ہوم << تہذیب، خدمت اور سیاست کی کہانی – سلمان احمد قریشی
600x314

تہذیب، خدمت اور سیاست کی کہانی – سلمان احمد قریشی

کبھی کبھی ایک خبر محض خبر نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے، اس کی سیاست، ثقافت اور حکمرانی کے انداز کی عکاس بن جاتی ہے۔ سکھر میں جمالو ٹرین کے آغاز کا اعلان بھی ایسی ہی ایک خبر ہے جسے صرف ایک نئی ریلوے سروس کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ سندھ کے سماجی، ثقافتی اور انتظامی مزاج کی ایک علامت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ نے ڈی ایس ریلوے فرحان غنی کے ہمراہ سکھر ریلوے اسٹیشن کا دورہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یکم محرم الحرام تک جمالو ٹرین کا افتتاح کر دیا جائے گا۔ یہ پاکستان کی پہلی انٹر ڈسٹرکٹ دائروی ٹرین سروس ہوگی جو روہڑی لوکو شیڈ سے شکارپور کی آخری حدود تک سفر کرے گی۔ اس منصوبے میں سکھر ڈسٹرکٹ کونسل، ٹاؤن کمیٹیاں اور پاکستان ریلوے مشترکہ طور پر شریک ہیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ اسکول کے بچوں اور مزدوروں کے لیے اس ٹرین کا سفر مفت رکھا گیا ہے جبکہ سکھر سے روہڑی تک شہریوں کو فری الیکٹرک کوسٹر سروس بھی فراہم کی جائے گی۔

یہ منصوبہ بظاہر ایک سفری سہولت ہے لیکن حقیقت میں یہ عوامی خدمت کا ایک ایسا ماڈل ہے جو پاکستان کے دیگر شہروں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی ٹریفک، مہنگے سفری اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی کے دور میں ریلوے جیسی سستی اور پائیدار ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ایک مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔جمالو ٹرین کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا نام ہے۔ ”ہو جمالو” سندھ کی روح میں بسا ہوا وہ لوک گیت ہے جو خوشی، کامیابی اور فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سندھ میں شاید ہی کوئی ایسی تقریب ہو جہاں ”ہو جمالو” کی دھن نہ گونجے۔

سندھ کی مشہور لوک روایت ہو جمالو صرف ایک گیت نہیں بلکہ بہادری، محبت اور فتح کی داستان سمجھی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق برطانوی دور میں جب سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ پر تاریخی لینس ڈاؤن برج (Lansdowne Bridge) تعمیر ہوا تو اس پل پر پہلی بار ٹرین گزارنے سے انجینئر اور ڈرائیور خوفزدہ تھے۔ پل اپنی نوعیت کا منفرد اور بغیر ستونوں کے تعمیر کیا گیا تھا، اس لیے لوگوں کو خدشہ تھا کہ کہیں ٹرین سمیت دریا میں نہ گر جائے۔اسی دوران جمالو یا جمالو شیڈی نامی ایک قیدی، جسے سزائے موت سنائی جا چکی تھی، سامنے آیا۔

انگریز حکام نے اسے پیشکش کی کہ اگر وہ کامیابی سے ٹرین کو پل کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لے گیا تو اسے آزادی دے دی جائے گی۔ جمالو نے موت سے بے خوف ہو کر یہ چیلنج قبول کر لیا۔ جب ٹرین دھواں اڑاتی ہوئی پل پر داخل ہوئی تو لوگ سانس روکے منظر دیکھتے رہے۔ بالآخر ٹرین بحفاظت روہڑی سے سکھر اور سکھر سے روہڑی کے درمیان پل عبور کر گئی اور جمالو کامیاب قرار پایا۔لوک داستان کے مطابق جب جمالو اپنی بستی واپس پہنچا تو اس کی اہلیہ اور قریبی خواتین خوشی سے باہر نکل آئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی بیوی مسلسل گیت گا کر اسے حوصلہ دیتی رہی اور واپسی پر خوشی سے گانے لگی

ہو جمالو، واہ واہ جمالو
کھٹی آیو خیر سان ہو جمالو

یہی گیت بعد میں سندھ کی شناخت بن گیا۔ اگرچہ تاریخ دان اس داستان کی بعض تفصیلات کو لوک روایت قرار دیتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ جمالو سندھ کے عوامی شعور میں جرات، اعتماد اور کامیابی کی علامت بن چکا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جمالو ٹرین کے منصوبے نے ایک اور حقیقت کو بھی اجاگر کیا ہے اور وہ حقیقت سندھ اور پنجاب کی سیاسی تشہیر کے انداز کا فرق ہے۔اگر پنجاب کا مشاہدہ کیا جائے تو وہاں حکومتی منصوبوں کی تشہیر ایک مکمل سیاسی حکمت عملی کے تحت کی جاتی ہے۔

سڑکوں سے لے کر سرکاری دفاتر تک، کوڑا اٹھانے والی گاڑیوں سے لے کر عوامی فلاحی منصوبوں تک، جگہ جگہ وزیراعلیٰ پنجاب کی تصاویر اور حکومتی تشہیری مہم دکھائی دیتی ہے۔ بعض ناقدین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پنجاب میں حکومتی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اس کی مارکیٹنگ پر بھی غیرمعمولی توجہ دی جاتی ہے۔ سیاسی ابلاغ کے اس فن میں مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ عوام تک اپنا پیغام پہنچانے، اپنے منصوبوں کو نمایاں کرنے اور اپنی سیاسی برانڈنگ کو مضبوط بنانے میں کامیاب نظر آتی ہے۔اس کے برعکس سندھ میں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض منصوبے اپنی افادیت کے باوجود قومی سطح پر توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔ جمالو ٹرین اس کی تازہ مثال ہے۔

اگر یہی منصوبہ کسی اور صوبے میں شروع ہوتا تو شاید ہفتوں تک قومی میڈیا میں اس کا چرچا ہوتا، اشتہاری مہم چلتی، سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور خصوصی پروگرام نشر ہوتے اور اسے ایک انقلابی قدم کے طور پر پیش کیا جاتا۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی میڈیا اور تشہیری حکمت عملی طویل عرصے سے کمزور دکھائی دیتی ہے۔ مسئلہ صرف منصوبے بنانے کا نہیں بلکہ عوام تک ان کی مؤثر انداز میں رسائی بھی ضروری ہے۔ سیاسی دنیا میں بعض اوقات تاثر، حقیقت جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی مہارت کو اس جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے کہ وہ سیاسی بازار میں مٹی بھی فروخت کر لیتی ہیجبکہ پیپلز پارٹی بعض اوقات سونا بھی مؤثر انداز میں پیش نہیں کر پاتی۔یہ تنقید اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ کسی منصوبے کی اصل کامیابی اس کی تشہیر نہیں بلکہ عوام کو پہنچنے والا فائدہ ہوتا ہے۔

اگر جمالو ٹرین واقعی طلبہ، مزدوروں، ملازمین اور عام شہریوں کے لیے آسانی پیدا کرتی ہے اگر یہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی لاتی ہے اگر یہ مقامی معیشت اور سیاحت کو فروغ دیتی ہے تو اس کی اہمیت کسی اشتہاری مہم کی محتاج نہیں ہوگی۔سید کمیل حیدر شاہ کا یہ عزم بھی قابل تحسین ہے کہ جمالو ٹرین کی بوگیاں تبدیل نہیں ہونے دی جائیں گی اور اس منصوبے کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔ ان کا سکھر کو ٹورازم حب بنانے کا وژن بھی قابلِ غور ہے۔ دنیا بھر میں سیاحت صرف تاریخی عمارتوں سے نہیں بلکہ مقامی ثقافت، روایات اور منفرد تجربات سے فروغ پاتی ہے۔ جمالو ٹرین ان تمام عناصر کو ایک ساتھ جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پاکستان کو آج ایسے ہی منصوبوں کی ضرورت ہے جو عوامی خدمت، ثقافتی شناخت اور عملی سہولت کو یکجا کریں۔ ترقی صرف بڑے پلوں، بلند عمارتوں اور وسیع شاہراہوں کا نام نہیں۔ ترقی اس وقت معنی خیز بنتی ہے جب ایک طالب علم آسانی سے اپنے اسکول پہنچ سکے، ایک مزدور کم خرچ میں روزگار تک رسائی حاصل کر سکے اور ایک شہر اپنی ثقافت کو محفوظ رکھتے ہوئے جدیدیت کی طرف بڑھ سکے۔جمالو ٹرین دراصل سندھ کے اسی سفر کی علامت ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں تاریخ بھی شامل ہے، ثقافت بھی، عوامی خدمت بھی اور مستقبل کی امید بھی نظر آتی ہے۔ جب یکم محرم کو اس ٹرین کی سیٹی گونجے گی تو شاید اس کے ساتھ سندھ کی صدیوں پرانی روح بھی گنگنا رہی ہوگی،ہو جمالو… واہ واہ جمالو!

اور یہ نعرہ صرف ایک لوک گیت نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہوگا کہ عوامی خدمت اور ثقافتی شناخت جب ایک ساتھ سفر کریں تو ترقی کا راستہ مزید روشن ہو جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

سلمان احمد قریشی

سلمان احمد قریشی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، کالم نگار، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ تین دہائیوں سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ 25 برس سے "اوکاڑہ ٹاک" کے نام سے اخبار شائع کر رہے ہیں۔ نہ صرف حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے تجربے و بصیرت سے سماجی و سیاسی امور پر منفرد زاویہ پیش کرکے قارئین کو نئی فکر سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق، تجزیے اور فکر انگیز مباحث پر مبنی چار کتب شائع ہو چکی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment