نئے بلدیاتی نظام میں نو جنرل کونسلر براہ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوں گے یعنی الیکشن میں حصہ لینے والے ٹاپ نو امیدوار یوسی کی نمائندگی کریں گے، یہاں تک چلیں بات کچھ قابل قبول ہے. اور پھر وہ نو کونسلر مخصوص نشستوں پر چار کونسلر منتخب کریں گے اس طرح تعداد ہو جائے گی 13.
یعنی خاتون ، نوجوان ، اقلیتی اور لیبر کونسلرز یہ نو جنرل کونسلرز شو آف ہینڈ سے منتخب کریں گے. یہاں سے خرابی کا آغاز ہو گا کہ چاروں مخصوص کونسلرز پسند نا پسند کے کارٹل کی بناء پر منتخب ہوں گے یا پھر پیسہ کا ابتدائی ،، ناچ ،، شروع ہو گا اور پھر شروع ہو گا. اثرورسوخ اور پیسے کا دیوانہ وار رقص ۔جب کوئی بھی ،، تگڑا ،، کونسلر چیئرمین بمعہ وائس چیئرمین بن جائے گا چاہے اس نے یوسی میں سب سے کم ووٹ حاصل کیے ہوں .
اس سے بڑی خرابی اس نظام میں اور کیا ہوگی کہ جس نے پوری یوسی کو لیڈ کرنا ہے . اسے چند لوگ یوسی کی تمام عوام پہ مسلط کریں گے. بہرحال بلدیاتی الیکشن کے نام پر ایک بڑے گڑدھال کے لیے تیار رہیے جو خرابیوں کا طوفان لیے آ رہا ہے ۔



تبصرہ لکھیے