ہوم << صحافت بدل گئی، مگر ہمارے شعبہ جات نہیں بدلے – اے وسیم خٹک
600x314

صحافت بدل گئی، مگر ہمارے شعبہ جات نہیں بدلے – اے وسیم خٹک

اب جب میں صحافت کے استاد کے عمل کو خدا حافظ کہنے کے قریب پہنچ چکا ہوں تو پیچھے مڑ کر دیکھوں تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ پانچ سال مین اسٹریم میڈیا میں گزارنے کے بعد جب اکیڈیمیا کا رخ کیا تو خیال تھا کہ یہاں سکون ہوگا، استحکام ہوگا، عزت ہوگی، اور سب سے بڑھ کر ذہنی آزادی ہوگی۔

یہ سمجھا تھا کہ یہاں نہ وہ ڈیڈ لائن کا دباؤ ہوگا، نہ نوکری کے ختم ہونے کا مستقل خوف، نہ در بدر کی ٹھوکریں۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ میڈیا میں غیر یقینی تھی، مگر یونیورسٹی میں ایک اور قسم کی غیر یقینی نے گھیر لی، خاموش، مگر زیادہ خطرناک۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں مستقل مزاجی نہیں، سچ بولنے کی قیمت ہے، اور میرٹ اکثر کسی اور چیز کے آگے ہار جاتا ہے۔ کئی جگہوں پر ایسا محسوس ہوا کہ تعلیمی ادارے علم کے مراکز کم اور ذاتی مفادات کے اکھاڑے زیادہ بن چکے ہیں۔ یہ سب کچھ اس کے باوجود کہ میں نے اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کیا۔ صحافت کے کورسز ڈیزائن کیے، نئے شعبہ جات کے قیام میں کردار ادا کیا، اور ان یونیورسٹیوں میں بنیاد رکھی جہاں بعد میں جرنلزم شروع ہوا۔ مگر اس کے باوجود سلیکشن بورڈز میں بار بار وہی مقام، ون ٹو ون تک پہنچ کر رک جانا، یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ مسئلہ قابلیت کا نہیں، نظام کا ہے۔

یہ بات کسی ایک یونیورسٹی تک محدود نہیں۔ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کی جامعات ایک بڑے بحران کا شکار ہیں۔ سیاسی مداخلت، غیر پیشہ ورانہ فیصلے، غیر متعلقہ بھرتیاں، اور تحقیق سے دوری—یہ سب مل کر تعلیمی اداروں کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ یونیورسٹیاں علم کے مراکز کے بجائے ڈگریوں کی فیکٹریاں بنتی جا رہی ہیں۔
اور اگر ہم خاص طور پر شعبہ صحافت کی بات کریں تو صورت حال اور بھی سنگین ہے۔ سچ یہ ہے کہ یہ شعبہ زوال کے اس مقام پر کھڑا ہے جہاں اسے سہارا دینے والے کندھوں کی بھی کمی پڑ گئی ہے۔ چند ایک یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر باقی جگہوں پر یہ شعبہ محض رسمی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد ڈیجیٹل میڈیا سے نابلد ہے، جبکہ دنیا اس سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔

آج کا دور صرف “پانچ ڈبلیو اور ایک ایچ” کا نہیں رہا۔ مصنوعی ذہانت نہ صرف خبریں لکھ رہی ہے بلکہ تجزیے، فیچرز اور کتابیں تک تیار کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر تخلیقی صلاحیت، تحقیق اور جدت کو فروغ نہ دیا جائے تو صحافت محض نقل کرنے کا عمل بن کر رہ جائے گی۔ دوسری طرف ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر لاکھوں فالوورز کے ساتھ مہینے کے لاکھوں روپے کما رہا ہے، تو وہ روایتی میڈیا کی کم تنخواہ اور غیر یقینی حالات کو کیوں قبول کرے گا؟ یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی صحافت ختم ہو رہی ہے؟ نہیں صحافت ختم نہیں ہو رہی، اس کی شکل بدل رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ادارے اس تبدیلی کو سمجھنے سے انکار کر رہے ہیں۔

یونیورسٹیوں کو یہ بات ماننی ہوگی کہ ان کا کام صرف رپورٹرز، اینکرز یا پروفیسرز پیدا کرنا نہیں رہا۔ جرنلزم کو ماس کمیونیکیشن کے وسیع تناظر میں دیکھنا ہوگا، جہاں طالب علم کو صرف خبر لکھنا نہیں بلکہ معاشرے کو سمجھنا، ڈیٹا کو پڑھنا، ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا اور اپنی جگہ خود بنانا سکھایا جائے۔ نصاب کو مکمل طور پر جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ڈیجیٹل جرنلزم، ڈیٹا جرنلزم، موبائل جرنلزم، سوشل میڈیا مینجمنٹ، فیکٹ چیکنگ، کلائمیٹ جرنلزم، اکنامک رپورٹنگ، میڈیا انٹرپرینیورشپ اور مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو شامل کیے بغیر یہ شعبہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ طلبہ کو صرف نظریاتی علم نہیں بلکہ عملی مہارتیں دینا ہوں گی تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکیں۔

ساتھ ہی اساتذہ کی تربیت ناگزیر ہے۔ اگر استاد خود ڈیجیٹل دنیا سے ناواقف ہوگا تو وہ طالب علم کو کیا سکھائے گا؟ ری ٹریننگ، انڈسٹری ایکسپوژر اور مسلسل سیکھنے کا عمل اساتذہ کے لیے لازمی ہونا چاہیے۔ میڈیا آرگنائزیشنز کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ صرف سرکاری اشتہارات پر انحصار، کم تنخواہیں، اور غیر پیشہ ورانہ ماحول اس شعبے کو تباہ کر رہا ہے۔ نئے بزنس ماڈلز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سبسکرپشن بیسڈ جرنلزم، اور تحقیق پر مبنی رپورٹنگ کو فروغ دینا ہوگا۔ صحافیوں کے لیے بھی وقت ہے کہ وہ جنرل رپورٹنگ سے نکل کر اسپیشلائزیشن کی طرف آئیں۔ چاہے وہ معیشت ہو، ماحولیات، صحت، ٹیکنالوجی یا سیاست، ہر شعبے میں گہرائی کے بغیر اب جگہ نہیں بنے گی۔

آخر میں بات بہت سادہ ہے مگر کڑوی:
اگر یونیورسٹیاں، میڈیا ادارے اور خود صحافی اپنی سمت درست نہیں کرتے تو شعبہ صحافت اپنی موجودہ شکل میں باقی نہیں رہے گا۔ عمارتیں، ڈگریاں اور عہدے تو رہ جائیں گے، مگر صحافت بطور ایک زندہ، بااثر اور بامعنی پیشہ ختم ہو جائے گی۔ اور اگر اسے بچانا ہے تو روایتی سوچ سے نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا، ورنہ تاریخ صرف یہ لکھے گی کہ ہم نے تبدیلی کو آتے دیکھا، مگر اسے اپنانے کی ہمت نہیں کی.