ریلوے کی اپ گریڈیشن تاخیر کا شکار - پروفیسر جمیل چودھری

جو بھی منسٹر ریلوے میں آتاہے۔ریلوے کی اپ گریڈیشن کی باتیں کرکے چلاجاتا ہے۔ شیخ رشید نے بھی قوم کوایسی باتیں سنا کر خوش کرنے کی کوشش کی۔اعظم سواتی صاحب نے تو آکر ریلوے کوبندکرنے کی باتیں شروع کردیں۔حکومت کی طرف سے اصل بات نہیں بتائی جارہی۔ریلوے کے ایم۔ایل۔ون سمیت باقی اورپروجیکٹ پربھی کام تیزی سے نہیں ہورہا۔سپیشل اکنامک زون بھی بنتے نظر نہیں آتے۔صرف ان پروجیکٹس پرکام ہورہا ہے۔جس پر کاروائی گزشتہ حکومت کرگئی تھی۔ایسا لگتا ہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت اورچینی حکومت کے درمیان کچھ باتیں واضح نہیں ہیں۔ایم۔ایل۔ون سی پیک کا سب سے بڑا اور مہنگا پروجیکٹ ہے۔ یہ6۔بلین ڈالرسے زیادہ میں مکمل ہونا ہے۔

پاکستان میں یہ باتیں گردش کررہی ہیں کہ چین اضافی گارنٹی چاہتا ہے۔لیکن حکومت پاکستان مزیدکسی شرط کوماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔اب یہ باتیں سامنے آرہی ہیں کہ چین ایم ۔ایل۔ون کے حوالے سے فنانسنگ میں تبدیلی چاہتا ہے۔پشاورریلوے سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے بتایا کہ "زمین پرایم۔ایل۔ون کے سلسلے میںکوئی کام ہوتا نظر نہیں آتا۔"اورپلاننگ کمیشن کے ایک متعلقہ آفیسر نے بتایا۔"یہ پروجیکٹ2016ء میں شروع ہوناتھا۔پھرکچھ دوسرے پروجیکٹس کے آنے سے اس میں تاخیر ہوئی۔پھریہ بتایاگیا کہ پروجیکٹ جنوری2021ء میں شروع ہوگا۔اب پھر تاخیر ہورہی ہے۔اب کہاجارہا ہے کہ اس کی فنانسنگ کے بارے دونوں ملکوں میں بات چیت ہورہی ہے۔اورمنصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے"۔کچھ لوگ کہتے ہیں6۔بلین ڈالرقرض پرسود کی شرح میں اختلاف ہے۔چین اس شرح میں اضافہ چاہتا ہے۔ایم ۔ایل۔ون پر شرح سود کچھ عرصہ بیشتر ایک فیصد طے ہوئی تھی۔یہ بہت کم ہے۔اس پروجیکٹ کے لئے چینی کمپنیاں اپنے ملک کے کمرشل بنکوں سے قرض لے رہی ہیں۔اس حوالے سے1۔فیصد شرح سود بہت کم ہے۔پاکستان نے2.38۔فیصد کی پیش کش کی ہے۔لیکن چین نے ابھی تک اس پیش کش کاجواب نہیں دیا۔سی پیک کمیٹی کے رکن کبیراحمد کہتے ہیں کہ ایم۔ایل۔ون اورسپیشل اکنامک زونز پرکام رکاہوا ہے اورچین موجودہ حکومت کے ساتھ خوش نہیں ہے۔یہ ہوسکتا ہے کہ سرکاری طورپر پروجیکٹس کی شرح سود پر بات ہورہی ہولیکن حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ کی کمیٹی کوبھی نہیںبتایاجارہا۔ایک رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ چین اب مزید رقومات سی پیک پرخرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اصل میں مسٔلہ اس وقت بگڑا جب موجودہ حکومت نے ملتان۔کراچی موٹروے کے کام پرکرپشن کاالزام لگایا۔یہ منصوبہ چینی کمپنی نے مکمل کیا تھا۔یہ بات چین کوناگوار گزری۔مغربی روٹ اورگوادر کے منصوبوں پرجس تیزی سے کام ہوناتھا۔وہ نہیں ہورہا۔ہرجگہ سست روی نظرآرہی ہے۔ملتان۔سکھر موٹروے کچھ عرصہ پہلے مکمل ہوگئی تھی۔

اس کاباقاعدہ افتتاح بھی نہیں ہوا۔اپوزیشن کے ارکان تمام ملبہ موجودہ عمران حکومت پرڈال دیتے ہیں۔حکومت اپنے طورپر سچ ظاہر نہیں کررہی۔ہمیں باہر سے کسی اور ملک سے بڑی سرمایہ کاری کی توقع نہیں ہے۔صرف چین ہی سے بڑی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔ریلوے کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔آئے دن حادثات کی خبریں چلتی رہتی ہیں۔ایک حادثے میں کروڑوں کانقصان ہوتا ہے۔جانیں چلی جاتی ہیں۔سابقہ وزیرریلوے کے زمانے میں بے شمار حادثات ہوئے۔کوئی بھی ذمہ داری لیکر استعفے دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔پشاور تاکراچی ریلوے جسے ایم۔ایل۔ون کہاجاتا ہے اس کابنیادی ڈھانچہ انگریزوں کے زمانے کابناہوا ہے۔ایک صدی کاعرصہ گزر گیا ہے۔دنیا میں ریلوے نے بہت ترقی کی ہے۔ہماری پرانی ریلوے صرف50تا 60کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔جب کہ دوسرے ملکوں میں300کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ریلیں دوڑ رہی ہیں۔انہی کے لئے بلٹ ٹرین کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔اگریہ منصوبہ مکمل ہوجائے تو ہمارے ہاں بھی ریلوے کے حالات کافی بہتر ہوجائیں گے۔ٹرین کی رفتار120۔کلومیٹر تک ہوسکتی ہے۔حکومتوں اورمحکموں کی نااہلی یہاں بہت واضح ہورہی ہے۔پاکستان بننے سے پہلے مغل پورہ لاہور ریلوے ورکشاپ میں بوگیاں اورانجن بنانے کی صلاحیت تھی۔لیکن دوسرے محکموں کی طرح یہاں بھی زوال نے ہرچیز تباہ کردی۔پھرپاکستان نے بوگیاں بنانے کی فیکٹری راولپنڈی اورانجن بنانے کا کارخانہ رسالپور میں لگایا۔عوام جانتے ہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ تمام اشیاء باہر سے منگوائی جارہی ہیں۔

ہماری سرمایہ کاری مکمل طورپر تباہ وبرباد ہوچکی ہے۔کوئی بھی وزیر اورافسر ان اثاثوں کواپنا سمجھ کرحفاظت نہیں کرتا۔حکومتیں بھی پرانے اثاثوں کوخود اپ گریڈ کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتیں۔حکومتیں ایسے کاموں کی طرف توجہ دیتی ہیں جس سے آئندہ الیکشن میں فائدہ ہو۔گزشتہ حکومتوں میں سے کسی نے بھی ریلوے کو بہتر کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔نواز شریف کوبھی موٹرویز بنانے کاشوق ہے۔وہ اگر چاہتے تو ایم۔ایل۔ون ان کے زمانے میں شروع ہوسکتاتھا۔اوراب تکمیل کے قریب ہوتا۔لیکن سڑکوں کے جال کی طرف توجہ دی گئی۔ریلوے ہردورمیںزوال پذیری کی طرف جاتی رہی۔اگرسابقہ حکومتیں فنڈز مختص کرتیں تو اپنے ہی انجینئرز اسے اپ گریڈ کرسکتے تھے۔اگرچین نے بھی اس منصوبے میں دلچسپی ترک کردی توپھر ریلوے کامحکمہ ہی بند کرنا پڑے گا۔ہرکام کے لئے چین کی طرف دیکھنا بھی مناسب نہ ہے۔پاکستانیوں کوکچھ خود بھی کرنا چاہئے۔حکومت ایم۔ایل۔ون منصوبہ جلد شروع کروائے۔شرح سود پر اختلافات کوحل کرے۔اورگراؤنڈ پرکام ہوتا نظر آئے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */