ہوم << سفارت کاری اور تیل، غیر یقینی کی معیشت – محمد محسن خان
600x314

سفارت کاری اور تیل، غیر یقینی کی معیشت – محمد محسن خان

عالمی معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھا جائے تو حالیہ دنوں میں ایک ایسا پیچیدہ منظرنامہ ابھرتا دکھائی دیتا ہے جہاں امید اور اضطراب ایک ساتھ سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔

بدھ کے روز مالیاتی منڈیوں میں جو محتاط تیزی دیکھی گئی، وہ محض اعداد و شمار کی جنبش نہیں تھی بلکہ اس کے پس پردہ سفارتی امکانات، جغرافیائی سیاسی خطرات اور توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی کی ایک تہہ دار کہانی کارفرما تھی۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تصدیق نے سرمایہ کاروں کے ذہن میں ایک نئی امید کو جنم دیا، مگر یہ امید ابھی مکمل اعتماد میں تبدیل نہیں ہو سکی۔

توانائی کی عالمی منڈی، جو ہمیشہ سے جغرافیائی سیاست کی سب سے حساس عکاس رہی ہے، اس بار بھی مرکزِ نگاہ بنی رہی۔ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ فی الحال سفارتی پیش رفت سے زیادہ خطرات کو وزن دے رہی ہے۔ وی ٹی آئی اور برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں اضافہ محض طلب و رسد کے معمول کے توازن کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں وہ “جیوپولیٹیکل پریمیم” شامل ہے جو کسی بھی وقت خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشے کے باعث قیمتوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ بالخصوص آبنائے ہرمز کے گرد ممکنہ رکاوٹوں کا تصور عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک مستقل خطرہ بنا ہوا ہے، کیونکہ دنیا کے ایک بڑے حصے کی تیل ترسیل اسی گزرگاہ سے وابستہ ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سفارتی اشاروں کے باوجود تیل کی قیمتیں نیچے آنے کے بجائے بلند سطح پر برقرار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار کسی حتمی حل کے بجائے ممکنہ بدترین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریفائنڈ فیول مارکیٹس میں بھی تیزی دیکھی گئی، جہاں پٹرول اور ہیٹنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ اس امر کی علامت ہے کہ مہنگائی کے بادل ابھی چھٹنے والے نہیں۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جو صنعتی سرگرمیوں اور گھریلو استعمال دونوں پر اثرانداز ہو کر عالمی افراطِ زر کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

دوسری جانب، اوپیک کی قیمتوں میں کمی ایک متضاد اشارہ فراہم کرتی ہے۔ OPEC کے ریفرنس باسکٹ میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تنظیم کے اندر قیمتوں کا تعین عالمی بینچ مارکس سے کسی حد تک مختلف سمت میں جا رہا ہے۔ یہ فرق اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی توانائی مارکیٹ اب یکساں رجحانات کی حامل نہیں رہی بلکہ مختلف خطوں اور معاہدوں کے تحت الگ الگ حرکیات رکھتی ہے۔

اگر عالمی اسٹاک مارکیٹس کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی ایک محتاط استحکام دیکھنے کو ملتا ہے۔ S&P 500 اور Nasdaq Composite کے فیوچرز میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار مکمل مایوسی کا شکار نہیں بلکہ وہ ممکنہ بہتری کے لیے خود کو تیار رکھے ہوئے ہیں۔ کارپوریٹ آمدنی کے بہتر امکانات اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی نے اس رجحان کو سہارا دیا ہے، تاہم یہ بہتری ابھی ناپائیدار ہے کیونکہ اس کی بنیاد ایسے عوامل پر ہے جو کسی بھی لمحے تبدیل ہو سکتے ہیں۔

یورپی معیشت اس تمام صورتحال میں نسبتاً کمزور دکھائی دیتی ہے۔ فرانس اور برطانیہ میں اسٹاک مارکیٹس کا دباؤ میں رہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ وہاں کے معاشی ڈھانچے پر زیادہ اثر انداز ہو رہا ہے۔ برطانیہ میں مہنگائی کا 3.3 فیصد تک پہنچ جانا ایک تشویشناک علامت ہے، کیونکہ یہ نہ صرف صارفین کی قوتِ خرید کو متاثر کرتا ہے بلکہ مرکزی بینکوں کے لیے مانیٹری پالیسی کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سود کی شرحوں میں ممکنہ اضافہ معاشی سرگرمیوں کو سست کر سکتا ہے، جس سے ایک نازک توازن پیدا ہو جاتا ہے۔

ایشیا کی مارکیٹس بھی اس عالمی غیر یقینی سے محفوظ نہیں رہیں۔ MSCI ایشیا پیسیفک انڈیکس میں کمی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سرمایہ کار ابھی مکمل اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری نے ایک محدود مگر اہم سہارا فراہم کیا ہے۔ چین اور جاپان میں AI سے متعلق کمپنیوں کی کارکردگی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اب بھی عالمی معیشت کے لیے ایک روشن پہلو ہے، جو دیگر شعبوں کی کمزوری کو کسی حد تک متوازن کر سکتا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال نسبتاً حوصلہ افزا دکھائی دیتی ہے، اگرچہ یہ بہتری بھی مکمل طور پر بیرونی عوامل سے آزاد نہیں۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمدی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ اس سے درآمدی بل بڑھتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑتا ہے۔ تاہم اگر عالمی سطح پر سفارتی پیش رفت واقعی کسی مثبت نتیجے تک پہنچتی ہے تو توانائی کی قیمتوں میں استحکام پاکستان کے لیے ایک بڑی معاشی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر موجودہ عالمی منظرنامہ ایک ایسے دوراہے کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں ایک جانب سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی میں کمی کی امید موجود ہے اور دوسری جانب جغرافیائی سیاسی خطرات ہر لمحہ سر اٹھانے کو تیار ہیں۔ مالیاتی منڈیاں اسی تضاد کے زیر اثر حرکت کر رہی ہیں، جہاں ہر مثبت خبر کے ساتھ ایک منفی امکان بھی جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار نہ مکمل طور پر پرامید ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر مایوس، بلکہ وہ ایک محتاط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عالمی معیشت اس وقت ایک “انتظار کی کیفیت” میں ہے، جہاں ہر بڑی پیش رفت، خواہ وہ سفارتی ہو یا معاشی، آنے والے مہینوں کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچتے ہیں تو نہ صرف توانائی کی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں بھی ایک نئی توانائی پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر یہ مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو موجودہ غیر یقینی مزید گہری ہو سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا کے ہر خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment