ہوم << کرپٹو کرنسی, اسلامی قانونِ مالیات کی روشنی میں ایک تنقیدی مطالعہ – سید عارف علی شاہ
600x314

کرپٹو کرنسی, اسلامی قانونِ مالیات کی روشنی میں ایک تنقیدی مطالعہ – سید عارف علی شاہ

ڈیجیٹل والیٹ اور کرپٹو کرنسی کے درمیان بنیادی فرق
اکیسویں صدی میں مالیاتی نظام جس تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کی طرف منتقل ہوا ہے، اس نے انسان کے لین دین کے طریقوں میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کی ہے۔ نقد رقم، چیک اور روایتی بینکاری کے ساتھ ساتھ اب ڈیجیٹل ادائیگی، موبائل والیٹس، آن لائن بینکاری اور بلاک چین پر مبنی کرپٹو کرنسیاں بھی مالیاتی مباحث کا اہم موضوع بن چکی ہیں۔

بدقسمتی سے مسلم معاشروں میں ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ ڈیجیٹل والیٹ، آن لائن بینکنگ اور کرپٹو کرنسی ایک ہی چیز ہیں، حالانکہ شرعی، قانونی اور معاشی اعتبار سے ان تینوں کے درمیان بنیادی اور اصولی فرق موجود ہے۔ یہی غلط فہمی بعض اوقات ایسے شرعی نتائج تک پہنچا دیتی ہے جن کی بنیاد علمی تحقیق کے بجائے ناقص معلومات ہوتی ہے۔ اسلام ایک مکمل معاشی نظام پیش کرتا ہے جس کی بنیاد عدل، شفافیت، امانت، حقیقی تبادلۂ مال اور انسانی مصالح کے تحفظ پر قائم ہے۔ قرآن مجید نے تجارت کو حلال اور ظلم، دھوکہ، سود، جوا اور ناجائز ذرائع سے مال کھانے کو حرام قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ.”
“اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔” (سورۃ النساء، 4:29)

اسی طرح فرمایا:
“وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ.”
“اور ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ۔” (سورۃ البقرۃ، 2:188)

اسلامی قانونِ مالیات کا بنیادی مقصد صرف منافع پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسا منافع پیدا کرنا ہے جو عدل، امانت، شفافیت اور حقیقی معاشی سرگرمی سے وابستہ ہو۔ اسی لیے فقہائے اسلام نے ہر اس مالی معاملے سے اجتناب کی تلقین کی ہے جس میں غیر معمولی خطرہ (غرر)، دھوکہ (تغریر)، قمار یا لوگوں کے اموال کو باطل طریقے سے حاصل کرنے کا امکان غالب ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے تمام معاملات سے منع فرمایا جن میں غیر یقینی اور فریقین کے لیے غیر واضح نتائج ہوں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے:

“نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ.”
“رسول اللہ ﷺ نے غرر والے سودے سے منع فرمایا۔” (صحیح مسلم، کتاب البیوع، حدیث: 1513)

امام نوویؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ غرر وہ معاملہ ہے جس کا انجام غیر معلوم ہو یا جس میں غیر معمولی غیر یقینی پائی جائے، اور یہی اصول اسلامی مالیات کا ایک عظیم ضابطہ ہے۔اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے دھوکے پر مبنی تجارت کو سختی سے ناپسند فرمایا۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، ہاتھ اندر ڈالا تو نمی محسوس ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا.”
“جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔” (صحیح مسلم، حدیث: 102

اسلامی فقہ میں یہ اصول بھی مسلم ہے کہ حقیقی معیشت (Real Economy) سے کٹ کر محض قیاس آرائی اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر مبنی مالی سرگرمیوں سے احتراز کیا جائے۔ اسی لیے قرآن نے سود اور تجارت کے درمیان واضح فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا:

“وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا.”
“اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔” (سورۃ البقرۃ، 2:275)

یہ آیت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ اسلام ہر اس مالی سرگرمی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس میں حقیقی تبادلہ، ذمہ داری اور معاشی منفعت موجود ہو، جبکہ ایسی کمائی جس کی بنیاد غیر حقیقی مالی کھیل، استحصالی منافع یا غیر معمولی غیر یقینی ہو، اس پر شریعت سوال اٹھاتی ہے۔یہی وہ بنیادی اصول ہیں جن کی روشنی میں آج کرپٹو کرنسی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل والیٹ اور کرپٹو کرنسی ایک ہی چیز نہیں بلکہ ان کے درمیان وہی فرق ہے جو ایک سرکاری دستاویز اور نجی معاہدے کے درمیان ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے بینک اکاؤنٹ سے موبائل ایپ، انٹرنیٹ بینکنگ، یا کسی ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے رقم منتقل کرتا ہے تو حقیقت میں وہ کوئی نئی کرنسی استعمال نہیں کر رہا ہوتا بلکہ وہ ریاست کی جاری کردہ قانونی کرنسی ہی کو ایک الیکٹرانک ذریعے سے منتقل کر رہا ہوتا ہے۔ اس رقم کی پشت پر ریاست، مرکزی بینک، بینکاری قوانین، عدالتی نظام اور مالیاتی ضمانتیں موجود ہوتی ہیں۔

