عجب ہے انسان - ماریہ صفیہ

عجب ہے انسان، بے قراری ہے۔

آج خوش ہے تو کل مقدر غم خواری ہے۔

خدایا محبتوں کے سائے میں رکھنا

ہمیں حقیقت معلوم ہے ، پھر بھی امید رکھنا۔

عجب خواہش ہے صدا خوش رہیں!

نا کہ بظاہر ہنستے ہوئے سو زخم ہرے رہیں!

اچھے پرخلوص لوگوں سے ملو تو دل انکا ہوتا ہے۔

ہمیشہ خوشیوں ،تمناوں میں ذکر انکا رہتا ہے۔

انسان محبت و اخلاق کی روانی ہے

پھر کبھی خود کی کبھی محبوب کی قربانی ہے۔

ہمیں کیا ہوگیا ہے, خیر دل کچھ عجب ہوا ہے
لگتا ہے کسی ساتھی پہ دل فدا ہوا ہے۔

عداوتیں بھی خدا کی خاطر اور محبتیں صرف خدا کی خاطر

چلو سنبھالو ان محبتوں کو آرام سے سنبھال کے۔۔

کیوں ہر شے میں ہے جدائی کی ہے روایت

مجھے یقین ہے کہ نہ ہوگی جنت میں کوئی ایسی ساعت

مجھے آزمائش میں ڈال دے تو اے خدا!

لیکن یہاں کی خواہش کو وہاں جنت میں کرلے قبول۔!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */