ہوم << کُن فیکون اور گوگل اسسٹنٹ - مجیب الحق حقی

کُن فیکون اور گوگل اسسٹنٹ - مجیب الحق حقی

قرآن میں بہت سی باتیں سادگی سے بیان کردی گئی ہیں جو اپنے اندر ہمہ گیر علم کے پیرائے سموئے ہوئے ہیں۔ مثلاً یہی کہ اللہ کسی امر کے بارے میں ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔ ایک عام سوجھ بوجھ والے مسلمان کے لیئے یہی ایک دلیل ہے جو اسے ہر سوال سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ دوسری طرف وہ اصحاب ہیں جو ہر بات کی سائنسی توجیہہ مانگتے یا تلاش کر تے ہیں۔ آج کل الحاد کے پروموٹرز ایسے ہی نکات پر نوجوانوں کو دین سے متنفّر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارا کام یہی ہونا چاہیئے کہ ایسے نکات کی سائنسی تشریح سادہ استدلال سے کریں تاکہ طاغوت کی چالیں ناکام ہوں۔

کائنات کا بننا عقل سے ما ورا ہے کیونکہ لاشئے سے شئے میں تبدیل ہوئی ۔ یہ یقیناً کوئی ماورا ء العقل عمل انگیزی ہے جس تک انسانی سائنس ابھی پہنچ نہیں پائی۔یہاں سائنسدانوں کی ان علمی کاوشوں کی تعریف کرنا ضروری ہے جو اللہ کے تخلیق کردہ نظم کو بحیثیت نائب ِ خالق علمی طور پر اس حد تک سمجھ گئے کہ کائنات کس طرح ظاہر ہوئی اور ارتقاء کی طرف بڑھی۔ اکثر کو پتہ نہیںمگر آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ کائنات کا نیست سے ہست میں ظاہر ہونا تو سائنسی علوم سے بھی ثابت ہے۔ وہ اس طرح کہ جب سائنسداں خدا کے بغیر کائنات کی تشریح کے حوالے سے اپنی دریافتوں اور علمی کھوج میں لگے تو تمام سائنسی علوم کے تئیں اس نتیجے پرپہنچ گئے کہ کائنات نیست سے ہست میں اچانک ظاہر ہو ئی جو کہ علمی حقائق کی روشنی میں ایک سائنسی عمل ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ کائنات کے ظاہر ہونے سے قبل قانون ثقل موجود ہونا چاہئے ! اسٹیون ہاکنگ لکھتا ہے کہ: (Because there is law like gravity, the universe can and will create itself from nothing in the manner described.....) page 227, The Grand Design, Hawking نیست میں قانون ثقل کی موجودگی میں کائنات نہ صرف خود کوبنا سکتی ہے بلکہ بنائے گی اس طرح جیسا کہ(قبل میں) تشریح کی گئی۔ ( حوالہ صفحہ نمبر۲۲۷ ،دی گرینڈ دیزائن)

اپنی اسی تحقیق کی بنا پر منکر سائنسداں یہی کہتے ہیں کہ کائنات کے بننے میں خدا کی ضرورت نہیں لیکن اس میں ایک بہت بڑا جھول یہ ہے کہ نیست میں کوئی قانون تھا تووہ نیست کیسے؟ ہم اس بیان کومنطقی اور عقلی بنیادوں پر چیلنج کر سکتے ہیں لیکن حقیقت کی تلاش میں یہ اہم سائنسی نکتہ ہے کہ سائنسداں یہ تو مانتے ہیں کہ کائنات کے ظاہر ہونے سے پہلے ایک قانون یا قوّت تھی۔ اسی نکتے کو لیکر ہم آگے بڑھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسان کے لیے اس کے حواس کے تئیں کائنات نیست سے ہی منصہ شہود پر آئی لیکن سوال یہی ہے کہ کائنات بننے سے قبل نیست میںقانون ثقل کیوں موجود ہوگا؟ اور اگر ایسا ہی تھا تو اس مظہر کو نیست نہیں کہا جاسکتا۔ اس علمی کاوش میں دو مظاہر ہیں ایک کائنات سے باہر جہاں قانون ثقل تھا اور دوسرا کائنات بننے کے بعد اس کے اندر ۔ انسان کائنات پر غوراس کے اندر بیٹھ کر کررہا ہے اس لیئے تحقیق کے ضمن میں حال سے ماضی کے سفر میں انسان کائنات کی ابتدا پر پہنچے گا تووہاں کائنات کا خود بخود ظاہر ہونا ہی قرین علم ہوگا۔ اس ظہور سے قبل کے پیرائے کیونکہ طبعی طور پر انسان کے لئے نابلد ہیں اس لئے یہاں پر انسان کچھ فرض کرے گا اور ایسا ہی ہاکنگ نے کیا۔یہاں یہی نکتہ قابل غور ہے یعنی جسے ہم نیست کہتے ہیں کیا حقیقتاً وہ نیست ہے؟

اب ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے رہے کہ سائنسدانوں نے کائنات کا جومعیاری ماڈل (standard model) ترتیب دیا ہے اس میں کائنات کی چار میں سے تین قوّتیں یعنی مقناطیسی اور دو ایٹمی قوّتیں شامل ہیں لیکن چوتھی ثقل یا گریوٹی کی جگہ نہیں بنتی جبکہ واضح ہو کہ خود سائنسی تحقیق میں ثقل یا گریوٹی کا قانون کائنات کی تخلیق میں کلید ہے۔ اس سے بھی اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ اسٹینڈرڈ ماڈل بھی ایک ادھوری تشریح ہے۔ جدید سائنس اپنی تحقیقی ساخت کی بنا پر کائنات سے قبل یعنی مادّے کے ظاہر ہونے سے قبل کے کسی بھی مظہر کی بابت نہیں بتا سکتی کیونکہ کائنات بننے سے پہلے کیا ہوا یا کیا تھا اس کا جواب علوم طبعی میں نہیں ۔اسی لئے زچ ہوکر سائنسداںایک انتہائی لایعنی بات پر مصر ہیں کہ کائنات اچانک بن گئی۔ نیست سے ہست یعنی لا شئے سے شئے بن جانا کیا اتنا آسان ہے کہ اسے اچانک تخلیق کہہ کر جان چھڑالی جائے؟ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی روانی اور نظم وضبط میں پیچیدگیاں اتنی ہیں کہ ہر سوال کا جواب نئے سوالات لیکر آتا ہے۔

آئیں ہم سائنسدانوں کو ان کے مخمصوں اور تذبذب میں بھٹکتا چھوڑکر دیکھیں کہ کائنات کیسے بنی۔

کائنات کے ظہور یا تخلیق سے قبل نیست میں کیا ہوا اس کا علم طبعی نہیں بلکہ غیر طبعی یعنی روح اور وحی سے ماخوذ علوم میں ملتا ہے۔قرآن ایک حیرت کدہ کھولتا ہے کہ کائنات نہ صرف تخلیق کی گئی بلکہ اس کو پھیلایا بھی جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ کائنات کے پھیلنے کا انسان کو حال میں ہی علم ہوا جو قرآن کے پیغامِ خالق ہونے کی دلیل ہے۔کائنات جس جبلّت پر بنی وہ علم اور عمل ( ایکشن )ہے اسی لیئے ہمیں ہرذرّے اور ہر سسٹم میں علم ملتا ہے۔ اسی بنا پر انسان بھی جو کچھ بناتا ہے وہ بغیر کسی علم کے نہیں ہوتا۔ قرآن میںخالق کائنات کہتا ہے کہ کائنات کے نظام کی ترتیب میں ہمارے وقت کے مطابق چھ دن لگے۔ یعنی کُن کہنے سے قبل ایک ہمہ گیر پروگرام ترتیب دیا گیا جس میں باریک بینی سے ہر ہر ہر طرح کے سسٹمز کے پیرامیٹرز ڈیفائن کئے گئے اور جب وہ پروگرام بن گیا تو پھر اسے حکم دیا گیا تو وہ چل پڑا۔ کائنات کے پروگرام کو بنا کر اسے چلانے کے بعد اب ہر امر اللہ کی کُن کا اسیر ہے کہ اللہ ارادہ کرتا ہے کہ کوئی امر ہوجائے تو وہ ہوجاتا ہے۔ یہی تخلیق کی جبلّت ہوئی اور اسی جبلّت پر انسان کی تخلیقات جنم لیتی ہیں۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہمارا کوئی بھی کمپیوٹر پروگرام یا سوفٹ ویئر بننے میں وقت لیتا ہے لیکن پھر رَن کی کمانڈ سے چل پڑتا ہے۔انسان کا بنایا ہربڑا پروگرام بھی ہمہ گیرپیرامیٹرز رکھتا ہے جیسے ونڈوز، گوگل اور ایپل وغیرہ ۔

انسان کے رویّوں اور اعمال کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جن کی تشریح کائنات اور حیات کے خود بن جانے کے نظریئے میں نہیں ہوتی۔ خاص طور پر انسان کے تخیّل کی صفت اور تخلیق کرنے کی صلاحیت کی کوئی عقلی توجیہہ بغیر کسی خالق کے محض فلسفے اور گمان ہیںجو کوئی ٹھوس بنیاد نہیں رکھتے۔ صرف انسان میں کام کرنے کی منفرد جبلّت کہاں سے آئی جبکہ زمین بے شمار جانداروں سے بھری پڑی ہے؟ انسان کیوں تخلیقات کرتا ہے اور کیوں کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا ہے؟ غور کی بات یہ ہے کہ کائنات میں صرف انسان ہی کیوں تعمیری اور تخریبی کام کرتا ہے ؟

جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ اللہ نے انسان کو اپنا نائب بنایا تو نائب ہونا صرف اعزازی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر انسان میں وہ صلاحیتیں ودیعت ہوئیں جو تعمیر کنندہ کے شایان شان ہوتی ہیں اور یہی انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہیں۔انسان میں تخریب کے عناصر اس منفی قوّت کے اثرات کے تئیں ہے جس نے انسان کو اپنا دشمن جانا اور چیلنج کیا۔ انسان کے رویّوں میں تنوّع اس لیئے ہے کہ وہ اللہ کا نائب ہے جس نے اپنی صفات کو انسان میں جس طرح سمجھا اس پیرائے میں منتقل کیں اسی لیئے انسان انہی پیرایوں میں عمل پذیر ہے جو ایک نائب کی حیثیت سے اس کے فطری رویّے بنے۔ جیسے اللہ نے قلم تخلیق کیا اور اسے حکم دیا کہ لکھ۔ یہ اسلام میں تخلیق کا بنیادی نکتہ ہے۔ یہیں سے اللہ اور اس کے نائب انسان کاایک رشتہ استوار ہوتا ہے جو تخلیق کی جبلّت لئے ہوتا ہے۔ وضاحت یہ کہ القلم ایک سپر ہائی ٹیک پراڈکٹ تھا جو خالق کے ارادوں کے تئیں پروگرام لکھ رہا تھا یعنی ایک ہائی ٹیک مظہر جس میں قلم کا خالق کے ارادے سے رابطہ تھا جس کی بنا پر وہ لکھ رہا تھا۔نیابت کی خاصیت لئے انسان اسی طرز پر ایسے سوفٹ ویئر اور کی بورڈ یعنی قلم بنا چکا ہے کہ انسان جو بولتا ہے کمپیوٹر ویسا لکھتا جاتا ہے۔

کن فیکون:
گوگل اسسٹنٹ کیا ہے؟
یہ مصنوعی ذہانت کا حامل ایک تجریدی جاندار ہے جو آپ کے اینڈرائیڈ موبائل میں انسٹال کیا جاتا ہے۔ یہ آپ کے کئی کام آپ کے زبانی طور پر کہنے پر کرتا ہے، یہ آپ سے محدود پیمانے پر بات چیت کرتا اور سوال جواب کرتا ہے۔ یہ ایک دلچسپ ایجاد ہے جو ہمیں بہت کچھ سمجھانے کے اشارے رکھتی ہے۔ کائنات کی تخلیق اور ہست و نیست کے پیرایوں کی جان کاری اوراس کی تشریح میںیہ پروگرام ہماری مدد کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں انسان بہت سے کام کمپیوٹر سے لینے لگا ہے۔ مثلاً آپ کو پانی کی موٹر چلانے کے لیئے اب اٹھنے کی زحمت نہیں کرنی بس اپنے موبائل کو مخاطب کریں اور اس سے کہیں کہ پانی کی موٹر چلادو پھر اسی طرح اس سے کہہ کر بند کرالیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ ایک الیکٹرک سسٹم جو اینڈرائیڈ ، بلیو ٹوتھ ٹیکنالوجی، وائی فائی اور گوگل اسسٹنٹ کی مدد سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس ہارڈ ویئر سسٹم کی پانی کی موٹر کے ساتھ تنصیب کے بعد موبائل میںایک ایپ ، وائی فائی اور گوگل وائس اسسٹنٹ کے ذریعے آپ اپنے گھر کی پانی کی موٹر کہیں سے بھی محض اپنے زبانی حکم سے کھول اور بند کر سکتے ہیں۔ آپ کی آواز پر گوگل کا مصنوعی ذہانت پر چلنے والا اسسٹنٹ بیدار ہو کر آپ کے کہنے پر پانی کی موٹر کو آن اور آف کرے گا۔ بظاہر یہی لگے گا کہ ایک موبائل میں صرف یہ کہنے سے موٹر چل پڑی کہ۔۔۔ آن مائی واٹر موٹر۔۔۔ لیکن اس سے قبل ایک نظام کی تشکیل کی گئی جسے انسانی آواز سے منسلک کیا گیا۔ انسان کے حکم کوسن کر کمپیوٹراس کو انگریزی میں ڈھالتا ہے اور مصنوعی ذہانت کا سسٹم اس کو پڑھ کر اس پر عمل پیرا ہونے کا سگنل دیتا ہے جس کو پانی کی موٹر سے منسلک ڈیوائس جانچ کر موٹر آن یا آف کرتی ہے۔ ظاہر ہوا کہ ایک ہائی ٹیک سسٹم اپنے ظاہری اور چھپے پیرائے رکھتا ہے اور جن کو اس کا علم نہیں وہ نہیں جان سکتے کہ انسان کی آواز پر کوئی مشین کیسے چل پڑتی ہے۔ یہ ایک سستا سسٹم ہے لیکن اپنے اندر حیرت کے سامان اور غور کرنے والوں کے لیئے نشانیاں لیے ہے۔کوئی ایجاد اور تخلیق فطری اصول پرہی ہوتی ہے جس میں پہلے پلاننگ اور پھر تعمیر ہوتی ہے اسکے بعد اس کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ یہ جبلّت فطرت اور انسان میں موجود ہے تو اور جانداروں میں کیوں نہیں؟ اس کی وجہ انسان کی خصوصی حیثیت ہے جو سائنس نہیں قرآن بتاتا ہے کہ انسان اپنے خالق کا نائب ہے اسی لیئے خالق کی صفات کے عکس لیے ہے۔
قرآن نے کہا کہ: کائنات کا پروگرام بنایا گیا اور اس میں وقت لگا۔

قرآن نے کہا کہ خالق ہر لمحہ مصروف کار ہے یعنی ایک سنٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہے جہاں سے ہر چیز پر نظر اور کنٹرول ہے۔ یعنی پہلے کائنات کی تخلیق کا ایک ہمہ گیرپروگرام تشکیل دیا گیا جس کے بعد ایک کنٹرول روم جیسا کوئی عظیم نظام جسے عرش کہا گیا بنا اور وہاں سے کائنات کا نظام کنٹرول کیا جارہا ہے۔ یہ ایک پس پردہ انتظامی نظام ہے جو ایک منطقی اور عقلی جواز رکھتا ہے۔ یہی سنٹرل کنٹرولنگ سسٹم ایک کائناتی نظم اور انسان کے نظام ہائے تخلیقات کی جبلّت بھی اس طرح بنا کہ انسان اپنے سارے بڑے اور چھوٹے کام اسی مرکزی نظم کے پیرائے میں کرتا ہے یعنی ہر آرگنائزیشن ایک سنٹرل کنٹرول رکھتی ہے۔ یہ پہلو بھی یاد رکھیںکہ انسان جس کائناتی سپر سائنس میں زندہ ہے اس میں ایسے نجانے کتنے سسٹم اس کے اطراف عمل پذیر ہیں جو مختلف کام انجام دے رہے ہونگے ان میں ایک ہمارے اعمال کی ریکارڈنگ بھی کر رہا ہوگا!

ہم نے جانا کہ اسلام اور قرآن یعنی پیغام ِخالق نے تحقیق و تخلیق کے جو اصول طے کر دیے ان پر ہی انسان کے اپنے معاملات انجام پذیر ہورہے ہیں۔ اگر کائنات کا کوئی خالق نہیں ہوتا تو انسان خود بھی کسی نظم میں مقیّد نہیں ہوتا۔اللہ نے ایک پروگرام بنایا تو انسان سے بھی کہا کہ تمہارے لیئے وہی ہے کہ جس کی کوشش کروگے۔ یعنی عمل بھی کائنات کی جبلّت بنا۔

اس مطالعہ سے یہ اہم نکتہ بھی آشکارہ ہوا کہ اللہ نے انسان کو اپنا نائب بنایا تو اس کو عملاً دکھا یا بھی کہ تخلیقات کے پیرامیٹرز کیا ہیں۔ انسان کی ترقّی میں آپ کو پلاننگ ملے گی جیسی کہ کائنات کی تخلیق میں ہوئی یعنی ہر کامیاب کام پلاننگ کر کے ہوتا ہے، ہر پراوجیکٹ کا ایک انچارج ہوتا ہے جو مرکزی منتظم ہوتا ہے۔مگر جو اہم بات انسان کو نہیں بتائی گئی وہ ایساعلم ہے جو نیست میں شئے کو تخلیق کرکے ہست بناتا ہے یا ظاہر کرسکتا ہے۔ کیا کبھی انسان کائنات کی تخلیق کے اس راز کو اپنے علم اور اللہ کی رضا سے پا جائے گا؟ کیا انسان کائنات کے مجوّزہ ماڈل میں ثقل کے قانون داںکو اپنے علم سے پہچان لے گا؟ کیا یہی وہ دوراہا تو نہیں ہوگا جہاں اللہ کے فرمان کے بموجب انسان کے سامنے اللہ کی حقیقت کبریٰ آشکارہ ہوجائے گی اور وہ کہہ اٹھے گا کہ یہی سچ ہے،اور کیا سچّائی کی یہ قبولیت انسان کے زمین پر اللہ کاخلیفہ بننے کی حقیقی تکمیل بھی نہ ہوگی؟ کیا پھر ہست کا جواز ختم ہوجائے گا؟ ذرا سوچیں

Comments

Click here to post a comment