اس کے برعکس کرپٹو کرنسی کسی مرکزی اتھارٹی کی جاری کردہ قانونی کرنسی نہیں بلکہ ایک غیر مرکزی (Decentralized) ڈیجیٹل اثاثہ ہے جس کی قدر بنیادی طور پر مارکیٹ کی طلب و رسد اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر قائم رہتی ہے۔ یہی بنیادی فرق بعد کے فقہی مباحث کی بنیاد بنتا ہے۔ اسلامی فقہ میں کسی بھی مالیاتی معاملے کا جائزہ لینے کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس چیز کا تبادلہ ہو رہا ہے، آیا وہ شریعت کی نظر میں “مال” (مالِ متقوم) کی حیثیت رکھتی ہے یا نہیں۔ فقہائے احناف نے مال کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مال وہ چیز ہے جس کی لوگوں میں رغبت ہو، جسے محفوظ کیا جا سکے اور جس سے شرعاً جائز منفعت حاصل کی جا سکے۔ (ابن عابدین، رد المحتار؛ علامہ کاسانی، بدائع الصنائع)

معاصر فقہاء کے ایک طبقے کا استدلال یہ ہے کہ موجودہ صورت میں بہت سی کرپٹو کرنسیاں اس معیار پر پوری نہیں اترتیں، کیونکہ ان کی قدر کسی حقیقی اثاثے، ریاستی ضمانت یا قانونی پشت پناہی پر قائم نہیں بلکہ صرف مارکیٹ کے اعتماد پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی اعتماد ختم ہو جائے تو ایک لمحے میں اربوں ڈالر کی مالیت ختم ہو سکتی ہے، جیسا کہ گزشتہ برسوں میں متعدد کرپٹو اثاثوں کے ساتھ عملاً پیش آ چکا ہے۔ اسلامی قانونِ مالیات کا ایک عظیم اصول یہ ہے:

“الغرر يفسد العقود”
یعنی: “شدید غرر (غیر یقینی) معاملات کو فاسد کر دیتا ہے۔”
اگرچہ یہ الفاظ حدیث نہیں بلکہ فقہاء کا مستنبط قاعدہ ہیں، لیکن اس کی بنیاد صحیح مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے بیعِ غرر سے منع فرمایا۔ (صحیح مسلم، حدیث: 1513)

غرر سے مراد ہر وہ غیر معمولی غیر یقینی صورت ہے جس میں فریقین کے لیے معاملے کا حقیقی انجام واضح نہ ہو۔ موجودہ کرپٹو مارکیٹ میں بعض اوقات ایک ہی دن میں قیمت کا بیس، تیس بلکہ پچاس فیصد تک اوپر یا نیچے آ جانا اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی بنا پر بہت سے معاصر فقہاء کا کہنا ہے کہ موجودہ کرپٹو تجارت میں غرر کی مقدار عام تجارتی خطرے سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح اسلام نے قمار (جوا) کو قطعی حرام قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.”
“اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، آستانے اور فال کے تیر شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔”(سورۃ المائدہ، 5:90)

یہ بات درست ہے کہ ہر کرپٹو لین دین کو فقہی اصطلاح میں قمار قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن بہت سے علماء کی رائے میں جب کسی اثاثے کی خرید و فروخت کا اصل مقصد صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ سے فوری منافع حاصل کرنا ہو اور اس کے پیچھے کوئی حقیقی معاشی سرگرمی نہ ہو تو وہ عملی طور پر سٹے بازی (Speculation) سے بہت قریب ہو جاتا ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جس پر شدید شرعی اعتراض کیا جاتا ہے۔فقہی قاعدہ ہے:

“الضرر يزال”
“ضرر کو دور کیا جائے گا۔” (الاشباہ والنظائر، امام سیوطیؒ)

جب کوئی مالیاتی نظام وسیع پیمانے پر عوام کو غیر معمولی مالی نقصان، دھوکہ دہی یا معاشی عدم استحکام کی طرف لے جانے کا سبب بنے تو شریعت ایسے معاملات میں احتیاط کا اصول اختیار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی فقہ میں سد الذرائع یعنی “خرابی کے اسباب کا راستہ بند کرنا” بھی ایک معتبر اصول ہے، خصوصاً جب کسی معاملے میں فساد غالب ہو جائے۔ معاصر دور میں کرپٹو مارکیٹ سے وابستہ متعدد اسکیمیں، جعلی ٹوکن، پونزی اسکیمیں (Ponzi Schemes)، Rug Pulls اور سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر کے نقصانات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس شعبے میں دھوکہ دہی کا امکان غیر معمولی حد تک موجود رہا ہے۔ اگرچہ ہر کرپٹو منصوبہ فراڈ نہیں، لیکن فقہاء کا ایک بڑا طبقہ یہ استدلال کرتا ہے کہ جب کسی میدان میں فساد اور دھوکہ غالب آ جائے تو عام مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کا مشورہ دینا شریعت کے مقاصد سے زیادہ قریب ہے۔

کرپٹو کرنسی کے بارے میں معاصر فقہی آراء کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اجتہادی نوعیت کا ہے، تاہم عدمِ جواز یا شدید احتیاط کا موقف رکھنے والے علماء اور فقہی اداروں کی تعداد خاصی نمایاں ہے۔ ان کے نزدیک موجودہ کرپٹو کرنسیاں شرعی معیارِ زر (Money)، مال (Property) اور تبادلہ (Exchange) کے مطلوبہ اوصاف کو مکمل طور پر پورا نہیں کرتیں، یا کم از کم ان میں ایسے بنیادی اشکالات موجود ہیں جو ان کے ساتھ عمومی سرمایہ کاری یا خرید و فروخت کو محلِ نظر بنا دیتے ہیں۔
جیسا کہ دار الإفتاء المصرية نے متعدد فتاویٰ میں موجودہ کرپٹو کرنسیوں کے بارے میں عدمِ جواز کی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ان میں شدید غرر، غیر معمولی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ، مالی استحکام کے لیے خطرات اور غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح بعض دیگر عرب ممالک کے سرکاری افتائی اداروں نے بھی عوام کو ان میں سرمایہ کاری سے اجتناب کا مشورہ دیا ہے۔

اسی طرح متعدد اسلامی مالیاتی ماہرین نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ اسلام میں کرنسی صرف تبادلے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی استحکام، قیمتوں کے تعین اور عمومی اعتماد کا بھی ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی چیز ان مقاصد کو پورا کرنے کے بجائے خود شدید عدمِ استحکام کا شکار ہو تو اس کی شرعی حیثیت پر سوال پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ یہاں ایک اور بنیادی غلط فہمی کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ چونکہ کاغذی نوٹ (Fiat Currency) بھی سونے یا چاندی سے وابستہ نہیں رہے، اس لیے کرپٹو کرنسی بھی اسی درجے میں آتی ہے۔ یہ قیاس مکمل طور پر درست نہیں، کیونکہ موجودہ قومی کرنسیاں ریاست کی قانونی ضمانت، مرکزی بینک، عدالتی تحفظ، مالیاتی ضابطوں اور معاشی نظام کی پشت پناہی رکھتی ہیں۔ ان کے ذریعے ٹیکس ادا کیے جاتے ہیں، تنخواہیں دی جاتی ہیں، عدالتی فیصلے نافذ ہوتے ہیں اور ریاست انہیں “قانونی زر” (Legal Tender) کی حیثیت دیتی ہے۔ اس کے برعکس اکثر کرپٹو کرنسیاں ایسی ریاستی ضمانت سے محروم ہوتی ہیں۔

اسلامی شریعت کے مقاصد (مقاصد الشریعہ) میں حفظ المال یعنی لوگوں کے اموال کا تحفظ بنیادی مقصد ہے۔ امام ابو اسحاق الشاطبیؒ نے الموافقات میں بیان کیا ہے کہ شریعت کے تمام احکام انسانی دین، جان، عقل، نسل اور مال کے تحفظ کے گرد گھومتے ہیں۔ اگر کوئی مالیاتی سرگرمی عام لوگوں کے اموال کو غیر معمولی خطرات سے دوچار کر دے تو اس کا شرعی جائزہ انہی مقاصد کی روشنی میں لیا جائے گا۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے بعض فقہاء یہ کہتے ہیں کہ کرپٹو مارکیٹ میں آنے والے اکثر افراد بلاک چین ٹیکنالوجی یا اس کے معاشی ڈھانچے کو سمجھنے کے بجائے صرف تیزی سے منافع کمانے کی امید میں سرمایہ لگاتے ہیں۔ جب سرمایہ کاری علم، تجزیے اور حقیقی معاشی قدر کے بجائے افواہوں، سوشل میڈیا مہمات یا قیمت بڑھنے کی توقع پر مبنی ہو تو یہ طرزِ عمل اسلامی تجارت کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں رہتا۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment