جگنو کے ناقابلِ یقین فواد، کئی بیماریوں کا علاج - ثناء اللہ خان احسن

بدن پے ستارے لپیٹے ہوئے
اے جگنو میاں کدھر جارہے ہو
*یہ جگنو ہیں یا پریاں؟
*اندھیری رات میں ہزاروں چمکتے جگنوؤں کا نظارہ !
*جگنو چمکتا ہے تو گرم کیوں نہیں ہوتا؟
*جگنو کو چمکنے سے کیا فائدے ہوتے ہیں؟
*جگنو کے عجیب و غریب طبی سنیاسی نسخے؟

سن 80 اور اس سے پہلے کی دھائی میں پرائمری کلاس پڑھنے والا ایسا کونسا طالبعلم ہوگا جس کو علامہ اقبال کی نظم ہمدردی یاد نہ ہوگی۔ تیسری جماعت میں یاد کی گئی یہ نظم مجھے آج بھی زبانی یاد ہے۔جس میں ایک بلبل رات کے اندھیرے میں کسی شجر کی ٹہنی پر تنہا بیٹھا گھبرارہا تھا کہ اس اندھیری رات میں گھر تک کیسے پہنچوں۔ اور پھر ایک جگنو اس کو اپنی روشنی کی مدد سے گھر پہنچانے کی پیشکش کرتا ہے۔

میں نے اپنے بچپن میں کبھی کبھار اکا دکا جگنو چمکتے دیکھے اور ان کو پکڑنے کی کوشش بھی کی لیکن ایک مرتبہ رات کے وقت دادا جان کے ساتھ ایک نہر کے پل پر سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ اندھیری رات میں پل کے نیچے بہتے پانی کی مدھم سی قلقل، جھینگروں کی جھائیں جھائیں اور مینڈکوں کی ٹراہٹ۔ نہر کے دونوں جانب نشیبی ڈھلانوں میں شیشم، سرس اور نیم کے درختوں کے ساتھ تیز دھار کناروں والی قد آدم جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔ اور اندھیرے میں ان جھاڑیوں کے اوپر ہزاروں کی تعداد میں ننھے ننھے قمقمے ادھر سے ادھر پرواز کررہے تھے۔

ایک عجیب سے چراغاں کا منظر تھا۔ ان کی پرواز اور وقفے وقفے سے چمکنے کے عمل میں ایک عجیب سے سحر انگیزی اور ردھم تھی جس کو دیکھ کر میں مسحور سا رہ گیا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید میں خواب میں کسی کہانیوں والی جادو نگری میں آگیا ہوں جہاں یہ چمکدار پریاں اڑتی پھر رہی ہیں۔ اتنے ڈھیر سارے جگنو ان ایکشن میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ میں نے حیرت آمیز مسرت سے چلاتے ہوئے دادا جان سے پوچھا تھا کہ دادا جان یہ کیا ہے؟ تب دادا جان نے دھیمے سے اپنی مخصوص بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ یہ جگنو ہیں۔ وہ خود بھی بہت دلچسپی سے اس نظارے کو دیکھ کر خوش نظر آرہے تھے اور ان کی آنکھوں میں چمکتے جگنوؤں کا عکس نظر آرہا تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے اس وقت مجھ میں اور دادا جان کی عمروں میں کوئی فرق نہیں رہ گیا کیونکہ وہ بھی اس نظارے کو دیکھ کر ایک چھ سال کے بچے جیسے ہی خوش اور حیرت زدہ نظر آرہے تھے۔ اس اندھیری رات میں چاروں طرف چمکتے جگنووں کے درمیان نہر کے پُل پر اپنے بوڑھے دادا جان کے ساتھ میں خود کو کسی پریوں کے دیس کا کردار سمجھ رہا تھا۔
A little light is going by,
Is going up to see the sky,
A little light with wings.
I never could have thought of it,
To have a little bug all lit
And made to go on wing

وہ نظارہ میری زندگی کے یادگار ترین نظاروں میں سے ایک تھا جس کی تصویر آج بھی نگاہوں میں لیے پھرتا ہوں۔

جگنو ہمارے لیے ایک عجوبے سے کم نہیں تھا۔ کئی مرتبہ جگنو کو قید بھی کیا لیکن دن کے اوقات میں تو یہ ایک معمولی سا عام کیڑا نظر آتا تھا۔۔۔ رات میں البتہ اس کو ہلکے ہاتھ سے مٹھی میں دباکر انگلیوں کی جھری سے اندر ایک آنکھ لگاکر جھانکتے تو یہ وقفے وقفے سے چمکتا نظر آتا تھا۔

جگنو اور تتلی دو ایسے خوبصورت کیڑے ہیں جو انسان کی جمالیاتی حس کو تسکین بخشتے ہیں۔ ان کو شاعری میں بھی بے تحاشا استعمال کیا گیا ہے۔

جگنو سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اس کی اصل (jyotiriṅgaṇa) جیوتی رنگانا دو الفاظ جیوتی اور انگانا سے مل کر بنی ہے، جس کا مطلب روشن کیڑا یعنی فائر فلائی ( Fire Fly) ہے۔

فطری تجسس اور کھوج کی عادت سے مجبور ہوکر کئی لوگوں سے اس کی چمک کے بارے میں دریافت کیا لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی تھی کہ یہ جب چمکتا ہے تو جلتا یا گرم کیوں نہیں ہوتا۔

دُنیا کے بہت سے علاقوں میں لوگ جگنو کی جگمگاتی ہوئی روشنی کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ دراصل جگنو روشنی جگمگانے سے ساتھی تلاش کرتے ہیں۔ وہ حیرت انگیز طریقے سے روشنی پیدا کرتے ہیں۔ انسان نے بھی روشنی پیدا کرنے کے بہت سے طریقے ایجاد کیے ہیں۔ مثلاً بلب، ٹیوب، لائٹ وغیرہ۔ لیکن توانائی کی بچت کے لحاظ سے جگنو زیادہ مؤثر طریقے سے روشنی پیدا کرتے ہیں۔ اگلی بار جب آپ کو بجلی کا بل ملے گا تو ذرا سوچیں کہ یہ چھوٹا سا کیڑا کتنے مؤثر طریقے سے توانائی کی بچت کرتا ہے۔

غور کریں: ایک عام بلب میں استعمال ہونے والی توانائی میں سے صرف ۱۰ فیصد روشنی کی شکل میں خارج ہوتی ہے اور باقی حرارت کی شکل میں ضائع ہوتی ہے۔ ٹیوب لائٹ یا انرجی سیور بلب میں استعمال ہونے والی توانائی میں سے ۹۰ فیصد روشنی کی شکل میں خارج ہوتی ہے۔ لیکن جگنو توانائی سے تقریباً ۱۰۰ فیصد روشنی پیدا کرتا ہے۔

بائیولیومینیسینس ایک ٹھنڈی روشنی ہے اور یہ بلب کی روشنی کی طرح حرارت خارج نہیں کرتی ہے
یہ حیاتیات کے لیے نہایت موزوں بھی ہے کیوں کہ اگر یہ حرارت خارج کرے تو جگنو زندہ رہنے کے قابل بھی نہ رہتا۔

جگنو کی روشنی ایک کیمیائی عمل کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ اُس کے جسم میں خاص خلیے ہوتے ہیں جو لوسی فیریز نامی اینزائم کے ذریعے اِس کیمیائی عمل کو شروع کرتے ہیں۔ اِس عمل میں لوسی فیرین نامی ایک مادے اور آکسیجن کے ذریعے روشنی پیدا ہوتی ہے لیکن حرارت پیدا نہیں ہوتی ہے۔ اِس لیے جگنو کی روشنی کو ”ٹھنڈی روشنی“ کہا جاتا ہے۔ ماہرِماحولیات سینڈرا میسن نے کہا کہ بلب ایجاد کرنے والے ٹامس ایڈیسن کو جگنو کی کارکردگی پر رشک آیا ہوگا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا جگنو میں روشنی پیدا کرنے کی صلاحیت اتفاقاً وجود میں آئی تھی؟ یاپھر کیا یہ ایک ذہین خالق کی عنایت ہے؟

اب ایک سوال یہ بھی کہ جگنو نے پہلی بار کیوں چمکنا شروع کیا ہو گا؟

اس کا جواب ایسا ہی ہے کہ جیسے یہ سوال کہ مرد بھڑکیلے لباس کیوں پہنتے ہیں اور اس کا جواب ہے کہ عورتوں کو اپنی طرف لبھانے یا متوجہ کرنے کے لیے وہ ایسے لباس پہنتے ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ وہ انہیں لبھانے میں کامیاب ہوتے بھی ہیں یا نہیں۔

بہت مرتبہ، شام کے وقت جب آپ اپنے اردگرد بہت سارے جگنوؤں کو چمکتے ہوئے دیکھ رہے ہوتے ہیں، اصل میں زیادہ چمکنے والے نر جگنو ہوتے ہیں۔

وہ ایسا اس لیے کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی نسل کی مادہ جگنو کو لبھانے کے لیے ایسا لگاتار کر رہے ہوتے ہیں۔

جگنوؤں کی اب تک 2ہزار سے زائد اقسام دریافت کی جاچکی ہیں۔

ایک نر جگنو اپنے پیٹ کو ایک مخصوص شرح رفتار یا طول موج سے روشن کرتا ہے اور جب ایک مادہ جگنو کسی نر جگنو کو دیکھتی ہے تو مادہ جگنو اسی مخصوص شرح رفتار یا طول موج سے اپنی نسل کی پہچان کرتی ہے۔ اس کے بعد مادہ جگنو اپنے پیٹ کو روشن کر کے اس طول موج کا جواب دیتی ہے۔

جگنو کے پیٹ چمکانے کی دوسری وجہ جو کہ پہلی وجہ جتنی محبت اور پیار بھری نہیں ہے وہ شکار کو اپنی طرف متوجہ کرنا۔ کچھ مادہ جگنو خود کو چمکاتی ہیں جس سے نر جگنو اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر حملہ.. مادہ جگنو نے نر جگنو کا شکار کیا اور رات کے کھانے کا بندوبست ہو گیا۔

مشاہدے سے معلوم ہوا کہ جگنو کے چمکنے کی ایک حتمی وجہ حشرات کھانے والی شکاری چھپکلیوں کو خود سے دور رکھنا ہے۔

جگنو ایک کیمیکل جسے لیوسیبیوفگنس کہا جاتا ہے سے بھرے ہوتے ہیں جسے صرف زبان سے ادا کرنا ہی مشکل نہیں ہضم کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ اس کا ذائقہ شدید کڑوا ہوتا ہے۔ جب شکاری چپکلیاں جگنوؤں کو کھاتی ہیں تو یہ چمکتا ہوا کڑوا کیمیکل انہیں بہت برا ذائقہ دیتا ہے۔ اس طرح جگنوؤں کا چمکنا اصل میں شکاریوں کو خبردار کرنا ہوتا ہے کہ اس روشنی سے دور رہو۔

جگنو زیادہ تر پانی کے آس پاس یا گیلے جگہوں میں رہنا پسند کرتے ہیں اور گرم علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ انواع پہاڑوں، پتھریلی جگہوں میں رہتے ہیں۔

مادہ جگنو ملاپ کے کچھ دن بعد زمین کے بالکل اوپر یا تھوڑا سا نیچےانڈے دے دیتی ہے۔ انڈوں سے تین ہفتوں یا ایک مہینہ بعد بچے نکل آتے ہیں اور گرمیوں کے اختتام تک کھاتے رہتے ہیں۔ ان کے بچوں کو ‏glowworm بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پھر تین ہفتوں تک زمین میں گھس کر پیوپا بن جاتے ہیں جس سے پھر بالغ جگنو نکل آتے ہیں۔

سردیوں میں جگنو درختوں یا زمین پر گرے ہوئے پتوں یا مٹی میں گھس کر سردیاں گزارتے ہیں اور موسم بہار میں باہر نکل آتے ہیں۔ یہ زیادہ تر رات کو نکل آتے ہیں مگر کچھ انواع دن کو بھی موجود ہوتے ہیں جبکہ کچھ قسمیں دن رات موجود ہوتے ہیں۔ یہ شکاری کیڑے ہیں جو کہ دوسرے کیڑوں کا شکار کرتے ہیں۔ یہ بالخصوص کیچوے (earthworms) کا شکار کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ انواع پودوں کے پتے اور گھاس کھاتے ہیں۔

جگنو کی ٹانگیں چھوٹی چھوٹی اور تعداد میں چھ ہوتی ہیں، لیکن یہ ٹانگوں سے تیزی سے درخت پر نہیں چڑھ سکتا۔ قدرت نے اسے عجیب و غریب عضو سے نوازا ہے جسے ’’انگلیوں کا گچھا“ کہتے ہیں۔ یہ انگلیاں لچکدار ہوتی ہیں اور بوقت ضرورت انہیں ہر طرف موڑا جا سکتا ہے۔ یہ عضو ایک لیس دار مادہ بھی خارج کرتا ہے جس کی مدد سے جگنو دیوار یا درخت کی سطح سے چپک جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اوپر چڑھنے لگتا ہے۔ زمانہ قدیم ہی سے انسان جگنوؤں سے فائدہ حاصل کرتا چلا آیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایزٹکس (امریکا کے مقامی باشندے) لوگ بید کی بنی ہوئی ٹوکریوں میں بہت سے جگنوؤں کو بند کر لیتے تھے اور راتوں کو سفر کے دوران میں ان کی روشنی سے مدد لیتے تھے۔ ڈومنگو قبائل جگنوؤں کو پکڑ کر انہیں تاگے کی مدد سے ہاتھ پاؤں کے ساتھ باندھے لیتے تاکہ جنگل میں سفر کرتے وقت ان ننھے منے چراغوں سے اپنا راستہ تلاش کر سکیں۔

جگنو ایک کیڑا تو ہے مگر اللہ تعالی نے اس میں کچھ طبی خواص بھی رکھے ہیں۔ ایک پرانے طبی رسالے میں جگنو سے رعشہ کی بیماری کا علاج تحریر تھا۔

رعشہ کی بیماری کا علاج
ایک عدد زندہ یامردہ جگنو کے (پر اور سر الگ کردیں) چار عدد بھنےہوئے چنے، ایک عدد منقیٰ موٹا کوٹ کر کھرل کرلیں۔ یہ ایک خوراک ہوگئی۔ دوا کے استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ ہفتہ میں ایک بار گوبھی کی بھجیا یا سالن بنا کر کھانی ہے‘ کھانے کے بعد دوائی گرم دودھ کے ساتھ کھانی ہے‘ اس طرح چار ہفتہ تک کھانی ہے‘ ان شاء اللہ تعالیٰ بیماری ختم ہوجائے گی۔ (نوٹ: نسخہ کے بارے میں علماء کرام و اطباء حضرات سے مشورہ کرلیں۔)

دوسرا نسخہ یہ تھا کہ چار عدد جگنو لے کر ان کے سر اور پر الگ کیجیے اور ذرا سے گڑ کے ساتھ کھرل کرکے چار عدد چنے کے برابر گولیاں بنالیجیے۔ ہر ہفتے ایک گولی دودھ کے ساتھ لینی ہے۔ برائے کرم اس نسخے کو استعمال سے پہلے کسی مستند طبیب سے مشورہ ضرور کرلیجئے۔

اب آجائیے ایک اور حیرت انگیز انکشاف پر۔ اور وہ ہے جگنو کا عجیب و غریب استعمال۔ اس کے لیے میں عبقری میگزین کے ایک مضمون کو کاپی کرتا ہوں۔

سینے کا نایاب راز: ہوا یوں کہ سیالکوٹ ایک زمیندار علاج کی غرض سے تشریف لائے۔ ان کے آنے سے قبل ایک صاحب ان کو جاننے والے پہلے سے بیٹھے تھے۔ ابھی اس زمیندار کی باری نہیں آئی تھی تو مجھے وہ پہلے سے بیٹھے ہوئے مریض نے اپنی باری پر بتایا کہ اس شخص کو میں جانتا ہوں یہ سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کا بڑا زمیندار ہے۔ یہ ایک دوائی بناتا ہے جو گردے کی پتھری، گردے کے درد حتیٰ کہ گردے فیل ہوجائیں تو بھی مفید ہے۔ بے شمار لوگ دور دراز سے اس سے دوائی لینے آتے ہیں پیسے بالکل نہیں لیتا۔ مفت دوائی دیکر مریضوں سے دعائوں کی درخواست کرتا ہے۔ کئی لوگوں نے کوشش کی کہ اس سے نسخہ وصول کیا جائے لیکن یہ کسی کو نسخہ نہیں دیتا۔ ہاں اتنا ضرور علم ہے کہ اس کی دوائی میں جگنو ضرور پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ بستی کے بچوں کو فی جگنو 25پیسے دیتا ہے اور بے شمار جگنو روزانہ پکڑوا کر محفوظ رکھتا ہے۔ وہ صاحب کہنے لگے یہ 1983 کی بات ہے میں اسی دن سے موصوف کو جانتا ہوں کہ وہ گردے کی دوائی بالکل فری دیتا ہے۔ آپ کوشش کرکے دیکھیں کیونکہ یہ آپ سے اور آپ کے قلم سے بہت متاثر ہے۔ شاید آپ کو نسخہ دے دے۔ جب وہ زمیندار میرے پاس نبض دکھانے کے لیے تشریف لائے تو باتوں ہی باتوں میں ان سے نسخہ کی بات کو پوچھا۔ بے ساختہ کہنے لگے آپ کو کیا ضرورت ہے؟ آپ تو خود حکمت کے شہنشاہ ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا میں تو فقیر ہوں ہر شخص سے سیکھتا ہوں بلکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ اگر آپ یا کوئی شخص کسی بھی قسم کی بیماری یا مشکل کے لیے کوئی ٹوٹکہ نسخہ یا کوئی ترکیب مجھے بتادے تو ان شاء اللہ لاکھوں لوگوں کا فائدہ ہوگا کیونکہ وہ چیزیں اپنے پاس نہیں رکھتا۔ لوگوں کی امانت لوگوں تک لوٹا دیتا ہوں۔ کہنے لگے دراصل یہ نسخہ مجھے ایک بینک آفیسر سے ملا تھا۔ ہوا ایسے کہ انہیں گردے کی سخت تکلیف تھی۔ ایک فقیر ہر جمعرات کو مانگنے آتا۔ ایک دن وہ سخت تکلیف میں مبتلا پریشان بیٹھا تھا۔ فقیر حسب معمول آیا تو اس نے کہا کہ تیرا کیا فائدہ تو ہر ہفتے دعائیں دیکر جاتا ہے لیکن میں تندرست نہیں ہورہا باوجود قیمتی ادویات کھانے کے۔

فقیر نے پوچھا آخر آپ کو کیا تکلیف ہے؟ کہنے لگا گردے کی بہت سخت تکلیف ہے۔ سرجن آپریشن بتاتے ہیں۔ لیکن مجھے تسلی نہیں ہورہی۔ فقیر کہنے لگا صاحب جی یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ آپ کا علاج چٹکیوں میں ہوجائے گا۔ ایسا کریں اصلی ہینگ چنے کے برابر لے لیں۔ ہتھیلی پر رکھ کر دو جگنو سر اور پر الگ کر کے صرف دھڑ اس ہینگ میں ملا کرمسل لیں اور پانی سے نگل لیں اس طرح روزانہ کریں۔ بینک آفیسر کہنے لگا میں نے یہ ٹوٹکہ ہفتہ ڈیڑھ ہی استعمال کیا ہوگا کہ میں بالکل تندرست ہوگیا۔ میرے اندر سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پتھریوں کے نکلے اور میرا گردہ صاف ہوگیا۔ وہ زمیندار کہنے لگا یہ نسخہ دراصل مجھے وہیں سے ملا تھا کہ میں خود ایک دفعہ تکلیف میں بینک کسی ضروری کام سے گیا تو بینک آفیسر نے مجھے تکلیف میں مبتلا دیکھ کر پوچھا اور پھر یہ نسخہ مجھے بتایا اور جب میں نے استعمال شروع کیا۔ میں بالکل تندرست ہوگیا۔ پھر میں نے ایک اپنے چند دوستوں کو یہ ٹوٹکہ دیا وہ تندرست ہوگئے۔ لوگوں کی پریشانی دیکھ کر آخر میں نے یہ ٹوٹکہ لوگوں کو مفت دینا شروع کر دیا۔ 1983 سے اب تک ہزاروں لوگ یہ ٹوٹکا استعمال کرچکے ہیں۔ کسی نے بھی بیماری کا شکوہ پھر نہیں کیا۔

