ہوم << راستوں پر نماز کا مسئلہ! ابوالاعلی سید سبحانی

راستوں پر نماز کا مسئلہ! ابوالاعلی سید سبحانی

راستوں پر نماز کے مسئلے کو لے کر چند دنوں سے مختلف بحثیں سوشل میڈیا پر چھڑی ہوئی ہیں،میرے خیال سے اس میں تین بنیادی مسائل آتے ہیں:
اس میں ایک مسئلہ راستوں پر نماز کی ادائیگی کی شرعی حیثیت کا ہے، یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ راستوں پر نماز دین میں پسندیدہ عمل نہیں ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، ان سات ممنوعہ مقامات میں چلنے پھرنے والے راستوں کا بھی تذکرہ ہے۔حدیث کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں: عن ابن عمر، أن النبي صلى الله عليه وسلم " نهى أن يصلي في سبع مواطن: في المزبلة، والمجزرة، والمقبرة، وقارعة الطريق، وفي الحمام، وفي معاطن الإبل، وفوق ظهر بيت الله "

دوسرا مسئلہ راستوں پر نماز کی ادائیگی کی عملی ضرورت کا ہے.
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ راستوں پر نماز شوقیہ نہیں پڑھی جاتی، بلکہ مجبوری کے تحت پڑھنی پڑتی ہے۔ اور یہ مسئلہ گاؤں اور دیہات کا بالکل بھی نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلہ صرف اور صرف بڑے شہروں کا ہے، جہاں مسلم آبادی بہت تیزی سے بڑھتی چلی گئی لیکن بڑھتی آبادی کے ساتھ مناسب پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے عیدگاہوں اور جامع مساجد کا نظم نہیں ہوسکا۔ چنانچہ جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں مساجد جلدی بھر جاتی ہیں اور مجبوری کے تحت باہر راستوں پر نماز پڑھنی پڑتی ہے۔

تیسرا مسئلہ اس پر ہونے والی سیاست کا ہے. حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے سارے تہوار روڈ پر ہوتے ہیں، اور جو نہ صرف ٹریفک کا مسئلہ بنتے ہیں، بلکہ عام شہریوں کے لیے شدید تکلیف اور مصیبت بن جاتے ہیں، طرح طرح کے پالوشن کا سبب بنتے ہیں، یہ لوگ چند منٹ کی نمازوں پر اعتراض جتاتے ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ان لوگوں کا ہدف نماز نہیں ہوتی ہے اور نہ ان کو روڈ پر نماز سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے، بلکہ ان کا اصل مقصد ملت کا مورال ڈاؤن کرنا ہوتا ہے۔ وہ طرح طرح کے اشوز اٹھاکر ملت میں بے چینی اور بے اطمینانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

مسئلے کا حل کیا ہو؟
اصولی بات یہ ہے کہ روڈ پر نماز کے مسئلے کو ملت کے خلاف سیاست کا مسئلہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ اس کے لیے ملت کو از خود کوئی نہ کوئی حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
۱- بہتر تو یہی ہوتا کہ جہاں جتنی مسلم آبادی ہو، وہاں اسی کے مناسب حال بڑی مساجد کا انتظام بھی ہو، اگرچہ ہر جگہ ایسا کرنا ممکن نہیں، لیکن بہت سی جگہوں پر کوشش کرکے ایسا کیا بھی جاسکتا ہے۔
۲- اس سلسلے میں ایک اجتہادی حل جو شہروں میں اختیار کیا گیا اور اس پر عموماً تمام ہی بڑی مساجد میں عمل کیا بھی جارہا ہے، وہ یہ کہ شہر کی جامع مسجد کے ساتھ ساتھ تمام ہی بڑی مساجد میں جمعہ اور عیدین کا اہتمام کیا جائے۔ اس پر کب سے عمل شروع ہوا، متعین طور پر اس سلسلے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا، لیکن اس وقت ہر بڑے شہر اور بہت سے چھوٹے شہروں میں اس پر عمل کیا جارہا ہے۔ اور اس سے اس مشکل کا بڑی حد تک ازالہ بھی ہوا ہے، ورنہ تصور کریں کہ عام فقہی مسلک کے مطابق اگر جمعہ اور عیدین کے لیے جامع مسجد کی شرط رکھی جاتی تو شہروں میں جمعہ اور عیدین کی نماز کتنی مشکل ہوجاتی!
۳- اس کا ایک اور عملی حل بھی ہے، اور یہ حل بھی اجتہادی نوعیت کا ہے، اور اس کو بھی بہت سی مساجد میں اب اختیار کیا جانے لگا ہے، لیکن ابھی بھی اس کو بڑے پیمانے پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ جمعہ اور عیدین کی نمازیں بڑی مساجد میں ایک بار ہونے کے بجائے دو یا دو سے زائد بار کرلی جائیں۔ مثلاً دہلی کی شاہین مسجد میں جمعہ کی ایک نماز ایک بجے ہوتی ہے اور دوسری نماز دو بجے، اسی طرح عیدین کی نماز بھی دو بار ہوتی ہے، اس بار عید کی پہلی نماز سوا سات بجے ہوئی اور دوسری نماز سوا آٹھ بجے۔میں نوئیڈا کی جس مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھانے جاتا ہوں، وہاں بھی جمعہ کی پہلی نماز ایک بجے ہوتی ہے اور دوسری نماز دو بجے ہوتی ہے، اور دونوں ہی نمازوں میں کئی منزلہ مسجد تنگی کی شکایت کرتی ہے۔ میرے خیال سے اس مسئلے کا یہ ایک مناسب حل ہے اور اس کو بڑے پیمانے پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

ایک ضروری وضاحت:
بہت سی جگہوں پر شعوری یا غیرشعوری طور پر ہمارے لوگوں سے اس سلسلے میں بے احتیاطی یا غلطی بھی ہوجاتی ہے، اور بہت سی جگہوں پر یہ غلطی مستقل عمل بن جاتی ہے، وہ یہ کہ آس پاس کی مساجد میں گنجائش اور وسعت ہونے کے باوجود لوگ ایک خاص مسجد میں نماز کی ادائیگی کی عادت اختیار کیے ہوتے ہیں، مثلاً اوکھلا میں شاہین باغ کی طرف جانے والے جمنا روڈ پر مرکز جماعت اسلامی ہند اور سنابل کی بڑی جامع مساجد موجود ہیں جو بہت وسعت اور گنجائش رکھتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان دونوں مساجد کے درمیان ایک چھوٹی مسجد ہے جہاں جمعہ کی نماز لوگ راستہ روک کر ادا کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے غیرضروری زحمت کا سبب بنتے ہیں۔ اس طرح کی اور بھی متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ اس طرح کی جو غلطیاں ہمارے معمول کا حصہ بنی ہوئی ہیں ان کا ازالہ ہمیں از خود کرلینا چاہیے اور شہر کے ذمہ دار افراد کو بڑھ کر ذمہ داران مساجد کی توجہ اس جانب مبذول کراتے رہنا چاہیے۔

Comments

Avatar photo

ابوالاعلی سبحانی

ابوالاعلی سید سبحانی مصنف اور مترجم ہیں۔ دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن کی ہے۔ جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ، ندوۃ العلماء لکھنو اور الجامعۃ الاسلامیہ کیرلا سے دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ ماہنامہ رفیق منزل اور ماہنامہ حیات نو کے سابق مدیر ہیں۔ عربی سہ ماہی “النشرہ”، نئی دہلی کے سابق مدیر معاون ہیں۔ ہدایت پبلیکیشنز کے نام سے اپنا ادارہ چلا رہے ہیں

Click here to post a comment