ہوم << جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے - حبیب الرحمن

جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے - حبیب الرحمن

قوم کو بہت فریب دیئے جا چکے، بہت جھوٹ بولے جا چکے اور قوم بہت دھوکے کھا جا چکی، خدارا اب قوم کو مزید فریب دینا، جھوٹ بولنا اور دھوکے پر دھوکے دیئے جانا بند کیا جائے۔

قوم کے کان یہ سن سن کے پک کر بہنے لگے ہیں کہ پاکستان اسلام کیلئے بنایا گیا تھا۔ یہ اسلام کیلئے بنایا گیا ہوتا تو یہاں اسلام نظر آتا۔ یہ ملک اسلام کا نام لیکر تو ضرور بنایا گیا تھا لیکن اسلام کیلئے قطعاً نہیں۔ اسلام کا نام لیکر حاصل کئے گئے خطہ زمین پر خلافت نافذ کی جاتی ہے گورنر جنرلی نہیں۔ بلا شبہ یہ اب تک کی تاریخِ انسانی میں بہت بڑا فریب اور دھوکا تھا جو اُس وقت کے مسلمانوں کو دیا گیا۔ جس خطے میں موجودہ پاکستان بنا وہاں کے وڈیروں، چوہدریوں، ملکوں، خانوں اور سرداروں کو اسلام سے نہ اُس وقت کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی آج تک کسی قسم کا کوئی مطلب ہے۔

وہ خوب اچھی طرح اس بات سے واقف تھے کہ جہاں اسلام کی آواز اٹھائی جا رہی ہے اور جو اپنی جانیں جانِ آفرین کے سپرد کرتے چلے جا رہے ہیں، جن کو اسلام کیلئے نہ اپنی عزتوں کے لٹ جانے کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی گھربار اور مال و دولت کو چھوڑ کر ہجرت کا عذاب جھیلنے کا غم، غم اگر ہے تو جو بھی قیامت گزر جائے، پاکستان بن جائے، اس لئے ہر وڈیرہ، چوہدری، ملک، خان اور سردار تماش بینوں میں شامل ہو کر صرف اس بات کا منتظر تھا کہ کب فریب خورداؤں کا لہو رنگ لائے اور کب اانھیں ہندوؤں، سکھوں اور فرنگیوں سے آزادی ملے اور کب وہ سب کے سب اپنے اپنے علاقوں کے مالک بند کر اپنی رعایا کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہیں کریں۔

پاکستان بننے کے بعد سے تا دمِ تحریر، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ملک کے عوام نے تو کئی مرتبہ اس بات کیلئے آواز اٹھائی کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنایا جائے لیکن کسی بھی وڈیرے، چوہدری، ملک، خان اور سردار کی جانب سے آج تک پاکستان کے کرتا دھرتاؤں پر کبھی کوئی دباؤ اس بات کیلئے نہیں ڈالا گیا کہ وہ پاکستان میں وہ نظام رائج کریں جس مقصد کیلئے اسے بنایا گیا تھا، سود کا خاتمہ کریں، اسلامی سزاؤں کو نافذ العمل بنائیں اور تمام اختلافات کو بھلا کر صرف اور صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیں۔

اسلام کی محبت اب بھی ایک ایک پاکستانی کے روئیں روئیں میں اس بری طرح رچی و بسی ہوئی ہے کہ جو بھی اسلام کے نام پر تحریک چلائی جاتی ہے، پورا پاکستان اس پر لبیک لبیک کہہ کر اس تحریک کے ساتھ ہو لیتا ہے۔ جس طرح برِ صغیر کے اس وقت کے مسلمانوں سے اسلام کا نام لیکر ان کو دھوکا دیا گیا تھا بالکل اسی طرح ایک تواتر کے ساتھ پاکستان میں متعدد تحریکیں اسلام کے نام کو استعمال کر کے چلائی جاتی رہیں۔ نام تو اسلام کا استعمال کیا گیا لیکن ان کا مقصد پاکستان کی مقتدر قوتوں کا اپنے مذموم مفادات کی تکمیل کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا۔

تحریکیں خواہ فوجی حکمرانوں کے خلاف چلائی گئیں یا سولین حاکموں کے خلاف لیکن اس کو مذہب کا لبادہ پہنا کر بھولے بھالے مسلمانوں کو دھوکا دیا گیا۔ حکمرانوں کے خلاف جتنی بھی تحریکیں بنامِ اسلام چلیں ان سب کو میں ایک بڑے جنرل اسٹور کے سامنے کسی خوانچے والے کی دکان سمجھتا ہوں۔ جو اور بہت سے بڑے بڑے بڑے فریب اس قوم نے اپنے قائدین کی جانب سے کھائے ان میں سقوطِ مشرقی پاکستان اور افغان جہاد بہت نمایاں ہیں۔ اس میں بھی اہلِ بنگال کے ساتھ یہ کہہ کر زیادتی کی گئی کہ کیونکہ یہ پاکستان کے خلاف ہیں اور کیونکہ پاکستان کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا لہٰذا جو پاکستان کے خلاف بات کریگا وہ در اصل اسلام کے خلاف بات کرے گا اس لحاظ سے ان کے خلاف کسی بھی قسم کا سلوک خلافِ اسلام نہیں۔

اسی طرح امریکا سے مفادات حاصل کرنے کیلئے افغانستان کے حالات کو عذر بنا کر ایک امریکی مفادات کی جنگ کو کفر و اسلام کی سان پر چڑھا کر ایسی دو دھاری تلوار بنا دیا گیا جس سے آج تک گلے پر گلے کاٹے جا رہے ہیں اور نتیجے میں تباہی و بربادی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا۔ یہ دو ایسے سانحات ہیں جس سے ایک جانب عام لوگوں کی اسلام سے جنون کی حد تک محبت کا اظہار ہوتا ہے تو دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ پاکستان بننے سے قبل کے حالات ہوں یا پاکستان بننے کے 75 برس بعد کے، نہ تو اسلام سے محبت رکھنے والے معصوم مسلمان بدلے ہیں اور نہ ہی دھوکا دینے والے کے اندازِ فکر میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

بسوں، ٹرینوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس اسٹاپوں پر آپ نے بہت سارے منجن اور دوا فروشوں کو دیکھا ہوگا جو آپ کے غلیظ دانتوں اور امراضِ خبیثہ کا ذکر کر کے اپنے جعلی منجن اور نقلی دوائیں اس لئے بیچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ آپ ان غلاظتوں اور بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ غور کیا جائے تو اُن منجن اور دوا فروشوں یا ٹرینوں، بسوں، اسٹیشنوں اور بس اسٹاپوں پر بیٹھے انسانوں یا ہمارے فریبوں سے پُر رہنماؤں اور عوام میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق نہیں۔ جس طرح عام مسافر منجن اور دوا فروشوں کی لچھے دار باتوں میں آکر اپنی جیبیں خالی کرنے میں دیر نہیں لگاتے بالکل اسی طرح پاکستان کے بھولے بھالے مسلمان اسلام کا نام سن کر اپنا سب کچھ اپنے اپنے جھوٹے اور مکار رہنمائوں پر لٹانے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔

بیوقوف بننے کی بھی ایک حد ہوتی ہے لیکن لگتا ہے کہ اب حد ہی ہو گئی ہے۔ 75 برس گزر جانے کے بعد تو اب سب کو یہ بات سمجھ میں آجانی چاہیے کہ یہ ملک اسلام کیلئے نہیں، اسلام کا نام استعمال کرکے بنایا گیا تھا۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس خطہ زمین پر ایک ساعت کیلئے بھی اسلام نام کی کوئی چیز نافذ نظر نہیں آتی۔ یہ صرف دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کا ایک ملک ہے اور ملک کے متعلق علامہ اقبال صاف فرما چکے ہیں کہ

اس دور ميںمےاورہے،جاماورہےجماور

ساقي نےبناکيروشلطفوستماور

مسلم نےبھيتعميرکيااپناحرماور

تہذيب کےآزرنےترشوائےصنماور

ان تازہخداؤںميںبڑاسبسےوطنہے

جو پيرہناسکاہے،وہمذہبکاکفنہے

Comments

Click here to post a comment