ہوم << دعا اور توبہ کا تعلق – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

دعا اور توبہ کا تعلق – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

توبہ اور دعا دونوں اعمال نہ صرف بندے کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط کرتے ہیں بلکہ اس کی روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ توبہ کا مطلب ہے رجوع کرنا یعنی برائی چھوڑ کر نیکی کی طرف راغب ہونا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کونصیحت ہو جائے.“ (سورۃ التحریم)

دعا مانگنا اللہ کے حضور عاجزی و انکساری اور بندگی کا اظہار ہے۔دعا کے ذریعے بندہ اپنے رب سے بخشش، ہدایت، رحمت اور دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ بڑا غفورالرحیم ہے وہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ میرے بندے شیطان کے بہکاوے میں آ کر گناہ کر بیٹھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں اپنے بندوں کو دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“اور اے میرے رب تو بخش دے اور رحم فرمااور تو ہی سب سے بہتر رحم فرمانیوالا ہے.(سورۃ المومنون)”

اللہ جل شانہ نے اپنے بندوں کو دعا مانگنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے۔سورۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”تم اپنے رب سے گڑ گڑا کر اور آہستہ دونوں طریقوں سے دعا مانگو بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا.“

اسی طرح اللہ تعالیٰ سورۃ المومن میں ارشادد فرماتا ہے:
”اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے“۔

رسول اللہﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
” تمہارا پروردگار باحیا اور سخی ہے، جب اس کا بندہ اس کی جانب دونوں ہاتھوں کو اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات سے حیا آتی ہے کہ انہیں خالی ہاتھ لوٹائے.” (ترمذی)

دعا عبودیت کی علامت ہے۔ اس کے وسیلے سے بندہ اللہ کی توجہ طلب کرتا اور اس سے مدد اور رحمت حاصل کرتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنی حاجت کی درخواست اور بے بسی کا اظہار کرتا ہے،غیر اللہ کی طاقت و قوت سے برأت کا اظہار کرتا ہے، چنانچہ ہمیں قرآن مجید کے آغاز میں بھی دعا ملے گی اور اختتام میں بھی۔ سورۃ فاتحہ میں بندہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کے ساتھ اس کے سامنے اپنی درخواست پیش کرتا ہے۔ اسی طرح معوذتین میں بھی وہ اللہ کی پناہ طلب کرتا ہے۔ فضیلت ِ دعا کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
” دعا سراسر عبادت ہے”. (ترمذی)

دعا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
“کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے بہتر نہیں ہے.” (ابن ماجہ)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے اور جو ان کے بعد آئیں گے وہ کہیں گے کہ:
” اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں.” (الحشر)

انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی بر گزیدہ اور معصوم ہستیاں ہونے کے باوجود اپنے رب کے حضور رحمت اور مغفرت طلب کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے انبیاء کرام کی دعاؤں کا ذکر فرمایا ہے۔ حضرت سلیمان کی دعا کا ذکر کرتے ہو ئے ارشاد فرمایا:
”تو اس(چیونٹی) کی بات سے مسکرا کر ہنسا اور عرض کی، اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیرا شکر کروں تیرے احسانات کا جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے اور یہ کہ میں وہ بھلا کام کروں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے قرب ِخاص کے سزا وار ہیں.“ (سورۃ النمل)

اسی طرح سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکرکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا۔“

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا ذکر کرتے ہو ئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
”اے میرے رب میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے بخش دے تو رب نے اسے بخش دیا بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے.“ (سورۃ القصص)

متعدد احادیث مبارکہ میں نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنے اور دعا کرنے کی تلقین فرمائی۔ حضور نبی رحمتﷺ نے دعا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے تو دعا میں اصراراور یہ نہ کہے: اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے دیدے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور کرنے ولا نہیں ہے .(بخاری)

ایک مقام پر نبی کریمﷺ نے دعا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا سے زیادہ محترم کوئی شے نہیں. (مسند احمد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ سے اس یقین کے ساتھ دعا مانگو کہ وہ دعا ؤں کو قبول فرماتاہے اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعا قبول نہیں فرماتا .(مسند احمد)

حضور نبی کریم رﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :
جب بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ یا تو اس کی دعا کو فوری قبول فرمالیتا ہے یا آخرت کے لیے اس دعا کرنے والے کے لیے جمع کر لیتا ہے اور یا پھر اس قسم کی کوئی تکلیف دور کر دیتا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی، یا رسو ل اللہﷺ، پھر تو ہم زیادہ دعا کیا کریں گے، تو نبی کریمﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ بھی زیادہ قبول فرمانے والا ہے .(مسند احمد)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ سے جو چیزیں مانگی جاتیں ہیں ان میں سے اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرنا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
دعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے. (ابو یعلی)

امام ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو شیطان رونے لگا اور شیطان نے کہا: اے میرے رب، تیری عزت وجلال کی قسم! جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں رہیں گی اور وہ زندہ رہیں گے، میں انہیں گمراہ کرتا رہوں گا، تو اللہ نے فرمایا: میری عزت وجلال کی قسم! جب تک میرے بندے مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے،میں مسلسل ان کو بخشتا رہوں گا۔ ایک حدیث مبارکہ میں جناب رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:”جو کوئی استغفار کو لازم پکڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی میں آسانی، ہر غم سے دوری (کا سامان) پیدا فرمائیں گے اور اُسے ایسی جگہ سے رزق نصیب فرمائیں گے، جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔“(سنن ابو داؤد)

دوسری حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا گیا:
”(قیامت کے روز) جو شخص اپنے نامہ اعمال میں استغفار کی کثرت پائے،اس کے لیے خوش خبری ہے۔“(سنن ابن ماجہ)

استغفار کا عمل اللہ تعالیٰ کو بے حد محبوب ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں جناب نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:
”جب بندہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ سے رب کریم اس سے زیادہ راضی (اورخوش) ہوتے ہیں، جتنا تم میں سے کوئی (اس وقت ہوتا ہے جب وہ) اپنی سواری پر جنگل و بیاباں میں جارہا ہو،اچانک وہ سواری اس سے گم ہوجائے، اس حال میں کہ اس پر اس کا کھانا پینا (بھی) رکھا ہو، وہ اس (کی واپسی) سے مایوس ہوجائے اور ایک درخت کے سائے میں آکر لیٹ جائے، ابھی وہ اس حال میں ہو کہ دفعتاً دیکھے وہ سواری اس کے پاس کھڑی ہے، بس وہ اس کی لگام تھام لے، پھر مسرت و شادمانی کے عالم میں یہ کہہ بیٹھے: ”اے اللہ! آپ میرے بندے اور میں آپ کا رب۔“ (یعنی خوشی کے باعث غلط جملہ کہہ دے۔ (صحیح مسلم)

رسول اللہ ﷺنے اپنے مبارک عمل سے بھی اُمت کو استغفار کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:
”اے لوگو! اللہ کے سامنے توبہ کرو، بے شک میں بھی دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں.“(صحیح مسلم)

بعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہم توبہ کے باوجود گناہوں سے باز نہیں آرہے تو پھر ایسی توبہ اور ایسے استغفار کا کیا فائدہ؟ حالانکہ حدیث مبارکہ میں جناب رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:
”جو شخص استغفار کرتا رہے، اُسے (گناہ پر) اصرار کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا، اگرچہ دن میں ستر مرتبہ وہ اس گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کرے۔“ (سنن ابو داؤد)

تو بہ اور دعا اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے تو بہ کے بغیر دعا ادھوری ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ بندے کے گناہوں کی وجہ سے اس کی دعا قبول نہ ہو رہی ہو اس لیے دعا کی قبولیت کے لیے باطن کو بھی گناہوں سے پاک کرنا ہو گا۔اللہ ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین

مصنف کے بارے میں

دینیات

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment