عصرِ حاضر میں ہر طرف افراتفری، انتشار، بے سکونی اور گوناگوں پریشانیاں عام نظر آتی ہیں۔ گناہوں کی کثرت اور نت نئے فتنوں کا ظہور روز کا معمول بن چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان فتنوں سے بچنے کے اسباب بھی بظاہر معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
ہمارے نبیِ مکرم، شفیعِ اعظم حضرت محمد ﷺ نے امت کی ہر اعتبار سے رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے مستقبل قریب و بعید میں پیش آنے والے مختلف فتنوں، مصائب اور مشکلات سے امت کو آگاہ فرمایا، نیز ان سے محفوظ رہنے کی ممکنہ تدابیر اور احتیاطیں بھی بیان فرمائیں۔ امت کے علماء، بالخصوص محدثینِ کرام، نے ان ارشاداتِ نبویہ کو محفوظ رکھنے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ کسی نے فتنوں سے متعلق احادیث کو مستقل کتابوں میں جمع کیا اور کسی نے انہیں حدیث کے دیگر ابواب میں ذکر کیا۔ ذیل میں ایسی دو پیش گوئیاں ملاحظہ فرمائیں جن کا مشاہدہ آج ہر شخص کر رہا ہے، بلکہ بہت سے لوگ ان کا شکار بھی ہیں۔ موجودہ دور میں ان فتنوں کا تذکرہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ مسلمان ان سے آگاہ ہو کر حتی المقدور اپنی حفاظت کی کوشش کریں۔
۱۔ عریانی اور حیاباختگی
آج بے پردگی اور عریانی کا سیلاب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے اس سے بچنا نہایت دشوار ہو گیا ہے۔ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی یہ پیش گوئی ملاحظہ فرمائیں:
“صنفان من أهل النار لم أرهما…..” (صحیح مسلم)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جہنمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے ابھی نہیں دیکھا۔ ایک وہ لوگ جن کے پاس گائے کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے، اور دوسری وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود برہنہ نما ہوں گی، خود بھی مائل ہوں گی اور دوسروں کو بھی اپنی طرف مائل کریں گی۔ ان کے سر بختی اونٹ کے جھکے ہوئے کوہان کی مانند ہوں گے۔ وہ نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو بہت دور سے محسوس کی جائے گی۔”
یہ ارشادِ نبوی آج سے چودہ صدیاں پہلے فرمایا گیا، مگر آج اس کی عملی تصویر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ایک طرف ظلم و جبر کا بازار گرم ہے تو دوسری طرف بے حیائی اور فحاشی عام ہو چکی ہے۔ بازاروں، شاہراہوں اور ذرائع ابلاغ میں بے پردگی کا جو منظر دکھائی دیتا ہے، وہ ہر صاحبِ نظر کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ اس فتنۂ عریانی و بے حیائی سے وہی لوگ محفوظ رہ سکتے ہیں جو شریعت کے احکام کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ اسی مضمون کی تائید میں ایک اور روایت ملاحظہ ہو:
“يأتي على الناس زمان يستخفي المؤمن فيهم كما يستخفي المنافق فيكم اليوم.”
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں مومن اس طرح چھپ کر زندگی گزارے گا جیسے آج تمہارے درمیان منافق چھپتا پھرتا ہے۔”
آپ ﷺ نے موجودہ معاشرتی صورتِ حال کی کتنی واضح تصویر پیش فرمائی ہے! آج دینی اقدار سے دوری، شعائرِ اسلام سے بے اعتنائی اور دین پر عمل کرنے والوں کی اجنبیت اس حدیث کی عملی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔اگر ہم صرف انہی دو پیش گوئیوں پر غور کریں اور اپنا محاسبہ کریں تو معاشرے کے بہت سے بگاڑ پر قابو پایا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں امن، سکون اور خیر و برکت کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
۲۔ ایمان کی کمزوری اور دین فروشی
اس پرفتن دور میں ایمان کی حفاظت سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ معمولی سی غفلت انسان کو اس عظیم نعمت سے محروم کر سکتی ہے۔ دین سے بے زاری کے اس ماحول میں ایمان کی قدر و قیمت وہی جان سکتا ہے جو اس کی حقیقت سے واقف ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کیفیت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا:
“بادروا بالأعمال فتناً كقطع الليل المظلم…” (صحیح مسلم)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “فتنوں کے آنے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے۔ آدمی صبح مومن ہوگا اور شام تک کافر ہو جائے گا، یا شام کو مومن ہوگا اور صبح تک کافر ہو جائے گا۔ وہ دنیا کے معمولی فائدے کے بدلے اپنا دین بیچ ڈالے گا۔”
آج ہم اس حدیث کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر رہے ہیں۔ بعض لوگ جہالت یا بے احتیاطی سے ایسے کلمات زبان سے نکال دیتے ہیں جو ایمان کے لیے خطرناک ہوتے ہیں، اور بعض دنیا کی معمولی منفعت، منصب یا دولت کے لیے اپنے دین کا سودا کر بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ دنیا کی ساری نعمتیں بھی آخرت کی ابدی کامیابی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ان فتنوں سے بچنے کا راستہ بھی بیان فرمایا۔ حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
يأتي عليكم زمان لا ينجو فيه إلا من دعا الله دعاء الغريق.”
ترجمہ: “تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں وہی شخص نجات پائے گا جس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوگا، یا جو ڈوبتے ہوئے انسان کی سی بے بسی، اخلاص اور تضرع کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا۔”
یعنی اس دورِ فتن میں اصل سہارا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے حضور عاجزانہ دعا ہے۔ جس طرح ڈوبنے والا شخص پوری سچائی، بے بسی اور اخلاص کے ساتھ مدد پکارتا ہے، اسی کیفیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ہدایت، استقامت اور حفاظت کی دعا مانگنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر ظاہر و باطن کے فتنے سے محفوظ رکھے، ایمان پر استقامت عطا فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر کامل عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔



تبصرہ لکھیے