ہوم << تعمیر معاشرہ میں دینی مدارس کا کردار - ڈاکٹر حافظہ خولہ علوی

تعمیر معاشرہ میں دینی مدارس کا کردار - ڈاکٹر حافظہ خولہ علوی

کائنات میں مدرسہ اول کی بنیاد عرشِ عظیم پر رکھی گئی تھی۔ اس کےپہلے طالب علم حضرت آدم علیہ السلام تھےاور معلم اول خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ تھے. چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَعَلَّمَ آدَمَ الْاَسْمَاء کُلَّہَاثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰئِکَۃِ" (سورۃ البقرہ: 31) ترجمہ:" اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام بتائے، پھر مقابلے کے لیےفرشتوں پر پیش کیا۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک استاد اور ایک ہی طالب علم ہو تو بھی مدرسہ قائم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا قدیم ترین اور مدرسہ اول کی بنیاد آسمانوں پر رکھی گئی تھی۔

میں نے اسکول، کالج، اور یونیورسٹی میں پڑھا بھی ہے اور پڑھایا بھی ہے۔ کالج میں انٹر میڈیٹ اور ڈگری کلاسز کو پڑھانے کا مجھے تجربہ حاصل رہا ہے۔ اس کے علاوہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی ہے۔ بالکل ابتدائی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور دوسری دینی تعلیم بھی حاصل کی۔ پھر میں نے دینی مدارس میں پڑھایا بھی ہے اور انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھالی ہیں۔ سکول و کالج اور دینی مدارس کے ماحول میں یقیناً بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ لیکن بہترین سکول میں بھی تربیت کا جو معیار ہوتا ہے ، عموماً اسلامی مدارس میں اس سے بہتر تربیتی سسٹم ہوتا ہے۔ اور تعلیم پر بھی بہت محنت کی جاتی ہے۔ بلاشبہ دینی مدارس کا کردار تعمیر معاشرہ میں بہت اہم ہے!!!

وہ جگہ جہاں مختلف قسم کے لوگ مل جل کر رہتے ہوں، معاشرہ کہلاتی ہے۔ اور ہر معاشرہ کی اپنی ثقافت اور تہذیب و تمدن ہوتی ہے جن سے اس قوم کی شناخت ہوتی ہے. ایک قوم کے افراد جب مدتوں ایک سرزمین پر مل جل کر رہتے ہوں تو ان کے اندر مشترکہ اقدار و روایات، رسوم و رواج، طرز زندگی، عائلی قوانین، تفریحات، کھیل اور آرٹ و فنون وغیرہ کے اصول و قواعد دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کی علاقائی ثقافتوں پر جنوبی ایشیا میں پروان چڑھنے والی اسلامی اقدار کے اثرات نمایاں ہیں۔

معاشرے کی تشکیل میں سب سے عظیم اور اہم ترین کردار "مذہب" کا ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں عیسائیت کے پیروکار ہوں گے تو معاشرے پر عیسائیت کے اثرات نمایاں نظر آئیں گے اور اگر معاشرہ اسلام کے ماننے والوں پر مشتمل ہوگا تو اس معاشرہ میں اسلام کے احکامات اور خدوخال پر واضح طور پر عمل درآمد ہوتا دکھائی دے گا۔ اس کے علاوہ "تعلیم" بھی تعمیر معاشرہ میں بہت اہم کردار کی حامل ہوتی ہے۔

خاتم النبیین، نبی معظم، رہبر اعظم ﷺ پر نازل ہونے والی اولین وحی تعلیم کے متعلق تھی۔ اس کے بعد رسول اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ کے قریب ایک صحابی حضرت ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہ کے گھر میں"دار ارقم" کےنام سے ایک خفیہ مدرسہ قائم فرما دیا۔ یہ مکہ مکرمہ میں اسلام کی پہلی درس گاہ تھی۔ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے باقاعدہ طور پر جس مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی تھی، وہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں سے خاتم النبیین ﷺ کی زیر قیادت "صُفہ" کے نام سے قائم ہوئی. جس نے بعد میں انٹرنیشنل یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کر لی۔ نبی آخر الزماں ﷺ خود معلم تھے اور ہر عمر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دین کے طالب علم تھے۔

نبی کریم ﷺ نے "نبی امی" ہونے کے ناتے دنیا میں کسی استاد سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی بلکہ آپ کی تعلیم وتربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی، جیساکہ قرآنِ کریم میں ارشادہے: "وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَم۔" (النساء :113) ترجمہ: اور اس (اللہ) نے آپ کو وہ تعلیم دی جو آپ نہیں جانتے تھے۔" قرآن مجید میں مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم۔" (القلم: 4) ترجمہ: "اور بلا شبہ آپ اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں۔"
حسن یوسف، دم عیسی، یدبیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری

اس لیے نبی مکرم ﷺ اعلیٰ ترین اور کامل معلم تھے۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہترین طلبہ تھے جنہوں نے تعلیم و تربیت کا اعلیٰ ترین اور بے مثال معیار قائم کیا۔ صُفہ جیسی عظیم اور منفرد درس گاہ آج تک نہ کوئی بنا سکا ہے، نہ بنا سکے گا۔ دینی مدارس کے طلبہ وطالبات، معلمین و معلمات، مبلغین ومبلغات، حفاظ وحافظات، قراء وقاریات، خطباء کرام، علماء کرام، مفتیان دین اور مشایخ عظام وغیرہ اصحابِ صُفہ اور علومِ نبوی کے وارث و امین ہیں۔ اور دینی مدارس اسلام کی پہلی یونیورسٹی کی شاخیں Branches) ہیں۔ درحقیقت تعلیم وہی ہے جس کی ابتدا آسمانوں میں حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور جس کی انتہا "صفہ"میں ہوئی، جو انسان کو رب تعالیٰ کا فرمانبردار اور "خلیفہ فی الارض" بننے کا رنگ ڈھنگ اور ہنر سکھاتی ہے۔ لیکن پھر وقت کے ساتھ تعلیم کو بھی دینی اور دنیاوی تعلیم میں تقسیم کر دیا گیا۔ دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کامذاق اڑاتے ہیں کہ "دینی مدارس جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں" تو یہ اور اس طرح کے دیگر الزامات سراسر بے بنیاد ہیں جو دینی مدارس اور دینی تعلیم پر لگائے جاتے ہیں۔

عملی طور پر دیکھا جائے تو سکول، کالجز، یونیورسٹیاں، عدالتیں، پارلیمنٹ، نوکریاں، افسری، بزنس وغیرہ سب ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جو دنیاوی طور پر اعلیٰ اور دنیاوی تعلیم یافتہ ہیں لیکن مدارس ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جنہوں نے مشکلات میں زندگی بسر کی۔ لوگوں سے مدد طلب کرکے، فنڈ وغیرہ اکٹھے کر کے دینی مدارس تعمیر کیے اور ان کو چلایا۔ جیسا کہ در یتیم اکرم ﷺ نے اسلام کے ہر مشکل وقت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو ترغیب دلاکران کو بخوشی فنڈ دینے پر آمادہ کیا اور مسلمانوں سے خود بھی بھرپور تعاون کیا اور صحابہ کرام سے بھی کروایا۔ یہ غریب اور دین دار مدارس بنانے اور چلانے والوں کی Input ہے. اور ان کی Output یہ ہے کہ جن مقاصد کے لیے یہ مدارس بنائے گئے ہیں، ان کو یہ احسن طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مدارس طلبہ و طالبات دونوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کر کے انہیں ملک و ملت کا مفید شہری اور امت مسلمہ کا نافع اور باعمل مسلمان بنانے کی سعی میں مصروف عمل رہتے ہیں۔

علماء کرام اور فقہاء دین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت کو قرآن و سنت کی تعلیمات سےکم از کم اس حد تک آراستہ ہونا ضروری ہے کہ وہ پاکی و ناپاکی اور حلال وحرام میں تمیز اور فرق کر سکیں . یہ ان کے دینی فرائض میں شامل ہے۔ اور مسلمانوں کی مذہبی قیادت اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے کہ وہ مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو ضروری دینی تعلیمات دلوانے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کریں اور مختلف ممکنہ اقدامات پر عمل پیرا ہوں۔

عام حالات میں کوئی ایسی نماز نہیں ہوتی جس کی امامت کے لیے امام نہ ملے۔ کوئی اذان ایسی نہیں ہوتی جسے دینے کے لیے مؤذن نہ ملے۔ کسی کو یہ مسئلہ نہیں ہوتا کہ اذان اور نماز کے لیے مؤذن اور امام موجود نہیں۔ کوئی جنازہ ایسا نہیں ہوتاجسے پڑھانے کے لیے امام نہ ملے۔ کسی کو شکایت نہیں ہوتی کہ بچے کو حفظ کروانے کے لیے کوئی حافظ وقاری نہیں ملتا۔ کسی کو مسئلہ نہیں ہوتا کہ بچے کو دینی علوم سکھانے کے لیے کوئی عالم نہیں ملتا۔ الحمد للّٰہ کہ دینی مدارس اپنی ذمہ داریاں بحسن وخوبی سر انجام دینے میں مکمل طور پر کامیاب ہیں اور ہمیشہ کامران رہیں گے۔ ان شاءاللہ۔ ماہ رمضان میں مساجد میں نماز تراویح کی ادائیگی کے لیے حافظ نہیں ڈھونڈنا پڑتا بلکہ خود حافظ کو مسجد ڈھونڈنی پڑتی ہے۔مساجد میں بھی حافظ نماز تراویح کی امامت کرواتے ہیں اور کثرت تعداد کی وجہ سے جابجا گھروں میں بھی حفاظ کرام تراویح کی امامت کرواتے نظر آتے ہیں۔ دینی مدارس کا یہ کردار ہمارے معاشرے میں صرف اذان، نماز، جنازہ اور تراویح تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر وقت، ہر جگہ اور ہر قدم پر یہ ادارے ہماری رہنمائی کے لیے فعال کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ سبحان اللہ
بقول شاعر
قسمتِ نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں

یہ دینی مدارس جہاں اذان و نماز کی ادائیگی باقاعدگی سے کرواتے ہیں، وہیں پر یہ لوگوں میں اتحاد و یگانگت بھی پیدا کر تے ہیں۔ نماز میں تمام نمازی پاؤں سے پاؤں اور کندھے سے کندھا ملا کر، ہر طرح کا فرق مٹا کر ایک صف میں کھڑے ہو کر ایک امام کے پیچھے نماز باجماعت ادا کر تے ہیں۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

یہ مدارس معاشرہ کے لوگوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتے ہیں، حلال و حرام، پاکی و ناپاکی، اور حق و باطل کی تمیز اور فرق سکھاتے ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہیں، اپنی کاوشوں اور کارکردگی کی وجہ سے ملک و ملت کے ارتقاء کا سبب بنتے ہیں۔ ان دینی مدارس میں صبح وشام دروس قرآن وسنت سے مسلمانوں کے دلوں کو ذکر الٰہی سے گرمایا اور آباد رکھا جاتا ہے۔ کسی جگہ کوئی عالم یا معلمہ خطاب کرنے کے لیے آئیں تو بہت سے لوگ دین کی باتیں سننے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن اگر اسی جگہ پر کوئی ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ یا سائینسدان کھڑے ہو کر خطاب کرنے لگے تو اس کی گفتگو کو سننے کے لیے ویسا جم غفیر اکٹھا نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدان اور دنیاوی سکالرز اپنے مسائل کے حل کے لیے ان مساجد ومدارس میں آکر علمائے کرام اور مفتیان دین سے اپنے مسائل کے حل دریافت کرتے ہیں. نکاح، طلاق، شادی بیاہ، مرگ اور دیگر احکام شریعت وغیرہ کے متعلق صحیح اور واضح احکامات جانتے اور ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ یہ مدارس مسنون طریقہ دَم کے ذریعے نہ صرف لوگوں کی جسمانی و نفسیاتی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں بلکہ روحانی امراض قلب (مثلاً چغلی، غیبت، حسد، بغض، کینہ، حرص و طمع، لالچ ، مفاد پرستی وغیرہ) کے مریضوں کو بھی شفا یاب کرتے ہیں۔ یہ ایسے باکمال و باہمت لوگ ہیں کہ معاشرے میں ہر قسم کے حالات میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ کبھی ہڑتال نہیں کرتے کہ پہلے ہمارے مطالبات پورے کیے جائیں، ہماری تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے کیونکہ ہمارے اخراجات پورے نہیں ہوتے، پھر ہم کام کریں گے۔ نہیں، بلکہ یہ لوگوں کی طعن و تشنیع، حقارت بھری نگاہیں اور غلط رویے بھی برداشت کرتے ہیں اور رضائے الٰہی کی خاطر ہمیشہ آن ڈیوٹی رہتے ہیں۔

بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ دینی مدارس کی ان تمام خدمات کے باوجود ہمارے معاشرے میں دینی تعلیم کے اساتذہ اور طلبہ دونوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ اور جب اسلامی مدارس کے طلبہ اور عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ایک دوسرے کے مقابل آتے ہیں تو اس وقت اسلامی مدارس کے طلبہ اعتماد کی کمی کی وجہ سے عصری طلبہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لیکن اگر دینی تعلیم کی عظمت و اہمیت طلبہ کے ذہنوں میں بٹھا دی جائے تو یہ کمی کافی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ دینی علوم کے طلبہ جب اسکول وکالج کے طلبہ کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو خود بھی وہ اعتماد کی کمی کی وجہ سے خود کو ان سے کم تر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ محنت اور ذہانت و فطانت میں کم نہیں ہوتے۔ لیکن ان میں اتنی قابلیت اور ہمت و حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے علم کی اہمیت وعظمت کو ان کے سامنے بیان کر سکیں۔ یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کو کنٹرول کر لینے کی صورت میں مدارس کے بہت بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

جدید تعلیم میں استاد صرف استاد ہوتا ہے اور اس کا کام صرف تعلیم دینا ہوتا ہے۔ اس کا طلبہ کی تربیت سے زیادہ تعلق نہیں ہوتا جبکہ دینی تعلیم میں استاد اپنے طلبہ کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت بھی رکھتا ہے جسے طلبہ نے تعلیم و تربیت دونوں لحاظ سے copy کرنا ہوتا ہے اور اس پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دینی مدارس کو تعلیم کے جدید ذرائع سے بھی استفادہ کرنا چاہیے۔ جو وسائل و ذرائع جائز ہو اور جن سے اساتذہ مطمئن ہوں، ان کو دینی تعلیم کی و تربیت اور تحقیق و تخریج میں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دینی مدارس کے اساتذہ کرام کی مناسب تربیت کا انتظام و انصرام بھی ہونا چاہیے۔ کیونکہ دوسروں کو پڑھانا یا تعلیم دینا یہ ایک الگ اور مستقل فن ہے اوریہ بات ضروری نہیں ہے کہ ایک اچھا طالب علم یا عالم بندہ ایک اچھا استاد بھی ہو۔ لہذا اساتذہ کی علمی و فکری کے ساتھ ساتھ ان کی فنی راہنمائی بھی ضرور ہونی چاہیے۔

دوسری طرف یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے دینی مدارس کی بہت واضح کامیابی یہ ہے کہ بیرون ممالک سے مسلمان یہاں آکر دینی تعلیم حاصل کر تے ہیں۔ اور ہمارے دنیاوی تعلیمی اداروں کی ناکامی یہ ہے کہ لوگ دنیاوی تعلیم کے حصول کے لیے خود بیرون ممالک جاتے ہیں۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال مرحوم نے دینی مدارس کی اہمیت اور علماء کرام کے کردار کے حوالے سے یہ حکیمانہ باتیں بیان فرمائی ہیں کہ: "ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو۔ اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟

جو کچھ ہوگا، میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں. اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں ہوا ۔مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔”

یہ اسلامی مدارس کل بھی آباد تھے، آج بھی آباد ہیں اور قیامت تک شاد و آباد رہیں گے۔ اس لیے کہ ان میں قرآن و سنت کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ رب العزت نے لے رکھی ہے۔ اس لیے ہمارا ایمان و یقیں ہے اور تاریخ بھی اس پر گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تاقیامت قرآن مجید کی حفاظت کرتے رہیں گے اور اس کی حفاظت کے ذرائع و اسباب کی بھی نگہبانی فرمائیں گے۔ ان شاءاللہ۔

Comments

Click here to post a comment