) ملے تو اسے آگے forward نہ کریں، curiosity میں save نہ کریں، اور دوستوں کو دکھانے کے لیے circulate نہ کریں۔ متعلقہ phone number، username، account، group، message details اور جو دوسری شناختی معلومات دستیاب ہوں، انہیں محفوظ انداز میں نوٹ کریں اور معاملہ National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) تک پہنچائیں۔ پاکستان میں اس وقت NCCIA سائبر جرائم کی inquiry، investigation اور prosecution کے لیے مجاز وفاقی ادارہ ہے۔
شکایت درج کروانے کے راستے یہ ہیں:
NCCIA online complaint form
Helpline: 1799
Pakistan Citizen Portal
یا قریبی Cybercrime Reporting Centre جا کر written application، CNIC کی copy اور دستیاب evidence کے ساتھ formal complaint جمع کروائی جا سکتی ہے۔
NCCIA کی اپنی FAQ میں یہ reporting routes اور formal investigation کے لیے درکار بنیادی معلومات درج ہیں۔
قانون موجود ہے، سزا متعین ہے، شکایت درج کرانے کا راستہ بھی موجود ہے اور متعلقہ ادارہ بھی قائم ہے، اس کے بعد خاموش رہنے کا کوئی عذر نہیں بچتا۔ سو اگر کسی شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ بچوں کی ایسی videos مانگتا، جمع کرتا یا پھیلاتا ہے تو اسے محض “porn دیکھنے والا” سمجھ کر نظر انداز نہ کیجیے۔ وہ محض ایک ناپاک ذوق کا حامل تماشائی نہیں بلکہ قانوناً قابلِ گرفت عمل میں ملوث ہے۔ ایسے لوگوں کو پہچانیے، اپنے بچوں کو ان سے محفوظ رکھیے، اور جہاں قابلِ اعتماد معلومات موجود ہوں وہاں معاملہ متعلقہ اداروں تک پہنچائیے۔ بچوں کے تحفظ کا تقاضا صرف یہ نہیں ہوتا کہ ہم جرم کے بعد مجرم کے لیے سخت سزا مانگیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ جرم کے گرد پیدا ہونے والی قبولیت، طلب اور ترسیل کے پورے سلسلے کو توڑیں۔
قانونی حوالہ
Prevention of Electronic Crimes Act 2016
Section 22
Sections 22A، 22B، 22C
ترمیم 2023
رپورٹنگ حوالہ
National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA)
Helpline: 1799
Online Complaint Portal
Pakistan Citizen Portal
Cybercrime Reporting Centres



تبصرہ لکھیے