"پاکستان میں الحاد کا بڑھتا رجحان اور علماء و حکمرانوں کی خواب غفلت" - محمد وسیم خان مفکری

"نسلِ نو الحا د کی جانب ہوئی مائل مگر "

"مولوی اور حکمراں سنتے رہے سوتے رہے"

"محمد وسیم خان مفکری"

احادیث و روایات کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب عقل کو خلق کیا تو احسن الخالقین خدا نے اپنی اس تخلیق پر فخر کیا اور عقل کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ تجھ سے بڑھ کر کوئی مخلوق مجھے محبوب تر نہیں ہے اور عقل کو اپنی بہترین مخلوق قرار دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بہشت سے نکالے جانے کے بعد انسان مسلسل ارتقاء کے منازل طے کیے جارہا ہے اور اسی راہ پر مستقبل میں بھی گامزن رہے گا۔ لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ ہر نبی کو ایک ہی پیغام کے تحت بھیجا گیا اور وہ پیغام "لا الہ الا اللہ" کا پیغام تھا کہ تمام انبیاء نے آدمؑ سے لیکر خاتمﷺ تک اپنی زندگی اسی پیغام کی تبلیغ میں صرف کی ۔ان مراحل میں انکو مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ،اذیتیں سہنا پڑی،مصائب و آلام کا سامنا کیا لیکن اس پیغام حق سے پیچھے نہ ہٹے ۔لیکن اتنی تکالیف سہنے کے باوجود انسان نے اپنی لجاجت اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور اس پیغام کو سو میں سے پچاس فیصد لوگوں نے اس پیغام حق کو قبول کیا یا اگر سب نے قبول کیا تو اپنے مطلبی ہونے کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے مصائب سے نکلنے کے بعد اس پیغام حق سے روگردانی کی اور تاریخ گواہ ہے کہ دوبارہ یا تو گوسالے کی پوجا کرنے میں مشغول ہوئے یا پھر بتوں کو اپنا خدا جانا۔

انبیاء کا یہ سلسلہ امر الہٰی سے قائم رہا اور نوبت یہاں پہنچی کہ اللہ نے اپنے محبوب ،سرور کونین حضرت محمد مصطفیﷺ کو مبعوث بہ رسالت کیا اورنہ صرف امت مسلمہ پر بلکہ جہان انسانی پر منت گذاری اور احسان کیا ۔اسی وجہ سے اللہ فرماتا ہے "لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔ (العمران ۱۶۴)"بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہےاور انھیں پاک کرتااور انھیں کتاب و حکمت سکھاتاہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے" ۔ اللہ رسول اللہ کی بعثت کو اپنے بندوں پر احسان گنوا رہا کہ تم جو کھلی گمراہی میں تھے ،جاہلیت کے زمانے میں زندگی گزار رہے تھے، زندگی کا ڈھنگ نہیں آتا تھا ،یہی نبی ﷺ آیا جس نے تمہیں زندگی کے چال چلن سے آگاہ کیا اور آج اگر تم مہذب کہلاتے ہو تو اسی رسول ﷺ کی برکت سے ہے۔ لیکن زمانہ گزرا رحلت رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں کے گمراہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا اور وجہ یہ تھی کہ جو اصول و ضوابط رسول خدا نے بتلائے مسلمان انکو بھولتے چلے گئے تاریخ کے اوراق کو پلٹنے کی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ جنہوں نے پورے عرب میں اپنی دھاک بٹھائی تھی ، بعد از رسول کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ بجائے اسکے کے دشمن کیلئے صف بندی کی جائے آپسی اختلافات شروع ہوگئے اور تاریخ نے ان سب چیزوں کو کچھ حقائق اور کچھ ملاوٹ کے ساتھ ثبت کیا ۔ یہی تاریخ آج کے زمانے میں پہنچی تو کافی لوگوں کے تذبذب کا پیش خیمہ بنی اور مختلف سوالات جنم لینے لگے ۔ اسکے ساتھ ساتھ رسول اللہ ، اہلبیت اطہار ؑ اور اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین کے بیان کردہ علوم کو ترک کرنے کی وجہ سے امت مسلمہ عقائد کے میدان میں کافی پسماندہ ہوگئی اور یہی پسماندگی سبب بنی کہ نئے زمانے کے تحت نئے سوالات نے جنم لیا اور لوگ بکھرنے لگے۔

مختصر سے مقدمے کے بعد اس بات کی جانب توجہ مبذول کرانا لازمی ہے کہ زمانے کی پیشرفت کے ساتھ ساتھ انسان کی فکر بھی ترقی کے منازل طے کررہی ہے اور مختلف سوالات چاہے وہ شرعی ہو یا غیر شرعی کو جنم دے رہی ہے۔ اور علم نفسیات کے مطابق صحت مند فکر کی نشانی یہی ہے کہ وہ سوالات کو جنم دے ۔ اب ان سوالات کے جوابات اگر مطمئن کنندہ مل جائے تو انسان منحرف ہونے سے بچ سکتا ہے لیکن اگر یہی سوالات بغیر جوابات کے ذہن میں موجود ہوں اور اگر جوابات ملتے بھی رہے تو قانع کنندہ نہ ہوں تو یہ سوالات الجھن و اضطراب کا موجب بنتے ہیں۔ دور حاضر میں عقائد سے ناواقفیت ایک ایسا مسئلہ ہے جو ایک مسلمان کو کہ جو جستجو کرتا ہو اور دلیل و برہان کی دنیا سے تعلق رکھتا ہو اور یہ چاہتا ہو کہ اسےہر بات کی دلیل دی جائے کو جہنم کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہے۔ چونکہ جو مسلمان فقط مسلمان ہے اور تدبر و تفکر سے اسکا تعلق نہیں اسکا درجہ بہ نسبت اس مسلمان کے جو تدبر و تفکر کے ذریعے اس دین کو پہچان رہا ہے بہت چھوٹا ہے۔قرآن میں جگہ جگہ انسان کو فکر کی دعوت دی گئ ہے کہ اے انسان تو کیوں فکر نہیں کرتا کہ اگر تو فکر کرے اور دنیا کی موجودات کا بغور مشاہدہ کرے تو یقینی بات ہے کہ تو ایک ایسی ہستی کو کار فرما پائے گا جو ان تمام مخلوقات کا خالق ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ پر مغربی یلغار کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ اگر وہ تفکر کرتے ہیں تو مغربی نظریات کا سہارا لے کر تفکر و تدبر کرتے ہیں اورفطری عمل ہے کہ اگر آپ محض ایک ہی جہت سے مطالعہ کریں یا فکر کریں تو وہی چیز ذہن پر غالب ہوگی۔ اسلام فکر و تدبر سے نہیں روکتا لیکن ایک مسلمان جو فکر کی بستی میں قدم رکھنے جارہا ہے اسے کچھ اصول اور حدود کا خیال رکھنا لازمی ہے ۔ ان حدود و قیود کا مقصد ہرگز انسان کی فکر کو محدود کرنا نہیں بلکہ انسان کو گمراہی سے بچانا ہے۔ہوسکتا ہے کسی روشن فکر کی جانب سے یہ اعتراض ہو کہ یہ مسلمانوں کی تنگ نظری ہے اور وہ دیگر نظریات کو تسلیم نہیں کرتے تو ایسا بالکل نہیں ہے کہ اسلام یہ سکھاتا ہے۔لیکن اسلام ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ انسان گمراہی کی راہ پر چلے اور جو اسلام نہیں چاہتا مسلمان بالکل اسکے برعکس کررہے ہیں اور ۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بہت سرعت سے الحاد کی جانب گامزن ہے۔

لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جہاں پاکستان کے بڑے بڑے معروف علماء توہین رسالتﷺ اور توہین اہلبیت ؑ و صحابہ پر ملک کے چپےچپے کو بند کردیتے ہیں اور ملک کے وہ مقتدر حکمران جو توہین رسالتﷺ یا توہین صحابہ ؓ پر قوانین پاس کرتے ہیں وہ کیا ملک میں الحاد کی اس رفتار کو ملاحظہ نہیں کررہے ۔ کیونکہ مسلمان کے عقیدے کے مطابق سب سے پہلا جز تو اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے ،پھر رسالت کا اقرار ہے ۔لیکن اگر کوئی شخص توہین رسالت کا مرتکب ہو تو جہاں حکمرانوں اور علماء کو چاہئے کہ اس شخص کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کرے وہی اس شخص کو بھی باقاعدہ طور پر قانون کے کٹہرےمیں لاکھڑا کرنے کی ضرورت ہے جو وحدانیت خدا پر انگشت درازی کرے اور توہین وحدانیت خدا کا مرتکب ہو۔گرچہ قوانین موجود ہیں لیکن پھر بھی یہ بڑھتی ہوئی تعداد کا تدارک کیسے ممکن ہے؟۔اور کیونکر یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے اور سر عام کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ؟۔ بندہ ناچیز کی نگاہ میں چند وجوہات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی کا غلط استعمال: پاکستان میں چند دہائیوں سے فریڈم آف سپیچ یا فریڈم آف ایکسپریشن یعنی اظہار رائے کی آزادی کے مختلف تحریکیں چلی ہیں اور خاص کر صحافی حضرات اور مصنفین نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ لیکن اظہار رائے کی آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص ہر وہ بات کہنے کا حق رکھتا ہے جو اسکی منشاء ہے چاہے اس بات سے دین کی دھجیاں اڑتی ہوں۔ پاکستانی ملحدین نے بھی اپنے لئے اسی چیز کو سہارا بنایا اور اسی کو اپنا دھال بنا کر ہر وہ بات کہی جو دین و شریعت کے برخلاف تھی۔ کوئی بھی کسی انسان پر مذہب کی قید نہیں لگا سکتا لیکن اسکا مذہب اسی کی حد تک ہونا چاہئے اگر کوئی شخص الحاد کی تاریکیوں میں گر چکا ہوں تو فریڈم آف سپیچ ہر گز یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اللہ کی وحدانیت کی توہین کرے یا دیگر مقدسات اسلامی کو اپنے غلیظ نظریات کے آئینے میں داغدار کرنے کی کوشش کرے۔

علماء کی غفلت و نااہلی: علماء کسی بھی معاشرے کی اصلاح کے ضامن ہوتے ہیں اور ان میں یہ صلاحیت ہونی چاہئے کہ نہ صرف اپنے علم سے بلکہ عمل سے بھی لوگوں پر تاثیر گذار ہوں اور معاشرے کی اصلاح کی ذمہ داری انجام دیں۔ پاکستان میں الحاد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک وجہ علماء بھی ہیں ، علماء سے مراد علماء حقہ نہیں بلکہ علماء سوء ہیں جو معاشرے کو ترقی اور اصلاح کے بجائے تنزلی اور خرابی کی جانب لے جاتے ہیں۔ چونکہ ایسے علماء کی تعداد کثیر ہے اور ایسے ہی علماء دشمن کے آلہ کار بھی با آسانی بنتے ہیں چاہے وہ عمداً ہو یا جہلاً ۔ آج کل کے نوجوان فتنہ و فساد سے دوری اختیار کرنا چاہتے ہیں اور انسان کی فطرت بھی یہی ہے کہ وہ امن کا داعی ہوتا ہے لیکن جب انہی علماء کی جانب سے اسلام کے چہرے کو داغدار کرکے عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جز فتنہ و فساد، لڑائی جھگڑے کے انکو کچھ نہیں ملتا تو وہ امن کیلئے دین کو ہی ترک کردیتے ہیں کہ کیوں نہ اس دین سے ہی دوری اختیار کی جائے جو سوائے بغض و کینے کے کچھ نہیں سکھاتا گرچہ انکا یہ نظریہ غلط ہوتا ہے۔ یہ ایسے ملحدین ہیں جنکو " دیسی ملحدین" کہا جاسکتا ہے کیونکہ یہ فکر و تدبر کے نتیجے میں گمراہ نہیں ہوئے بلکہ کسی کی وجہ اس راستے کو اختیار کیا ہے ۔ حالانکہ انکی ذمہ داری اور مسئولیت یہ تھی کہ یہ خود دین کا روشن چہرہ پہچانتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے۔

ملحدین میں بعض ایسے ہیں جو باقاعدہ تحقیق کرکے کچھ سوالات کو جنم دیتے ہیں اور علماء کی جانب چلتے ہیں اس امید کے ساتھ کے شاید وہ انکے قانع کنندہ جوابات دے سکیں لیکن وہاں سے انکو مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا اور وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ تمام علماء اسی قسم کے ہیں اور اس گمراہی کے راہ کو اختیار کرلیتے ہیں جو کہ انکی ذہن کی اختراع ہے کہ اگر کوئی انکے سوالات کا جواب نہ دے پایا تو اسکا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کا وجود ہی نہیں ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ علماء کی انا اہلی کہ جنہیں جس بات کا علم ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہے۔
 مال و متاع کی لالچ: انسان کی فطر ت ہے کہ وہ حریص ہے اور مال و متاع کا خواہاں ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اس کے حصول کیلئے غلط راستے کا انتخاب کرے۔ پاکستان میں بعض ملحدین ایسے ہیں جو فنڈڈ ہیں اور باقاعدہ غیر ملکی ایجنڈے کے تحت کام کررہے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں کہ جو خود تو گمراہ ہیں لیکن اپنے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ اور اسکے عوض دیگر ممالک میں ریزیڈینشل ویزوں کے ساتھ ساتھ بہترین رہائش و آسائش بھری زندگی پالیتے ہیں۔

ان تمام تر باتوں کا مقصد یہ ہے کہ جہاں تھوڑی بہت علماء کی غلطی ہوسکتی ہے وہی دوسری جانب منظم گروہوں کی صورت میں الحاد کی جانب مائل کرنے کیلئے کام کررہے ہیں ۔اپنے ان مقاصد کے حصول کیلئے وہ مخفیانہ نہیں بلکہ آزادانہ طور پر مہم جوئی کررہے ہیں لیکن ہمارے علماء جو منبروں پر فتووں کی باران کئے دیتے ہیں کیا وہ ان افعال سے بے خبر ہیں۔ہمارے خفیہ ادارے جو یہ ادعا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہر چیز ہماری نظروں کے سامنے ہے تو کیا وہ یہ گروپس نہیں دیکھ پارہے ہیں۔ جب ایک عام آدمی ان گروپس اور چینلز تک رسائی رکھتا ہے تو ہمارے حکمران کیونکر خاموش ہیں۔ بظاہر تو فری تنکرز(FREE THINKERS) ہیں لیکن در اصل انکے عزائم کچھ اورہیں ۔ان گروپس میں باقاعدہ اللہ ،رسول ، اہلبیت و صحابہ کی توہین ہوتی ہے لیکن علماء جو فرقہ بندیوں میں مشغول ہیں اور ایک دوسرے ہر صحابہ کی توہین اور اہلبیت کی توہین کے الزامات لگا رہے ہیں کیا وہ اس مقام پر اندھے ہوجاتے ہیں ؟آخر کیوں کر اللہ کی وحدانیت کی توہین ، رسول اللہ کی توہین کی ، امہات،اہلبیت اور صحابہ کی توہین کے خلاف متحد نہیں ہوتے؟یقینا آج شیعہ ،سنی، اہل حدیث ،بریلوی اور ان مسلکوں کی جنگ سے زیادہ اہم یہ ہے کہ سب متحد ہو کر اپنے دین کی حفاظت کریں اور ملحدین کے مقابل بندوق تھام کر نہیں بلکہ اپنے دلائل و براہین سامنے رکھے کہ یقینا الہٰی دلائل حق ہیں اور کفار کو مغلوب کرنے والے ہیں ۔کہی ایسا نہ ہو کہ پاکستان کا مسلمان مستقبل میں سڑکوں پر صرف اسلئے احتجاج کرے کہ ہمیں آزادانہ طور پر عبادت کرنے کی اجازت دی جائے !!۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */