ہوم << مجموعہ گناہ ہے شادی آج - محمد عمیر اقبال

مجموعہ گناہ ہے شادی آج - محمد عمیر اقبال

عمیر اقبال بزرگوں سے سنا تھا کہ ان کے زمانے میں شادیاں اتنی سادگی سے ہوتی تھیں کہ اس کی مثال عصر حاضر میں ملنا تو درکنار تصور بھی محال ہے۔ اس تصور کا فقدان ہی اتنا بڑا جرم ہے جس کی پاداش میں آج کم و بیش پوری قوم ایک شدید مصیبت سے دوچار ہے۔ احقر اس مسئلہ کے حل کے لیے کچھ معروضات پیش کرے گا، لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ ایک دو عبرت انگیز اور افسوس ناک واقعات ملاحظہ کر لیے جائیں:
بھائی صاحب! زکوۃ کی رقم کی مد میں آپ کچھ مدد کردیجے۔
خیریت کیا مسئلہ درپیش ہے؟
مکالمے کی ابتداء سلام دعا کے بعد کچھ اس قسم کے الفاظ سے دو باہم شناسا نوجوانوں کے درمیان ہوئی۔
آگے سنیے! خالہ کی بیٹی کی شادی ہے فلاں تاریخ کو، میرے پاس جو رقم تھی وہ دے دی ہے، لیکن ابھی بھی کسر باقی ہے، اگر آپ تعاون کردیں تو آسانی ہوجائے گی.
تعاون میں کوئی حرج تو نہیں لیکن اگر ان پیسوں کو مہندی، مایو، خورا، ڈھولک اور اس جیسی لایعنی اور غیر ضروری رسومات میں خرچ کیا تو خود سوچیے اس سے بہتر تو یہ تھا کہ اصل حق دار اس رقم سے چند دنوں کے لیے ہی سہی، اپنی بنیادی ضروریات پوری کرلیتے۔
نہیں نہیں بھائی جان! ہمارے یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ اصل میں لڑکی والوں نے نکاح والے دن مہمانوں کو کھانا کھلانا ہے۔ بے چارے غریب لوگ ہیں اتنی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے مانگنے کی نوبت آ پہنچی ہے۔
اس کی آخری بات سے نوجوان سوچ میں پڑ گیا اور بالآخر مدد نہ کرنے کا فیصلہ کرکے اگلی ملاقات میں اس کو انکار کرنے کا تہیہ کر لیا۔ مگ ٹھہریے! اتنی جلدی اس پر سنگ دل ہونے کا دعوی نہ کیجیے۔ ابھی بات مکمل کہاں ہوئی ہے۔ ایک اور خون جلانے والا واقعہ آپ کا منتظر ہے:
شب عروسی کے لباس میں دلہن بنی وہ بھولی بھالی لڑکی خوشیاں منانے اور اپنی نئی زندگی کے حسین خواب دیکھنے کے بجائے کسی گہرے کرب و فکر میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کی ہم جولیاں اس کو مسلسل حوصلہ دینے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات!
میں اس وقت کم سنی کے دور میں تھا،جب میں نے اپنے بڑوں سے اس مجبور لڑکی کی بپتا سنی۔ غربت نے چاروں طرف ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ عمر ڈھلتی جارہی تھی۔ دور دور تک کوئی مناسب جوڑ نظر نہیں آرہا تھا۔ آخر ایک طویل انتظار کے بعد ایک اچھا رشتہ مل ہی گیا۔ جہیز کیے نام پر لباس، زیورات اور دوسری ضروریات کا معقول انتظام گھر سے ہی ہوگیا۔ لیکن ابھی ایک معرکتہ الآراء مسئلہ باقی تھا اور وہ تھا باراتیوں کو کھانا کھلانا۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ کراچی کے ایک دور دراز علاقے میں ہال کی بکنگ اور کھانے سمیت کل خرچہ ایک لاکھ بیس ہزار یا اس سے کچھ اوپر بنا۔ اس مسکین لڑکی کی شادی کے لیے یہ پیسہ کیسے جمع کیا گیا، یہ بتانے کا حوصلہ نہیں مگر حالات کی سنگینی کا احساس دلانے کے لیے بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ اس رقم کا اکثر حصہ صدقہ خیرات اور زکوۃ پر مبنی تھا۔ لوگوں کے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے بریانی، بوتلیں اور دیگر لوازمات رکھے گئے۔ مگر اس کے باوجود اپنی نئی حیات کا آغاز کرنے والی وہ دنیا کے جھمیلوں میں الجھی ہوئی معصوم لڑکی اس غم میں ہلکی ہوئی جارہی تھی کہ اگر کھانا کم پڑگیا اور اسے ہضم کرنے کے لیے مہمانوں کو سبز قہوہ نہ ملا تو میری عزت کا کیا ہوگا؟ ایک دوشیزہ کے ہاتھ پیلے ہونے کا یہ روح فرسا واقعہ جب میں نے بچپن میں اہل خانہ سے سنا تو اس ناسمجھی کی حالت میں بھی چونکے بغیر نہ رہ سکا۔
مجھے یقین ہے کہ آپ کا چند منٹ پہلے کا وہ غصہ جو سائل کو ٹرخادینے کی وجہ سے نمودار ہوا تھا، رفو چکر ہوگیا ہوگا۔ یہ دو حقیقی واقعات ذکر کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ کس طرح دنیا داری نبھانے کے چکر نے لڑکی اور لڑکی والوں کو کس مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اگر صرف مالی امداد کر دینے سے مسئلہ حل ہوجاتا تو اس پر کسی کو کیا اشکال؟ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک غیر ضروری اور غیر شرعی رسم کو پورا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا لڑکی والوں کا کھانا کھلائے بغیر نکاح حرام ہوتا ہے؟ یا یہ کوئی نازل شدہ فرمان ہے جس پر عمل کیے بنا اور کوئی آپشن نہیں۔ آپ کہیں گے یہ معاشرت ہے، مانا معاشرت ہے مگر شریعت تو نہیں! اور معاشرت بھی تو ہم افراد سے مل کر ہی بنتی ہے۔ معاشرے کا تانا بانا بھی تو ہمارے ہی ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ جتنا چاہے الجھادیں، جتنا چاہے سلجھادیں۔ والدین شاید کہیں گے کہ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنی بیٹی کو دھوم دھام سے رخصت کریں اور تو اور لڑکی کی بھی یہی تمنا ہوتی ہے کہ اس کی شادی ایک یادگار کے طور پر لوگوں کے ذہنوں پر نقش رہے۔ مگر آپ نے کبھی یہ سوچا کہ اس پل دو پل کی خواہش کی تکمیل کے لیے کتنی غریب بچیوں کی شادیاں جوئے شیر لانے کے برابر ہوگئی ہیں ۔ لاشعوری طور پر lower class کے لیے بھی اسی طرح کا نہیں تو اس سے کم پیمانے پر ہی نکاح کی تقریب کا انتظام و اہتمام واجب ہوجاتا ہے۔آپ نے تو اپنے ارمان جی بھر کر پورے کر لیے لیکن وہ غریب جسے اپنی دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں، وہ سو دو سو لوگوں کے کھانے کا انتظام کہاں سے کرے گا؟ پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو وہ زمانے کے اس قبیح دستور کا حصہ نہ بن کر لعنت ملامت اور تھرڈ کلاس تبصروں کا شکار ہوں، یا قرض اور چندہ وغیرہ جمع کرکے خود کو لوگوں کے احسان کے بوجھ تلے دبالیں اور اپنی ہستی بستی زندگی اجیرن کرلیں۔
لہذا اے اہل ثروت! اس بگڑی ہوئی صورت حال پر آپ ہی کو قابو پانا ہے۔تقریبات کا دائرہ محدود کرنے میں آپ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بیٹی کی خوشیوں میں اپنے پیاروں کو شریک کرنا ہر ماں باپ کا ارمان ہوتا ہے۔ لیکن گزارش بس اتنی ہے کہ دکھاوے سے دونوں طرف سے اجتناب کیا جائے۔ اس تقریب کو اتنی حیثیت نہ دی جائے کہ نہ کرنے کی استطاعت یا ارادہ رکھنے والا لوگوں کی طعن و تشنیع کی زد میں آئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ سب سے برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ اور سادگی ہو. حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، نے اپنی دعوتِ ولیمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کے کپڑے پر خوشبو کا پیلا رنگ دیکھ کر اندازہ لگایا اور پوچھا کہ شاید تم نے نکاح کر لیا ہے، لیکن ذرہ برابر ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا کہ مجھے ولیمے میں نہیں بلایا۔ بتائیے! یہاں تو ولیمے جیسی عظیم سنت کو سادگی سے کرنے کی ترغیب دی جارہی ہےاور ہم کیا کرتے ہیں، اللہ ہی ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

Comments

Click here to post a comment