قارئین یہ ایک واقعہ جو آپ کی خدمت میں تحریر کیا ہے، ایک ٹوٹکے کے حصول کا ذریعہ بنا۔ پھر میں نے کئی لوگوں کو یہ اکسیر بتانا شروع کردی جس نے بھی آزمائی، بہت تعریف کی۔ پتھری کے لاعلاج مریض ایسے مریض جن کا پیشاب بند ہوگیا تھا ۔ پیشاب کی نالیوں میں ورم اتنا بڑھ گیا تھا کہ پتھری بھی اٹک گئی گردے کا ریاحی درد حتیٰ کہ ایسے مریض جن کے گردے فیل ہوگئے تھے ان کو بھی میں نے چند ہفتے استعمال کرایا نہایت مفید و موثر پایا۔ چونکہ ایک مفت اور تھوڑی سی محنت کرکے عام ملنے والی چیز ہے اس لئے آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں استعمال کریں اور دعائیں دیں۔

ایک دوسری جگہ لکھا ہوا سنیاسی نسخہ جس کو لکھنے والے نے اپنا بارہا کا مجرب بتایا تھا۔

دوستو سنیاسی نسخہ ہے آزمودہ ہے تین سے پانچ خوراکوں میں پتھری کو نابود کر کے ان شاء اللہ کریم بہا دے گا ۔
دیسی مرغی کے پوٹے کے اندر ایک باریک پیلے رنگ جھلی ہوتی ہے وہ آٹھ دس لیکر چھاوں میں خشک کر لو ۔
بیس عدد جگنو جو رات کو چمکتے ہیں لیکر پر اور سر علیحدہ کرلو اور خشک کرلو۔
ان دو اجزاء کو اچھے سے کھرل کرکے پاوڈر بنالو۔۔۔ پانچ سو ایم جی کے کیپسول بھر لو نہارمنہ ہمراہ چاٹی کی لسی کا پانی ایک گلاس سے لو ان شاء اللہ کریم دعائیں کروگے!

پانی سے مراد جب لسی کی سفیدی بیٹھ جاتی ہے اوپر پانی سا نتھر آتا ہے وہ۔۔۔

آج کل جگنو بہت کم نظر آتے ہیں۔ فصلوں پر بے تحاشہ کیے جانے والے زہریلے اسپرے اور جراثیم کش ادویات نے تتلیوں، بیر بہوٹیوں اور جگنوؤں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ میری تو اللہ سے ہمیشہ یہی دعا رہتی ہے کہ ہم دوبارہ فطرت کی طرف لوٹ جائیں تاکہ ہماری آئندہ نسلیں ایک بار پھر چمکتے جگنو، رنگ برنگی تتلیاں اور لال سرخ بیر بہوٹیوں کے حسن سے محظوظ ہوسکیں۔
ہم نے جگنو جگنو کر کے۔
تیرے ملن کے دیپ جلائیں ہیں۔
اکھیوں میں موتی بھر بھر کے۔
تیرے ہجر میں ہاتھ اٹھائے ہیں۔
نوٹ (اس مضمون کی تیاری میں وکی پیڈیا، اردو سائنس، عبقری میگزین، اور کچھ دیگر کتب و بلاگز سے مدد لی گئی ہے۔)

Comments

ثناء اللہ خان احسن

ثناء اللہ خان احسن

ثناء اللہ خان احسن فنانس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ کراچی سے تعلق ہے۔ ریسرچ ورک اور تاریخ کے ایسے چھپے گوشوں سے دلچسپی ہے جو عام عوام سے پوشیدہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */