ایک ایسے وقت میں جب خطہ نازک حالات سے گزر رہا ہے، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور امریکہ کی سفیر نٹالی بیکر کے درمیان ہونے والی ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ملاقات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ مسلسل مکالمہ اور سفارت کاری ہے، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں۔
ملاقات میں جنگ بندی، ایران–امریکہ مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور، اور سفارتی روابط کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پائیدار امن کے لیے وقتی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لیے مستقل رابطہ، اعتماد سازی اور سنجیدہ مذاکراتی عمل ناگزیر ہے۔ موجودہ حالات میں کسی بھی قسم کی پیش رفت اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق کشیدگی کے بجائے استحکام کو ترجیح دیں۔ پاکستان کا کردار اس تناظر میں نہایت اہم اور منفرد ہے۔ ایک ایسے ملک کے طور پر جس کے خطے کے ساتھ گہرے روابط ہیں، پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔
محسن نقوی کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے کا خیرمقدم اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس قسم کے اقدامات نہ صرف کشیدگی میں کمی لاتے ہیں بلکہ بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا کرتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں، جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ سفارتی عمل اکثر سست اور پیچیدہ ہوتا ہے، لیکن یہی وہ راستہ ہے جو دیرپا حل کی طرف لے جاتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ دونوں کی جانب سے یہ اتفاق کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، خطے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کی قیادت کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مسلسل کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر امن کے قیام میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کی کوششوں کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ امریکی سفیر نٹالی بیکر کی جانب سے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کے فروغ کے حوالے سے ہم آہنگی موجود ہے۔ یہ ہم آہنگی نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بناتی ہے بلکہ خطے میں امن کے امکانات کو بھی بڑھاتی ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی عارضی ہوتی ہے اور اسے پائیدار امن میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مستقبل کے مذاکرات کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ فریقین کتنی سنجیدگی سے بات چیت کو آگے بڑھاتے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک کا کردار اعتماد سازی اور رابطے کے پل کے طور پر نہایت اہم ہوگا۔ اس تمام صورتحال سے ایک بنیادی سبق سامنے آتا ہے کہ سفارت کاری کو ہر حال میں ترجیح دینی چاہیے۔ وقتی دباؤ اور عسکری اقدامات اگرچہ حالات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، مگر دیرپا امن صرف مذاکرات اور باہمی سمجھ بوجھ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ محسن نقوی اور نٹالی بیکر کی ملاقات اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مسلسل رابطہ کسی بھی بڑے بحران کو ٹالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
جبکہ ایران–امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کی امیدیں برقرار ہیں، یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ تمام متعلقہ فریق مکالمے کو ہی آگے بڑھانے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ امن کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جس کے لیے عزم، برداشت اور تعاون ضروری ہے۔ آخر میں، پاکستان کا سفارت کاری کو فروغ دینا ایک ذمہ دار اور بالغ خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ تصادم کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے کر پاکستان نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے کردار ادا کر رہا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ پائیدار امن کا راستہ صرف اور صرف مکالمے اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔



تبصرہ لکھیے