600x314

سنو اے اجنبی – ثمینہ سید

تری آنکھ میں پھیلے
سرخ انگارے کی حدت سے
پگھلتی جا رہی ہوں
ترا خاموش رہنا ہی
مرے دل کے نہاں خانے میں جیسے شور کرتا ہے
تمھاری سرخ آنکھ میرے اندر
رنگ بھرتی ہیں
کبھی رونے نہیں دیتیں
تری تصویر اَن دیکھی سی ساعت ڈھونڈ لاتی ہے
جو خوابوں کو سجاتی ہے
میرے بجھتے ہوئے دل کو
دوبارہ زندگانی سونپ جاتی ہے
تری تصویر کہتی ہے
سنو پگلی ۔۔۔۔!
اگرچہ دل کے نخلستاں میں چاروں اور باڑیں ہیں
انھی باڑوں کے اندر ہم
حسیں موسم سجا لیں گے
میں ہر موسم کے کھلنے والے سارے پھول تیرے نام کرتا ہوں
سنو اے اجنبی ۔۔ !
مجھے موسم عزیز از جاں ہیں لیکن
دل کے منظر کو بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
کبھی میں سہ نہ پاؤں گی
کہ دل کی سرزمیں کھلنے نہ کھلنے کی عجب سی
کیفیت میں ہے
مجھے کچھ تو دکھائی دے
کوئی صورت سجھائی دے

مصنف کے بارے میں

ثمینہ سید

ثمینہ سید کا تعلق بابا فرید الدین گنج شکر کی نگری پاکپتن سے ہے۔ شاعرہ، کہانی کار، صداکار اور افسانہ نگار ہیں۔ افسانوں پر مشتمل تین کتب ردائے محبت، کہانی سفر میں اور زن زندگی، اور دو شعری مجموعے ہجر کے بہاؤ میں، سامنے مات ہے کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ رات نوں ڈکو کے عنوان سے پنجابی کہانیوں کی کتاب شائع ہوئی ہے۔ مضامین کی کتاب اور ناول زیر طبع ہیں۔ پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ریڈیو کےلیے ڈرامہ لکھتی، اور شاعری و افسانے ریکارڈ کرواتی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment