تاریخ کی شاہراہ پر کچھ موڑ ایسے ہوتے ہیں جہاں وقت صرف گزرتا نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے منجمد ہو جاتا ہے اور وہاں سے اٹھنے والی گرد صدیوں کا سفر طے کر کے بھی آنے والی نسلوں کی آنکھوں کا پانی سکھاتی رہتی ہے۔ اگست 1953ء کا ایران بھی ایک ایسا ہی جغرافیائی اور سیاسی نقطہ تھا جہاں بظاہر ایک آئینی حکومت کی بساط الٹائی گئی، مگر بباطن ایک ابھرتی ہوئی مشرقی جمہوریت کے پورے وجود کو عالمی مصلحتوں کی سولی پر چڑھا دیا گیا۔
اگر اس نوآبادیاتی المیے کو ایک تمثیلی افسانے کے آئینے میں دیکھا جائے تو اس بساط کے مہرے محض گوشت پوست کے انسان نہیں تھے، بلکہ وہ حرص، خوف، زر پرستی اور اندھی طاقت کے مجسم استعارے تھے جو تہران کے چوراہوں پر اپنے اپنے کردار کی آزمائش کر رہے تھے۔ ایک طرف ڈاکٹر محمد مصدق کی صورت میں وہ ضمیرِ عصر کھڑا تھا جس کا ایقان تھا کہ دھرتی کے وسائل پر پہلا اور آخری حق دھرتی کے بیٹوں کا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ استعماری طاقتیں تھیں جن کے نزدیک بلیک گولڈ (تیل) محض ایک تجارتی ایندھن نہیں بلکہ عالمی بالادستی کی شہ رگ تھا۔
جیسے ہی ایرانی عوام نے اپنے وسائل پر خودمختاری کا پرچم بلند کیا، لندن کی سرد شاموں میں بنے والے خفیہ نقشے واشنگٹن کے تاریک دالانوں میں بھیجے گئے، جہاں سرد جنگ کے نو تخلیق شدہ ہؤا کو ایک نئے جواز کا روپ دے کر جمہوریت کے ماتھے پر سیکیورٹی کے نام کا کلنک لگا دیا گیا اور قانون نے طاقت کا ایسا بھیانک لباس اوڑھ لیا جس نے مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر کو کئی دہائیوں کے لیے زنجیر کر دیا۔
اس داستانِ ستم کا اگلا منظرنامہ کسی ضمیروں کی منڈی سے کم نہ تھا، جہاں نظریاتی وفاداریاں اور قومی حمیت چاندی کے چند سکوں اور اقتدار کی ہوس کے ترازو میں تولی جا رہی تھیں۔ کرمٹ روزویلٹ نے تہران کی گلیوں کو ایک ایسے تھیٹر میں بدل دیا جہاں ہر کردار کو ایک مخصوص نقاب پہنا کر اسٹیج پر اتارا گیا تھا؛ کہیں اخبارات کی زہر آلود سرخیاں عوامی ذہنوں کو مسموم کر رہی تھیں، کہیں مذہب، قومیت اور شاہ پرستی کے جذباتی نعروں سے ہجوم تیار کیے جا رہے تھے اور کہیں جھوٹی افواہوں کے غبار میں سچائی کا گلا گھونٹا جا رہا تھا۔
اس شطرنج کے کھیل میں غیر مرئی طاقتوں نے براہِ راست ٹکرانے کے بجائے صفوں کے اندر موجود کمزور مہروں، یعنی لالچی جرنیلوں، وقتی مصلحتوں کے اسیر مذہبی رہنماؤں اور مستقبل کی کرسی پر نظریں جمائے سیاست دانوں کو اپنا آلہ کار بنایا۔ اس پورے ہنگامے میں سب سے زیادہ مظلوم اور خاموش وہ عام ایرانی شہری تھا جو اپنے ہی پرچم تلے کھڑا تھا مگر اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی سڑکوں پر لکھے جانے والے سکرپٹ کی روشنائی کسی دوسرے ملک کے سفارت خانوں میں تیار ہوئی ہے، اور یوں ایک پوری قوم کی معصومیت کو عالمی شاطر خانے کی نذر کر دیا گیا۔
بالآخر وہ خونیں گھڑی بھی آ پہنچی جب تاریخ نے اپنا فیصلہ سفارتی کاغذوں کے بجائے تہران کی تپتی سڑکوں پر گولیوں کی بوچھاڑ اور بارود کے دھویں سے لکھا۔ عوامی تائید کی بیساکھیوں پر کھڑی آئینی حکومت اس منظم طوفان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی جسے نفسیاتی جنگ، بے پناہ مالی وسائل اور اندرونی انتشار کے گٹھ جوڑ نے جنم دیا تھا۔ ڈاکٹر مصدق کی گرفتاری اور ان کے وفادار ساتھی حسین فاطمی جیسے جانبازوں کی سفاکانہ قربانی محض ایک سیاسی حکومت کا خاتمہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس آفاقی سچائی کا قتل تھا کہ کمزور قومیں بین الاقوامی گدھوں کے سامنے اپنی معاشی خودمختاری کا تحفظ کر سکتی ہیں۔
شاہ کی واپسی کو اگرچہ وقتی طور پر ‘استحکام اور امن’ کا لبادہ اڑھایا گیا، مگر اس مصنوعی نظام کی بنیادیں عوامی قلوب کے بجائے بیرونی بیساکھیوں پر رکھی گئی تھیں؛ یہی وہ گہرا زخم تھا جس نے ایرانی معاشرے کے باطن میں بے اعتمادی، تلخی اور انتقام کے وہ بیج بوئے جنہوں نے پچیس سال بعد ایک ایسے لاوے کی شکل اختیار کی جس نے نہ صرف شاہی تخت کو بلکہ پورے خطے کے سیاسی توازن کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
اگر آج کے معاصر عالمی منظرنامے کی کھڑکی سے 1953ء کے اس ملبے کو کریدا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ تاریخ کا یہ باب کبھی ختم ہوا ہی نہیں، بلکہ اس کے کردار، جغرافیے اور اصطلاحات بدل بدل کر ہر دور میں خود کو دہراتے رہے ہیں۔ وسائل کی اس بے رحم جنگ میں اب صرف ٹینک اور طیارے ہی نہیں، بلکہ ڈیجیٹل بیانیے، اطلاعاتی دہشت گردی، معاشی پابندیاں اور ففتھ جنریشن وارفیئر جیسے نئے حربے میدان میں آ چکے ہیں، مگر بنیادی اصول آج بھی وہی پرانا ہے کہ بیرونی مداخلت کا جادو تبھی چلتا ہے جب اندرونی صفوں میں نفاق ہو، ادارے کمزور ہوں اور ضمیروں کا قحط مردہ دلی کو جنم دے رہا ہو۔
ایران کا یہ تاریخی المیہ کسی گزرے ہوئے وقت کا قصہ نہیں بلکہ دورِ حاضر کے تمام ترقی پذیر معاشروں کے لیے ایک ابدی اور لرزہ خیز تنبیہ ہے کہ قومی خودمختاری کی حفاظت صرف جغرافیائی سرحدوں پر پہرہ دینے سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے مستحکم اداروں، آزادانہ فیصلہ سازی، عوامی عدالت پر اعتماد اور قومی یکجہتی کی مسلسل آبیاری لازمی ہوتی ہے؛ کیونکہ سلطنتیں اپنے ہتھیاروں کے بل بوتے پر اتنی فتوحات حاصل نہیں کرتیں جتنا وہ دوسروں کی اندرونی فکری شکست اور اخلاقی کھوکھلے پن سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔



تبصرہ لکھیے