ہوم << ہنگور آبدوز منصوبہ پاک بحریہ دفاعی صلاحیت میں ایک اہم پیش رفت – مسرور احمد
600x314

ہنگور آبدوز منصوبہ پاک بحریہ دفاعی صلاحیت میں ایک اہم پیش رفت – مسرور احمد

پاک بحریہ کی تاریخ میں آبدوزوں کا کردار ہمیشہ نہایت اہم رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد جب بحری دفاع کو مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو امریکہ سے ٹینچ کلاس آبدوزوں کے حصول کے ساتھ اس شعبے کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بعد پاکستان نیوی نے مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے فرانس سے ڈیفنی اور اگوسٹا آبدوزیں حاصل کیں۔

ان جدید پلیٹ فارمز کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے کراچی میں پاکستان نیوی ڈاک یارڈ کا قیام عمل میں لایا گیا، جس نے وقت کے ساتھ ساتھ بڑے اور چھوٹے ریفٹ کا کام خود انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ چالیس سال سے زائد تجربے، آپریشنز، مرمت اور تعمیراتی مہارت کے بعد پاکستان نیوی نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ملک کے اندر آبدوزوں کی تیاری کا فیصلہ کیا۔ اگوسٹا آبدوزوں کے معاہدے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی (Transfer of Technology) کو بنیادی اہمیت دی گئی، جس کے نتیجے میں تین میں سے دو آبدوزیں پاکستان میں تیار کی گئیں۔ یہ تجربہ مستقبل کے منصوبوں کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔

اسی تسلسل میں پاکستان اور چین کے درمیان ہنگور کلاس آبدوزوں کی تیاری کا معاہدہ طے پایا، جس کے تحت آٹھ جدید آبدوزیں تیار کی جا رہی ہیں۔ یہ معاہدہ اپریل 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے تاریخی دورۂ پاکستان کے دوران طے پایا۔ اس منصوبے کے تحت چار آبدوزیں چین کے شہر ووہان میں تعمیر ہو رہی ہیں جبکہ چار آبدوزیں کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں تیار کی جا رہی ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کی بحری تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے بلکہ پاک چین دفاعی تعاون کی مضبوطی کا بھی عکاس ہے۔

ہنگور آبدوزوں کی تعمیر چین اور پاکستان میں بیک وقت جاری ہے اور یہ منصوبہ تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔ پہلی آبدوز کی جلد شمولیت متوقع ہے، جبکہ دیگر آبدوزیں مختلف مراحل جیسے سسٹمز انٹیگریشن، ہاربر ٹرائلز اور سمندری آزمائشوں (trials) سے گزر رہی ہیں۔ کراچی شپ یارڈ میں تیار ہونے والی آبدوزیں بھی کامیابی سے اپنی تکمیل کی جانب بڑھ رہی ہیں، جو پاکستان کی صنعتی خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اس منصوبے کی سب سے نمایاں خصوصیت ٹیکنالوجی کی مکمل منتقلی ہے، جس کے تحت پاکستان کو نہ صرف آبدوزوں کی ڈیزائننگ بلکہ ان کی تیاری، پروپلشن سسٹمز، ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP)، ہتھیاروں کے انضمام، کوالٹی کنٹرول اور انجینئرز کی تربیت میں مہارت حاصل ہو رہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد پاکستان میں آبدوز سازی کی مستقل اور خود کفالت پر مبنی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ہنگور کلاس آبدوزیں جدید چینی ٹائپ 039B (یوان کلاس) ڈیزائن پر مبنی ہیں، جنہیں پاکستان نیوی کی ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ ان آبدوزوں کی ساخت نہایت جدید ہے، جس میں ہائیڈروڈائنامک ڈیزائن، آواز جذب کرنے والی کوٹنگز، اور جدید صوتی نظام شامل ہیں، جو انہیں دشمن کی نظر سے پوشیدہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہی خصوصیات انہیں سمندر کے پیچیدہ ماحول میں زیادہ موثر اور محفوظ بناتی ہیں۔ ان آبدوزوں میں جدید سینسرز نصب کیے گئے ہیں جو سطحِ آب اور زیرِ آب نگرانی کی غیر معمولی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ ریڈار، الیکٹرانک سپورٹ میژرز (ESM)، اوپٹرونک اسکوپس اور جدید سونار سسٹمز کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ ان میں ہل ماؤنٹڈ، فلینک اور ٹوڈ ایرے سونارز شامل ہیں، جو دور دراز تک اہداف کی شناخت اور ٹریکنگ ممکن بناتے ہیں۔

ہنگور سلسلہ کی آبدوزیں ملٹی رول جنگی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ ہیوی ویٹ ٹارپیڈوز، اینٹی شپ کروز میزائلز اور دیگر جدید ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی مدد سے سطحی، زیرِ سطح اور زمینی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اینٹی ٹارپیڈو ڈیکوائز جیسے دفاعی نظام بھی نصب ہیں، جو دشمن کے حملوں سے بچاؤ کو یقینی بناتے ہیں۔ ان آبدوزوں میں جدید مواصلاتی نظام بھی شامل ہے، جو زیرِ آب رہتے ہوئے بھی ساحلی کمانڈرز سے رابطہ ممکن بناتا ہے۔ یہ انکرپٹڈ ڈیٹا لنکس کے ذریعے نیٹ ورک سینٹرک آپریشنز کی سہولت فراہم کرتی ہیں، جس سے مشترکہ کارروائیوں میں اہداف کا حصول مؤثر ہوتا ہے۔

ہنگور کی سب سے اہم خصوصیت ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) سسٹم ہے، جو آبدوز کو طویل عرصے تک بغیر سطح پر آئے پانی کے اندر رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ خصوصیت دشمن کی نظر سے بچنے اور خفیہ مشنز کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ خاص طور پر ساحلی علاقوں میں یہ ٹیکنالوجی فیصلہ کن برتری فراہم کرتی ہے. علاقائی سطح پر بھی اس منصوبے کے اہم اثرات مرتب ہوں گے۔ بحرِ ہند میں بڑھتی ہوئی بحری مسابقت(marine competency) کے تناظر میں پاکستان کی زیرِ آب صلاحیتوں میں اضافہ ایک اسٹریٹجک برتری فراہم کرے گا۔ ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت سے دشمن کے لیے اینٹی سب میرین وارفیئر مزید پیچیدہ ہو جائے گی، جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور ڈیٹرنس میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان نیوی کی جدید کاری (innovation) کا مظہر ہے بلکہ پاک چین دوستی اور دفاعی شراکت داری کی ایک مضبوط مثال بھی ہے۔ ہنگور کلاس آبدوزیں پاکستان کو ایک مضبوط، خود کفیل اور جدید بحری طاقت بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں، جو آنے والے برسوں میں ملکی دفاع کو مزید مستحکم کریں گی۔

مصنف کے بارے میں

مسرور احمد

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment