600x314

تمہارے ہجر کے موتی – ثمینہ سید

تمہارے ہجر کے موتی
ابھی پلکوں پہ رکھے ہیں
عجب اک خوف سے ہر دم
کھلی رکھتی ہوں میں آنکھیں
گرے تو ٹوٹ بکھریں گے
تمہارےہجر کے موتی
ابھی پلکوں پہ رکھے ہیں
یہاں گنجان رستوں پر
یہاں پرپیچ گلیوں میں
جدائی رقص کرتی ہے
جلے آوُ تو اچھا ہے
کہ اب تو تھک چکی آنکھیں
تمہارے ہجر کے موتی
ابھی پلکوں پہ رکھے ہیں
یہاں کچھ بھی نہیں بدلا
اسی پہلے طریقے سے تمہاری منتظر آنکھیں
لگی رہتی ہیں چوکھٹ سے
کوئی آہٹ نہیں ہوتی
کوئی سایہ نہیں دکھتا
ذرا سی جھرجھری لے کر
میں آنکھیں کھول دیتی ہوں
عجب اک خوف سے ہر دم
کھلی رکھتی ہوں میں آنکھیں

مصنف کے بارے میں

ثمینہ سید

ثمینہ سید کا تعلق بابا فرید الدین گنج شکر کی نگری پاکپتن سے ہے۔ شاعرہ، کہانی کار، صداکار اور افسانہ نگار ہیں۔ افسانوں پر مشتمل تین کتب ردائے محبت، کہانی سفر میں اور زن زندگی، اور دو شعری مجموعے ہجر کے بہاؤ میں، سامنے مات ہے کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ رات نوں ڈکو کے عنوان سے پنجابی کہانیوں کی کتاب شائع ہوئی ہے۔ مضامین کی کتاب اور ناول زیر طبع ہیں۔ پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ریڈیو کےلیے ڈرامہ لکھتی، اور شاعری و افسانے ریکارڈ کرواتی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment