ہوم << اسے کہتے ہیں بھرا میلہ چھوڑنا - محمد احسن سرفراز

اسے کہتے ہیں بھرا میلہ چھوڑنا - محمد احسن سرفراز

کرونا اور زلزلہ زدگان کی امداد کے حوالے سے جماعت اسلامی کی رفاہ عامہ سے متعلق تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے ملکی اور بین القوامی سطح پر اپنی کارکردگی اور بے لوث خدمت کا لوہا منوایا، اربوں روپے کے فنڈز بندگان خدا کی مشکلات کم کرنے کے لیے خرچ کیے، خدمت کے یہ واضح مناظر دیکھتے ہوئے انفرادی طور پر اہل خیر، کارپوریٹ سیکٹر، حتیٰ کہ حکومتوں تک نے ریلیف کے کاموں میں الخدمت فاؤنڈیشن سے تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔

خدمت کے اس سفر کے سالار الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر میاں عبدالشکور تھے۔ عبدالشکور صاحب سے ملکی و بین القوامی میڈیا نے رابطہ کر کے اپنے چینلز پر ان کے انٹرویوز نشر کیے جس سے ان کا تعارف دنیا بھر میں پھیل گیا۔ عین اسی ہنگام میں میاں عبدالشکور فیصلہ کرتے ہیں کہ اب الخدمت فاؤنڈیشن کو نئے خیالات، نئی جہتوں اور نئے محاذوں پر پیش رفت کی ضرورت ہے تو مستعفی ہو کر اپنی ذمہ داریاں نئے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کے سپرد کر دیں۔

چند سال پہلے جماعت اسلامی نے ملک بھر کے نوجوانوں کو منظم کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینے کے لیے "جماعت اسلامی یوتھ" کی بنیاد رکھی تو اس تنظیم کے صدر کے طور پر سابق ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ محترم زبیر گوندل کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ زبیر گوندل نے پورے ملک میں جماعت اسلامی یوتھ کو منظم کیا۔ شہر شہر، گاؤں گاؤں اور نیچے یونین کونسل کی سطح پر اس کی تنظیم کھڑی کی اور حال ہی میں مینار پاکستان پر پنجاب و خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو اکھٹا کر کے ملکی تاریخ میں نوجوانوں کا سب سے بڑا اجتماع منعقد کر کے ایک تاریخ رقم کی۔ مینار پاکستان کے پرشکوہ اجتماع کے بعد زبیر گوندل نے بھی اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو کر یوتھ کی زمام کار رسل خان بابر کے سپرد کر دی۔ اب جماعت اسلامی یوتھ کا یہ قافلہ رسل خان بابر کی قیادت میں نئی منزلوں اور نئی جہتوں کی طرف رواں دواں ہو گا۔

یہ صرف حالیہ دو مثالیں ہیں۔ جماعت اسلامی کی تاریخ ایسی سنہری مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ جہاں سیاسی و مذہبی جماعتیں ہوں یا پھر رفاہی تنظیمیں وہاں کے کرتا دھرتا سانس کی ڈوری ٹوٹتے تک اپنی گدیوں پر قابض رہتے ہیں اور مرنے سے پہلے اس بات کا خاص اہتمام کر جاتے ہیں کہ ان کے بعد یہ مناصب ان کے اہل خانہ سے باہر نہ جانے پائیں۔ جماعت اسلامی میں وراثت کی بجائے اہلیت کا معیار تقویٰ اور جماعت کے ساتھ گہرے تعلق کو ہی مانا جاتا ہے۔

جب زمہ دار سمجھتا ہے کہ اب اس کی صحت یا دیگر ذاتی امور اس کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں تو وہ اپنی جگہ چھوڑنے میں رتی بھر نہیں جھجکتا۔ اہل وطن کو چاہیے کہ اس طرح کی روشن مثالوں کی امین جماعت کو اب ملکی سطح پر بھی خدمت کا موقع دیں۔ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔ ان شاء اللہ

Comments

Click here to post a comment