ہوم << غربت، انسان کی سب سے بڑی دشمن - انصار مہدی

غربت، انسان کی سب سے بڑی دشمن - انصار مہدی

انسان کی سب سے بڑی دشمن غربت ہے جو اس کی صلاحیتوں کو چاٹ جاتی ہے یا ان کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔ غربت والدین کے لیے قابل برداشت ہے۔ انسان اپنے پیٹ کی بھوک کو تو برداشت کر سکتا ہے مگر اولاد کی بھوک برداشت نہیں ہوتی۔ انسان کے جسم میں خون نالیوں سے باہر نکلنا چاہتا۔ دل و دماغ میں ایک انجان سا احساس تلملا اٹھتا ہے۔ ذہن تیزی سے کام کرنے لگتا ہے کہ بچوں کی بھوک کیسے ختم کی جائے۔

میرا کاروبار ختم ہو چکا تھا اور گھر کے خرچے بڑھ رہے تھے میرے پاس جو چند ہزار تھے ان کا آخری سو روپے بھی جب خرچ ہو گئے تو ایک دن اپنے بیٹے کے دودھ کے پیسے تک نہیں تھے۔ بیٹا تین سال کا ہے وہ دودھ کے لیے رو رہا تھا اس کی ماں اسے دودھ کی بجائے ٹھوس غذا دے رہی تھی مگر بچہ دودھ کا مطالبہ بار بار کر رہا تھا۔ ماں کے لیے دوہری پریشانی تھی ایک تو بچے کو دلاسہ دینا اور دوسری پریشانی شوہر کو یہ احساس دلانا کہ کوئی نہیں کچھ نہیں ہوتا کبھی کبھی پیسے ختم ہو ہی جاتے ہیں۔ تم پریشان نہ ہوں۔ وقت میرے لیے رک گیا تھا میں نے فوراً بڑے شہر میں قسمت آزمائی کرنے کا فیصلہ کیا اور دوست سے کچھ رقم ادھار لے کر چند دن کا خرچ بیوی کو دیا اور بڑے شہر کی ٹرین سے شہر پہنچ گیا۔

شہر میں کام کئی دن تک نہیں ملا تو پریشانی اور کیفیات بدلنے لگیں۔ گھر بھی رابطہ نہ کیا کہ پریشانی میں اضافہ ہوگا۔ بہت بھاگ دوڑ کے بعد نوکری مل گئی ایک ماہ کام کرنے کے بعد تنخواہ پکڑی اور گھر آنے کی تیاری کی کیونکہ پچیس دسمبر کی چھٹیاں آرہی تھیں تو مجھے کچھ دن کی اکھٹی چھٹیاں مل گئی۔ اپنے گاؤں کی ٹرین پکڑی جس نے مجھے گاؤں سے بیس کلومیٹر دور اتار دیا۔ صبح صادق ہو رہی تھی۔ اکا دکا لوگ جاگ گئے تھے۔ میں گاؤں کے لیے کسی گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔ گھنٹوں انتظار کے بعد ایک وین آئی جس میں اٹھارہ مسافر بیٹھ سکتے ہیں بہت بڑی نہیں ہوتی میں بھی اس میں سوار ہوگیا۔ اور ایک پچاس من دھان کا پلندہ بھی گاڑی میں رکھوا دیا جو میں نے اسٹیشن کے نزدیک آڑھت سے خریدا تھا۔ میں پہلے تذکرہ کر چکا ہوں کہ بھوک بہت بری چیز ہے اور بچوں کی بھوک برداشت نہیں ہوتی۔ وین بیس کلومیٹر مسافت طے کرنے کے لیے چل پڑی میں خیالی دنیا میں کھو گیا مجھے اپنے بچوں کا بہت خیال آرہا تھا۔ کبھی یہ سوچتا کہ اس دھان سے آج ہی چاول نکلوا لاؤں گا۔ پہنچتے ہی پہلا کام چاول نکلوانے کا کروں گا۔ باقی سب کام بعد میں کروں گا۔

میرے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی، بیٹی دو سال کی ہے، پہلے ان کے لیے دودھ والی میٹھی کھیر پکاؤں گا، پھر ان کو اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گا۔ میری بیٹی میری گود میں بیٹھ کر کھاتی ہے اور بیٹا پاس بیٹھ کر تو بہت ہی زیادہ سکون ملتا ہے۔ بیوی کے لیے پلاؤ پکاؤں گا۔ کہتے ہیں جن لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا ہو ان کے خواب میں بھی روٹی آتی ہے۔ ہر طرف ہر چیز جو گول ہو وہ روٹی لگتی ہے۔

میں اپنے خیالات میں محو تھا کہ گاڑی سڑک پر رکی اور میں اترا. کنڈکٹر نے میری دھان کی بوری کو سڑک کنارے رکھا ہی تھا، اور میں اس کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے آتی ہوئی ایک اور گاڑی کے ٹائروں کی زد میں دھان کی بوری آگئی۔ وہ ٹائر کے ساتھ ہی گھسیٹتی گئی. پہلے تو مجھ پر سکتہ طاری ہوا، بعد جب حواس بحال ہوئے تو ڈرائیور کو روکا۔ میں بس سٹینڈ کے قریب ہی اترا تھا جہاں باقی ڈرائیور اور کنڈکٹر کرسیاں ڈال کر بیٹھے آگ تاپ رہے تھے اور ایک لڑکا ان کو اپنی باتوں سے لطف اندوز کر رہا تھا۔ جب دھان کی بوری ٹائر کے نیچے آئی تو یک لخت ہنسنے لگے۔ میری قسمت پر ہنس رہے تھے یا ڈرائیور کی لاپرواہی پر مگر ان۔کا ہنسنا بہت ہی بے موقع تھا۔ میرے دل پر کیا گزر رہی تھی میں ہی جانتا ہوں مگر وہ ہنس رہے تھے۔ مجھے اس وقت وہ دنیا کے کراہت آمیز اور سب سے بد صورت چہرے لگے۔ مجھے آج بھی ان کو سوچ کر کراہت آرہی ہے، حالانکہ اس واقعہ کو تین دن گزر چکے ہیں۔

میں نے دھان کو اکھٹا کیا. اس دوران ایک اور شخص بھی میرے ساتھ شامل ہو گیا. اس نے میری مدد کی اور ہم نے ایک نئی بوری میں سڑک سے دھان کو اکھٹا کرکے بھر دیا۔ میں نے اس تکلیف کو ماپنے کی کوشش کی کہ چاول اکھٹا کرتے وقت مجھے کتنی تکلیف ہو رہی تھی تو میں اگر کہوں کہ دل ودماغ کے کرب کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے تو میں اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کر رہا۔ اس کے بعد میرے جذبات بدل چکے تھے اور گھر پہنچ کر میں نے کچھ دیر آرام کیا۔ خواب ٹوٹنے کا دکھ کتنا ہوتا ہے یہ وہی جانتا ہے جس کے کبھی خواب ٹوٹے ہوں۔