ہوم << بلوچ قبائل اور دستار بندی -عبدالغفار بگٹی
600x314

بلوچ قبائل اور دستار بندی -عبدالغفار بگٹی

بلوچستان کی قبائلی تاریخ میں ‘دستار بندی’ محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک پورے سماجی عہد اور وفاداری کا نام رہی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں ڈیرہ بگٹی میں جو مناظر سامنے آ رہے ہیں، وہ اس قدیم روایت کے بالکل منافی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بگٹی قبیلے کی ایک ذیلی شاخ ‘مسوری’ نے دیگر قبائلی عہدیداروں کے ساتھ مل کر ایک شاہانہ پروگرام میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی دستار بندی کی اور انہیں قبیلے کا چیف منتخب کرنے کا تاثر دیا۔

ابھی یہ خبر اخبارات اور ٹی وی اسکرینوں سے اوجھل نہ ہوئی تھی کہ کل ایک اور ‘چیف’ سامنے آگیا۔ اب ہر طرف ایک ہی سوال ہے کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ اور کس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ قبیلے کا چیف منتخب کرے؟
اس الجھن کی جڑیں گہری ہیں؛ میر سرفراز بگٹی کے سر پر دستار نواب اکبر خان بگٹی کے ایک پوتے نے رکھی، جبکہ کل دین محمد بگٹی کی دستار بندی بھی نواب صاحب ہی کے ایک دوسرے پوتے نے۔ یہ تضاد اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ اب ‘پھگ’ (دستار) قبیلے کی وحدت کی علامت نہیں بلکہ ایک سیاسی اوزار اور مفادات کی جنگ کا حصہ بن چکی ہے .

اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں قبائلی نظام کے ارتقاء کو دیکھنا ہوگا۔ ماضی میں یہ نظام خالصتاً ‘مشترکہ ملکیت’ اور ‘جمہوری انتخاب’ پر مبنی تھا۔ قبیلے کا سردار وہ نہیں ہوتا تھا جس کا باپ سردار ہو، بلکہ وہ ہوتا تھا جو قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہو، بہادر ہو تاکہ جنگ و جدل میں قیادت کر سکے، اور اتنا ذہین ہو کہ قبیلے کے پیچیدہ معاشی و سماجی فیصلے کر سکے۔ سردار کا کام مشترکہ زمین سے لگان (جسے مقامی زبان میں ‘پوڑی’کہا جاتا ہے) وصول کر کے اسے قبیلے کے جنگی ساز و سامان، اجتماعی دفاع اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے استعمال کرنا تھا۔ اس وقت سردار قبیلے کا خادم ہوتا تھا، حاکم نہیں۔

قبائلی نظام میں پہلی بڑی دراڑ برطانوی راج کے دوران آئی۔ جب برطانوی افسر رابرٹ سینڈیمن نے بلوچستان میں قدم رکھا، تو اس نے سرداروں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ‘مراعاتی پالیسی’ متعارف کروائی۔ انگریزوں نے سرداروں کو تنخواہیں، عدالتی اختیارات (FCR کے تحت) اور زمینیں دیں، جس سے سردار اپنی قوم کے سامنے جوابدہ ہونے کے بجائے برطانوی ریاست کا تابع ہو گیا۔ یوں سردار کی طاقت ‘عوامی’ سے ‘آمرانہ’ ہو گئی۔ اس دور میں سرداروں کو تعلیم بھی دی گئی، لیکن اس کا مقصد انہیں شعور دینا نہیں بلکہ ریاست کا وفادار مڈل مین بنانا تھا۔

ایک اور اہم تبدیلی اسلامائزیشن اور عرب ثقافت کے زیر اثر آئی۔ قدیم بلوچی قبائلی ڈھانچے میں انتخاب کی جو آزادی تھی، وہ آہستہ آہستہ عرب طرز کی ‘موروثیت’ میں بدل گئی۔ یہ رواج جڑ پکڑ گیا کہ سردار کا بڑا بیٹا ہی جانشین ہوگا، چاہے اس میں صلاحیت ہو یا نہ ہو۔ یوں یہ نظام اہلیت سے ہٹ کر خاندان کے گرد گھومنے لگا، جو اب پوتوں اور نواسوں تک پہنچ کر مکمل طور پر بکھر چکا ہے۔

تاریخی طور پر بگٹی قبیلہ پانی اور چارے کی تلاش میں نقل مکانی کرتا تھا، جس کی وجہ سے ان کی زندگی میں تحرک تھا۔ لیکن گزشتہ سو سالوں میں، خصوصاً گیس اور قدرتی وسائل کی دریافت نے اس نقل مکانی کو ختم کر دیا۔ معاشی مفادات ایک جگہ ٹھہر گئے اور قبیلہ ‘ساکن’ ہو گیا۔ اب زمینوں کی ‘مشترکہ ملکیت’ ختم ہو کر پوتوں اور نواسوں میں بٹ چکی ہے۔ جہاں پہلے مفاد اجتماعی تھا، اب وہاں انفرادی معاشی مفادات اور رائلٹی کی جنگ نے جنم لے لیا ہے۔ ذیلی شاخوں کے درمیان زمینوں کے بٹوارے پر ہونے والی خونریز لڑائیاں اسی معاشی تقسیم کا نتیجہ ہیں۔جو کہ اب بھی جاری ہیں

اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم نکتہ نوجوان نسل کا شعور ہے۔ ڈیرہ بگٹی کا آج کا نوجوان مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے، وہ پڑھا لکھا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے بدلتے ہوئے حالات سے باخبر ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ ایک طرف ‘پھگ’ کی سیاست کے ذریعے موروثی اقتدار کی جنگ لڑی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف عام قبائلی آج بھی پینے کے صاف پانی اور بنیادی صحت جیسی سہولیات سے محروم ہے۔ یہ تعلیم یافتہ طبقہ اب اس ‘مصنوعی سرداری’ اور ‘بت تراشی’ سے بیزار ہو چکا ہے۔ ان کے لیے اب وہ سردار اہم نہیں جو صرف اپنی رائلٹی /سیاست بچانے کی فکر میں ہو، بلکہ وہ قیادت اہم ہے جو انہیں ترقی اور روزگار دے سکے۔

ریاست کی مسلسل مداخلت اور 2006 میں نواب اکبر بگٹی کے قتل نے اس نظام کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔ اب ہر بااثر شخص اپنے ذاتی معاشی و سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک ‘مصنوعی شناخت’ تراش رہا ہے۔ ہر کوئی ‘سردار’ یا ‘وڈیرا’ بن کر بیٹھ گیا ہے،ساتھ میں ہر روز وڈیروں کے بچے محفل لگے ہوتے ہیں ۔ہر ذیلی شاخ کے کم از کم پانچ وڈیرے ہیں اور ان کے پانچ پانچ جوان گبرو لڑکے ہیں ۔اب کس کس کے فیصلے مانے جانیں چاہیے!
لیکن ان کے پیچھے قبیلے کی وہ تائید موجود نہیں جو کبھی اس نظام کی جان ہوا کرتی تھی۔

جب کوئی سماجی ڈھانچہ اس طرح اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے تو اسے زبردستی جوڑنے کی کوششیں صرف بحران کو طول دیتی ہیں۔ ٹوٹے ہوئے برتن کو گوند سے جوڑ کر اس میں زندگی کی رمق پیدا نہیں کی جا سکتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس موروثی نظام کے سحر سے نکل کر ایک جدید شہری شعور اور جمہوری اقدار کی طرف قدم بڑھائیں، جہاں فیصلے ‘دستار’ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ‘دستور’ اور ‘اہلیت’ کی بنیاد پر ہوں۔ اب اس بوسیدہ نظام کی مزید ضرورت نہیں رہی، اور سچی بات تو یہ ہے کہ اسے اب جڑنا بھی نہیں چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

عبدالغفار بگٹی

عبدالغفار بگٹی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، سماجی کارکن اور ادیب ہیں۔ ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق ہے۔ پروگریسیو رائٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں۔ بلوچستان کی سیاست و سماج پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment