تاریخ محض گزرے ہوئے دنوں کا قبرستان نہیں، یہ انسان کے اخلاقی فیصلوں کی زندہ کتاب بھی ہے۔ اس میں کچھ ساعتیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے بہاؤ میں بہہ نہیں جاتیں بلکہ خود زمانے کی سمت متعین کرتی ہیں۔ وہ لمحے صدیوں کی گرد سے اَٹے نہیں رہتے بلکہ نسل در نسل انسان کے باطن میں سوال بن کر اترتے ہیں کہ جب حق اور منفعت آمنے سامنے کھڑے ہوں تو آدمی کس طرف جائے؟
ایک دن ایسا بھی آیا جب اقتدار نے اپنی بقا کے لیے سر نہیں، ضمیر طلب کیا۔ تخت چاہتا تھا کہ صداقت اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، تاکہ قوت کو جواز مل جائے اور ظلم قانون کا جامہ پہن لے۔ فضا میں عقلِ مصلحت کی صدائیں بلند تھیں۔ ہر طرف یہی مشورہ تھا کہ حالات کے سامنے جھک جانا زندگی کی دانش ہے اور طاقت سے ٹکرانا خود کو مٹانے کے مترادف۔ مگر تاریخ کا سب سے روشن باب اکثر وہی لوگ رقم کرتے ہیں جو بقا سے زیادہ وقار کو عزیز رکھتے ہیں اور عمر سے زیادہ اصول کی حفاظت کو اہم جانتے ہیں۔ انسانی معاشرہ ہمیشہ ایک ایسے میلے سے مشابہ رہا ہے جہاں ہر چیز کی قیمت مقرر ہے۔
کہیں عزت کا سودا ہوتا ہے، کہیں ضمیر کی نیلامی اور کہیں حق کو خاموشی کے عوض بیچ دیا جاتا ہے۔ لوگ اپنے اندیشوں، خواہشوں اور مصلحتوں کے عوض اپنے اندر کے چراغ بجھا دیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار کوئی ایسا بھی اٹھتا ہے جو پوری دنیا کو اپنی ہتھیلی پر رکھا دیکھ کر بھی اپنے باطن کی روشنی فروخت کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اسی ایک انکار سے زمانے کے پیمانے بدل جاتے ہیں. طاقت کا غرور ہمیشہ خود کو دائمی سمجھتا ہے، لیکن تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ سلطنتوں کی عمریں مختصر اور اصولوں کی زندگیاں طویل ہوتی ہیں۔ محلات کے مینار زمین بوس ہو جاتے ہیں، فتوحات افسانہ بن جاتی ہیں اور جبر کے نشان مٹ جاتے ہیں، مگر وہ ایک آواز جو خوف کے موسم میں سچ کے ساتھ کھڑی ہوئی ہو، صدیوں تک انسانیت کے کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔
کربلا اسی ابدی حقیقت کا نام ہے۔ یہ صرف ایک معرکہ نہیں، بلکہ انسانی روح کی آزادی کا سب سے عظیم اعلان ہے۔ یہاں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کا زندہ ضمیر ہے۔ اگر یہ محفوظ رہے تو شکست بھی فتح ہے، اور اگر یہ مر جائے تو تمام فتوحات بھی بے معنی ہیں۔اسی لیے اہلِ دل نے اس واقعے کو محض ایک تاریخی سانحہ نہیں سمجھا۔ ان کے نزدیک یہ انسان کے اندر موجود اس چراغ کی حفاظت کا استعارہ ہے جو اسے ظلم، جبر اور فریب کے اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔
اس فکر میں قربانی فنا نہیں، بقا ہے؛ زخم کمزوری نہیں، عظمت ہیں؛ اور انکار بغاوت نہیں، اخلاقی خودمختاری کا اعلان ہے۔ صدیاں گزر گئیں، دنیا بدل گئی، ہتھیاروں کی صورتیں بدل گئیں، اقتدار کے چہرے بدل گئے، لیکن انسان کے امتحان کی نوعیت نہیں بدلی۔ آج بھی ضمیر سے کہا جاتا ہے کہ خاموش رہو، حالات سے سمجھوتہ کر لو، وقتی فائدے کے لیے سچ کی قیمت ادا کر دو۔ مگر تاریخ کی عدالت میں وہی لوگ سرخرو ٹھہرتے ہیں جنہوں نے اپنے باطن کی روشنی کو مصلحت کے ہاتھ فروخت نہیں ہونے دیا۔
کربلا ہمیں یہی بتاتی ہے کہ بعض اوقات دنیا کا سب سے بڑا جہاد تلوار اٹھانا نہیں بلکہ اپنے اندر کے انسان کو مرنے سے بچانا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ضمیر زندہ رہتا ہے تو ایک فرد کا انکار آنے والی نسلوں کی آزادی، عزت اور شعور کا منشور بن جاتا ہے، اور پھر ایک چراغ صدیوں کے اندھیروں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔



تبصرہ لکھیے