ہوم << دہشت گردی کے خلاف جنگ، حافظ نعیم کا دوٹوک مؤقف - ارشدزمان

دہشت گردی کے خلاف جنگ، حافظ نعیم کا دوٹوک مؤقف - ارشدزمان

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر برسوں سے ریاستی ادارے کارروائیاں کرتے آ رہے ہیں۔ ہر بار سرکاری بیانیہ یہی ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیا گیا اور کوئی عام شہری نشانہ نہیں بنا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔

کاٹلنگ آپریشن: ریاستی بیانیہ اور عوامی ردعمل
حالیہ دنوں میں مردان کے علاقے کاٹلنگ میں ہونے والی فوجی کارروائی پر جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق:
• ریاستی ادارے بار بار دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر معصوم شہریوں کو قتل کر رہے ہیں۔
• پاکستانی عوام کو بتایا جائے کہ یہ جنگ کس کی ہے؟
• ہر واقعے کے بعد جھوٹ گھڑ کر پیش کیا جاتا ہے، اور بعد میں سچ خود ریاست کے اپنے لوگ افشا کرتے ہیں۔
• کاٹلنگ میں مارے جانے والے افراد کے جنازے میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے، کیا یہ سب دہشت گردوں کے حمایتی تھے؟
• ریاستی ادارے جتنا چاہیں جھوٹ بولیں، مگر اب عوام کو دھوکہ دینا ممکن نہیں رہا۔

ریاستی مؤقف اور آزاد ذرائع کا فرق
حکومت کے مطابق، مردان کے علاقے کاٹلنگ میں 17 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا اور کوئی عام شہری نشانہ نہیں بنا۔ مگر آزاد ذرائع اور مقامی آبادی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر رہے ہیں۔
• مقامی لوگوں کے مطابق، مارے جانے والے افراد عام چرواہے تھے جو علاقے کی معروف گجر برادری سے تعلق رکھتے تھے۔
• ان افراد کی لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا گیا، اور ان کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
• حکومتی اہلکار متضاد بیانات دے کر معاملے کو مشکوک بنا رہے ہیں۔

یہ صورتحال ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ ریاستی ادارے غیر معتبر ہو چکے ہیں۔ اگر واقعی کوئی دہشت گرد مارا گیا تھا، تو حکومت کو کھلے دل سے سچ بولنا چاہیے تھا۔ مگر مسلسل جھوٹ بول کر معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا گیا ہے۔

ڈمہ ڈولہ مدرسہ حملہ: تاریخ کی دہرائی
حافظ نعیم الرحمان نے اس واقعے کو 2006 کے ڈمہ ڈولہ مدرسہ حملے سے تشبیہ دی، جہاں:
• حکومت نے کہا کہ دہشت گردوں کا تربیتی مرکز تباہ کیا گیا۔
• بعد میں حقیقت سامنے آئی کہ وہاں 80 معصوم طلبہ شہید ہوئے، جن میں اکثریت قرآن کے حفاظ کی تھی۔
• ریاست نے اس وقت بھی امریکی حملے کی پردہ پوشی کی اور عوام سے جھوٹ بولا۔

ریاستی بیانیے کی کمزوری اور تضادات
• ریاستی ادارے عوام کو بتائیں کہ وہ امریکا کے غلام ہیں یا پاکستانی عوام کے محافظ؟
• ریاستی بیانیے کے تضادات نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
• سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا نے خود اعتراف کیا کہ یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی تھی۔

ریاستی دباؤ اور سیاسی قیادت کی خاموشی
• فوج نے ان کیمرہ اجلاس میں سیاستدانوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ یہ جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے۔
• سراج الحق کی جنازے کی تصاویر دکھا کر کہا گیا کہ وہ دہشت گردوں کے حمایتی ہیں۔
• مولانا فضل الرحمان نے سخت احتجاج کیا اور فوجی حکام کو وضاحت دینے پر مجبور کیا۔
• نواز شریف نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس جنگ سے نکلنا چاہیے۔
• عمران خان نے ابتدا سے ہی اس جنگ کی مخالفت کی اور کہا کہ پاکستان کو اس میں نہیں پڑنا چاہیے تھا۔

جعلی بیانیے اور عوامی ذہن سازی
سوات میں خاتون کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو
• 2009 میں ایک ویڈیو وائرل کی گئی جس میں طالبان کو ایک خاتون کو کوڑے مارتے دکھایا گیا۔
• حکومت اور میڈیا نے اسے طالبان کے خلاف آپریشن کا جواز بنایا۔
• بعد میں تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ ویڈیو جعلی تھی، اور سپریم کورٹ کے کمیشن نے بھی اس کی تصدیق کی۔

ریاستی جھوٹ اور عوام کا ردعمل
• ڈمہ ڈولہ مدرسہ حملہ، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا آپریشن، اور اب مردان کاٹلنگ آپریشن— یہ تمام واقعات ریاستی بیانیے کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر چکے ہیں۔
• عوام اب کسی بھی سرکاری دعوے کو فوراً شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ریاستی ساکھ کا بحران اور آگے کا راستہ
ریاستی بیانیے پر بڑھتے ہوئے سوالات
• کاٹلنگ جیسے واقعات میں حکومت کا مؤقف اکثر مقامی آبادی کے بیانات سے متضاد ہوتا ہے۔
• اگر واقعی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، تو ریاست کو مکمل شفافیت اپنانی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔

پاکستان کے لیے غیرجانب دار خارجہ پالیسی کی ضرورت
• حافظ نعیم الرحمان کا مؤقف کہ پاکستان کو بیرونی طاقتوں کے دباؤ میں آنے کے بجائے اپنی خودمختاری کو مقدم رکھنا چاہیے، ایک مضبوط اور منطقی دلیل ہے۔
• جنرل قمر جاوید باجوا کا اعتراف کہ یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی تھی، اس بات کا ثبوت ہے کہ پچھلی حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ نے فیصلے کرتے وقت قومی مفادات کو نظر انداز کیا۔

عوامی ردعمل اور ریاستی دباؤ
• جب کسی واقعے میں معصوم شہری مارے جاتے ہیں اور پھر حکومت اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے، تو عوام میں غصہ اور بے اعتمادی مزید بڑھتی ہے۔
• سیاسی قیادت، خصوصاً جماعت اسلامی جیسے رہنما، اگر مسلسل دباؤ ڈالتے رہیں تو شاید ریاست کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی پڑے۔

آگے کیا ہونا چاہیے؟
✅ پاکستان کو ایک آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دینی چاہیے جو قومی مفادات پر مبنی ہو۔
✅ ہر فوجی آپریشن سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
✅ جھوٹ اور پراپیگنڈہ پھیلانے کے بجائے شفافیت کو اپنانا ہوگا تاکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بحال ہو۔
✅ پاکستان کو کسی اور کی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے اپنی داخلی سلامتی پر توجہ دینی چاہیے۔

نتیجہ: ریاستی ساکھ اور عوامی اعتماد کی بحالی
یہ بحث ایک قومی مکالمے کا حصہ بننی چاہیے، کیونکہ اگر یہی روش جاری رہی تو ریاست اور عوام کے درمیان خلیج مزید وسیع ہو جائے گی۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں، قوم پرستوں اور قومی قیادت کو حافظ نعیم الرحمان کی طرح دوٹوک اور مبنی برحق مؤقف اپنانا چاہیے اور حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ سیاسی قیادت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے ایک آزاد خارجہ پالیسی اور ہمہ گیر حکمت عملی تشکیل دے، جس کا بنیادی اصول یہ ہو کہ کسی بھی صورت میں فوجی آپریشن کا راستہ اختیار نہ کیا جائے۔

پاکستان کے مفادات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ایک مؤثر حکمت عملی تشکیل دینا وقت کی اولین ضرورت ہے۔ اگر ریاستی ادارے اخلاص، جرات، قناعت، خود انحصاری، خود مختاری اور پاکستان کے مفادات کو اولیت دینے کا جذبہ پیدا کریں تو ملک ایک بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتا ہے۔

Comments

Avatar photo

ارشد زمان

ارشد زمان سیاست و سماج پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھی موضوعات پر مطالعہ اور تجزیہ ان کا شوق ہے۔ اقامتِ دین کے لیے برپا تحریک اسلامی کا حصہ ہیں اور عملی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ حقیقی تبدیلی کے لیے عملی کاوشیں ان کے مشن کا حصہ ہیں۔

Click here to post a comment