معرکہ (10) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط
چھٹی قسط
ساتویں قسط
آٹھویں قسط
نویں قسط

سلطان کبیر، عبداللہ اور باقی درویشوں کے ساتھ فہیم صاحب کے گھر کی بیسمنٹ میں موجود تھے۔ جہاں بلال کی بھیجی ہوٸی ”گڑیوں“ کی شکل میں موجود بدروحوں نے ایک عجیب منظر نامہ بنا رکھا تھا۔ انھوں نے بیسمنٹ کے ہال کو درمیان میں سے کھود کر خندق کی شکل دینے کے بعد، اسے تھوہر اور اکوار کی لکڑی سے بھر کر آگ لگا دی تھی۔ آگ میں مردار جانوروں کے جسموں کو پھینکا گیا تھا۔ خود وہ آگ کی خندق کی دوسری جانب ایک چبوترہ سا بنا کر اس پر کھڑی نیم برہنہ لباس میں تیز میوزک پر رقص کر رہی تھیں۔ سلطان کبیر کو دیکھ کر انھوں نے فحش اشارے بھی کرنے شروع کر دیے تھے۔
آگ کی زرد لپٹوں نے بیسمنٹ کے درجہ حرارت کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا تھا۔ مردار جانوروں کے جلے ہوٸے جسموں کی بو سلطان کبیر اور درویشوں کا سانس بند کر رہی تھی۔

فہیم صاحب کے ساونڈ سسٹم بند کرنے سے ہال کے بھونچال میں کچھ کمی آٸی۔
کون ہو تم سب۔۔۔اور اس شریف آدمی کے گھر میں کیوں ادھم مچایا ہوا ہے۔۔۔کیا بگاڑا ہے اس نے تمھارا۔۔۔۔؟
سلطان بلند آواز میں گڑیوں سے مخاطب تھے۔
ہماری مرضی۔۔۔۔۔!

ایک گڑیا نے جواب دیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی باقی بھی کھی کھی کر کے ہنسنے لگیں۔
تم کیا سمجھ رہی ہو کہ یہ آگ کی خندق تمھیں بچا لے گٸی۔۔۔۔؟ کیا تمھیں اللہ کے کلام کی برکت اور اس کے بندوں کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔۔۔؟

”نہیں“
اسی گڑیا نے جواب دیا اور پھر سب پر ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔

میں تمھیں آخری دفعہ سمجھا رہا ہوں۔۔۔یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفع ہو جاٶ۔۔۔فوراً۔۔۔اور آیندہ اس گھر کا رخ نہ کرنا۔
سلطان نے جلال سے کہا۔

آج موڈ نہیں ہے۔۔۔کسی اور دن آنا، پھر گپ شپ لگاٸیں گے۔۔۔
مجھے تو ان کی منحوس شکلیں دیکھ کر سر میں درد شروع ہو گیا ہے۔۔
حالانکہ آنکھوں میں ہونا چاہیے تھا۔۔

اس بات پر پھر انکی ہذیانی ہنسی شروع ہو گٸی۔ وہ عجیب انداز میں ہنستی تھیں۔۔ منہ کھول کر پیٹ پکڑ کے اکھٹے ہنسنا شروع کرتیں اور پھر اچانک سے یوں سنجیدہ ہو جاتیں جیسے ان کے سیل ختم ہو گے ہوں۔

کافی کھیل تماشہ کر لیا تم نے۔۔۔اب شرافت سے گرفتاری دے دو۔۔۔ورنہ تم پانچوں کو جلا کر راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا جاٸے گا۔
سلطان کبیر نے آگ کی خندق کے بلکل کنارے پر آ کر انھیں کہا۔۔۔وہ بڑی باریک بینی سے ان کا مشاہدہ کر رہے تھے۔پانچوں گڑیاں ایک دوسرے کو دیکھ کر کھلکھلانے لگیں۔

”اب کیا حکم ہے جناب۔۔۔۔درویش پریشان ہو رہے ہیں؟
عبداللہ نے ناک پر کپڑا رکھ کر پوچھا۔

وہ جانتی ہیں کہ تم لوگ یہ آگ نہیں پار کر پاٶ گے۔۔۔لیکن پیچھے ہٹنا کوٸی آپشن نہیں ہے۔ ہمیں اس مسٸلے کا کوٸی حل نکالنا ہو گا۔
سلطان نے دھیمی آواز میں عبداللہ کے کان میں کہا۔

سلطان آگ سے پیچھے ہٹ کر مخالف دیوار کے قریب چلے گٸے اور تھیلے میں سے ایک زرد مٹی کے ڈھیلے کو نکال کر اس سے اپنے گرد ایک حصار کھینچا۔
تیر کمان نکالو۔۔۔۔

سلطان کے حکم دیتے ہی درویش اپنے کندھوں پر لٹکے تھیلوں سے تیر کمان نکالنے لگے۔۔لیکن گڑیاں پہلے سے ہی تیار تھیں۔۔انھوں نے درویشوں کے سنبھلنے سے پہلے ہی درویشوں اور سلطان پر آگ والے تیروں کی بارش کر دی۔ سلطان تو حصار میں ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے البتہ درویشوں کے لیے صورتحال کوٸی اچھی نہیں تھی۔ وہ آگ کی گرمی اور مردار جانوروں کی بو سے پہلے ہی نڈھال ہو رہے تھے بالاٸے ستم آگ میں جلتے تیروں نے دو درویشوں کو زخمی کر دیا تھا۔

عبداللہ۔۔۔اپنے درویشوں کو لیکر فوراً نکلو یہاں سے۔۔۔۔بیسمنٹ کی چھت کے اوپر جاٶ۔۔۔اگر یہ ادھر سے نکلنے کی کوشش کریں تو انھیں قید کر لینا۔

سلطان نے صورتحال بدتر ہوتی دیکھ کر نٸے احکامات جاری کیے۔ درویشوں کے تہہ خانے سے نکلتے ہی اب سلطان پر تیر برساٸے جا رہے تھے لیکن وہ ان کے حصار کی نادیدہ دیوار سے ٹکرا کر باہر گر جاتے تھے۔ فہیم صاحب چپ چاپ ایک جانب کھڑے تھے۔ انھیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ یہاں کیا چل رہا ہے نہ ہی انھیں سلطان کبیر کے علاوہ کوٸی چیز دکھاٸی دے رہی تھی۔ سلطان نے انھیں بھی بیسمنٹ سے چلے جانے کا کہا۔ فہیم صاحب نے تعظیم سے سر کو جھکایا اور سڑھیاں پھلانگتے ہوٸے اوپر چلے گٸے۔۔سلطان کبیر دو زانو بیٹھے آنکھیں بند کیے کچھ پڑھنے میں مشغول ہو گٸے۔گڑیاں، درویشوں کے زخمی اور پسپا ہونے پر خوش تو تھیں لیکن انھیں سلطان کا مضبوط حصار پریشان کر رہا تھا۔

یہ بندہ خطرناک لگ رہا ہے۔۔ہمیں اب نکل جانا چاہیے یہاں سے۔۔۔؟
ایک نے دوسری کی کان میں سرگوشی کی۔
ہم ناکام لوٹے تو آقا بلال ہمیں قید کر دے گا یا جلا کر مار دے گا۔

دوسری نے انکار میں سر ہلایا۔۔۔۔ اس کی بجاٸے ہمیں اسے حصار سے باہر نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔۔۔پھر اس نمٹنا بہت آسان ہو جاٸے گا۔

دوسری طرف سلطان کبیر کے سامنے ایک نو فٹ کا طویل قامت طاقتور جن حاضر ہوا۔۔گھنی بھنویں، آتشی جلد اور نارنجی آنکھوں والے اس مسلمان جن کا نام ”زورآور“ تھا۔ زورآور سلطان کبیر کے حلقہ ارادت میں شامل تھا۔

سلطان کا خادم ”زورآور“ سلام پیش کرتا ہے۔

زورآور ادب سے سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکا۔ اگر سلطان اسے بروقت اپنے حصار میں نہ کھینچ لیتے تو گڑیوں کی طرف سے کھینچ کر مارا گیا آتشی تیر ”زورآور“ کی ایک فٹ موٹی گردن کے پار ہو جاتا۔ زورآور نے غضب ناک نظروں سے گڑیوں کو دیکھا۔

”زورآور“۔۔۔میں نے تمھیں اس شیطانی آگ کو بجھانے کے لیے بلایا ہے۔ کیا تم ایسا کر سکتے ہو۔۔۔۔؟
”جی حضور۔۔۔ہم اسے پانی ڈال کر بجھا سکتے ہیں۔۔

اتنا پانی کہاں سے آٸے گا؟
میں ابھی اپنی دنیا میں سے کسی کا آگ بجھانے والا ٹرک پکڑ کر لے آتا ہوں۔۔۔۔!

سلطان کبیر کے رضا مندی سے سر ہلاتے ہی زورآور غاٸب ہو گیا۔ اور کچھ ہی منٹ بعد ہی فاٸر برگیڈ کی آگ بجھانے والے ٹرک کے مخصوص بڑے پاٸپ کے ساتھ سڑھیوں میں نمودار ہوا۔اس نے وہیں سے آگ پر پانی ڈالنا شروع کر دیا۔ آگ میں پانی ڈالنے سے بیسمنٹ کا ہال کالے دھواں سے بھر گیا تھا۔ آگ تیزی سے بجھتی نظر آ رہی تھی۔ کافی دیر پانی ڈالتے رہنے سے خندق نے ایک راکھ آلودہ تالاب کی شکل اختیار کر لی تھی۔ گڑیوں کی ساری شوخی ہوا ہو چکی تھی۔ انھوں نے اپنے بچے کھچے تیر بھی سڑھیوں میں محفوظ فاصلے پر کھڑے زورآور کو مارنے کے لیے ضاٸع کر دیے تھے۔

دھواں چھٹتے ہی عبداللہ اور درویش بھی بیسمنٹ میں واپس لوٹ آٸے تھے۔ ان کے ہاتھ میں نیزے، زنجیریں اور بیڑیاں تھیں۔ زورآور کہیں سے لکڑی کا ایک بڑا تختہ اٹھا لایا تھا۔ اس نے اسے خندق پر رکھ کر پل کی شکل دے دی تھی۔ باقی کا کام آسان تھا۔ درویشوں اور زورآور نے تھوڑی سی جہدوجہد کے بعد گڑیوں کو قابو کر کے زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑ کر سلطان کے قدموں میں پیش کر دیا۔ گڑیاں اب روتے گڑگڑاتے ہوٸے معافی مانگ رہی تھیں۔ اور رحم کی دہاٸی دے رہی تھیں۔ ان کی چیخوں اور آہ و بکا سے تہہ خانے کا ہال گونج رہا تھا۔ عبداللہ نے کافی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد انھیں بمشکل خاموش کروایا۔ سلطان کے حکم پر درویشوں نے ایک بہت بڑی دیگ میں ایک مخصوص تیل بھر کر اس کے نیچے لکڑیاں رکھ کر انھوں جلا دیا۔ کچھ ہی دیر میں شہد رنگ کا تیل ابلنے لگا۔۔تیل کو ابلتا دیکھ کر گڑیوں کی حالت پتلی ہو گٸی تھی۔ وہ چحخیں مار مار کر رو رہی تھیں۔۔ عبداللہ کے کوڑے اور ڈانٹ ڈپٹ انھیں ایک لمحے کے لیے خاموش کرواتی اگلے لمحے بعد وہ دوبارہ سسکنے لگتیں۔

”جب میں تم سے سوال کروں تو صرف ایک جواب دے گی۔۔۔باقی خاموش رہیں گی۔۔۔اور میں جو پوچھوں مجھے اس کا بالکل صاف، سیدھا اور دو ٹوک جواب چاہیے۔ اگر ذرا سی بھی ٹیڑھی میڑھی بات کی تو اٹھا کر اس تیل کی دیگ میں ڈلوا دوں گا۔۔۔ پھر تمھاری موت عبرت ناک ہو گی۔

سلطان کے چہرے سے جلال ٹپک رہا تھا۔
” اے سلطانوں کے سلطان، ہمیں معاف کر دو۔۔۔۔تمھاری بادشاہی ہمیشہ قاٸم رہے گی۔۔ہم وعدہ کرتی ہیں کہ اب کبھی لوٹ کے اس گھر کے مکین کو تنگ نہیں کریں گی۔

گڑیوں کو درویشوں کی باتوں سے پتا چل گیا تھا کہ اس بزرگ کا نام سلطان ہے۔ اب وہ چاپلوسی، منت سماجت کر کے اپنی جان چھڑوانے کی فکر میں تھیں۔ سلطان کے اشارے پر دو درویشوں نے بات کرنی والی گڑیا کو اٹھایا اور بغیر وقت ضاٸع کیےتیل کی ابلتی دیگ میں پھینک دیا۔۔گڑیا کے تیل میں گرتے ہی تیل میں سے زرد شعلے اور سیاہ دھویں کے بادل نکلے۔تیل میں گراٸی جانے والی گڑیا کی ایک طویل چیخ سناٸی دی۔ پھر اسکا سیاہ جلا ہوا جسم کچھ لمحے کے لیے دیگ میں نظر آتا رہا کچھ لمحے بعد وہ بھی دھواں بن کر غاٸب ہو گیا۔ ایک گڑیا کا یہ انجام دیکھ کر باقیوں پر سکتہ طاری تھا۔۔اب وہ خوف سے تھر تھر کانپ رہیں تھیں۔ سلطان زیرلب کچھ پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے اپنا وظیفہ مکمل کر کے اپنے ہاتھوں پر پھونک ماری اور انھیں اپنے جسم پر مل کر دوبارہ گڑیوں کی طرف متوجہ ہوٸے۔

تمھیں کس نے بھیجا ہے۔۔۔؟
بلال نے۔۔۔ بلال عزیز نے۔۔۔!
سب بیک وقت بولیں۔

ایک بات کرے۔۔۔صرف ایک۔۔
عبداللہ نے ان کی پشت پر کوڑے برساٸے۔۔۔سلطان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔
بلال کا گھر کدھر ہے۔۔؟
وہ سامنے۔۔۔پارک کے دوسرے رخ پر۔۔۔!

فہیم صاحب سے کیا چاہتا تھا یہ بلال عزیز۔۔؟
وہ اس کو جان سے مار کر اس کی بڑی بیٹی کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔
گڑیاں اب مکمل طور پر تابعدار ہو چکی تھیں۔

مجھے بلال کے کرتوتوں کے بارے میں تفصیل سے بتاٶ۔
سلطان نے حکم دیا۔

گڑیوں نے سبق سنانے کے انداز میں بلال کے گھناٶنے کردار کے بارے میں تفصیل بتاٸی جسے سن کر سلطان کا چہرہ مکدر ہو گیا۔

یہ انسان کے روپ میں شیطان اس قابل نہیں ہے کہ اسے مزید مہلت دی جاٸے۔۔

سلطان نے گڑیوں کی پشت پر آگ کا دہکتا کوڑا لیے کھڑے درویشوں کے امیر عبداللہ سے کہا۔

معصوم بچیوں کے قاتل کے لیے میں ایک عبرت ناک موت کی سفارش کروں گا سلطان۔۔۔باقی ہم آپ کے حکم منتظر ہیں۔
سلطان کچھ دیر باٸیں ہاتھ کی انگلیوں سے اپنی داٸیں ہاتھ کی نگ والی انگوٹھی کو گھماتے رہے۔ یہ ان کا سوچ بچار کا مخصوص انداز تھا۔

تم لوگوں کی بچت کی ایک ہی صورت ہے کہ تم بلال عزیز کو ختم کرو گی۔۔اگر تم کامیاب رہیں تو میں تمھیں آزاد کر دوں گا۔
سلطان نے گڑیوں کو اپنا فیصلہ سنایا۔

وہ بہت طاقتور ہے سلطان۔۔شاید ہم اس پر قابو نہ پا سکیں۔۔۔
ایک گڑیا نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

فکر نہ کرو۔۔۔عبداللہ اور درویش بھی تمھارے ساتھ ہوں گے۔۔۔لیکن اصل کام تمھیں ہی کرنا ہو گا۔۔
سلطان نے کھڑے ہوتے ہوٸے حتمی انداز میں کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چار مینڈک کی شکل کی سیاہ گاڑیاں، ایک سبزہ زار پر بڑی تیز رفتاری سے دوڑ رہی تھیں۔ سبزہ زار کے پس منظر میں خوبصورت نیلے پہاڑ واضح نظر آ رہے تھے۔ یہ خوبصورت جگہ شیاطین اور درویشوں کے لیے سرحد کے جیسی تھی۔ کچھ سو سال پہلے تک ابلیس اور اس کی ذریت اس علاقے میں داخل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ یہ ان کے لیے نو فلاٸی زون تھا لیکن اب ان کی سرکش فطرت اور ٹیکنالوجی پر عبور کا علم انھیں بغاوت پر آمادہ کیے ہوٸے تھا۔ چھوٹی موٹی سرحدی خلاف ورزیوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ وہ ”اقرا“ جیسی مرکزی عمارت کو تاراج کرنے کی نیت سے جا رہے تھے۔۔سب سے آگے والی گاڑی کی پسینجر سیٹ پر جحیم بنفس نفیس خود موجود تھا۔ اس نے آج رنگ بھرنگی پتلون شرٹ کے ساتھ کاٶ بواٸے ہیٹ پہن رکھا تھا۔ جیحم کی گاڑی کے بونٹ کے دونوں جانب دو چھوٹے سیاہ پرچم تیز ہوا سے پھڑپھڑا رہے تھے۔ ایک پرچم پر ابلیس کی تصویر بنی ہوٸی تھی۔ جبکہ دوسرا جھنڈا ابلیس کی ریاست کا سرکاری پرچم تھا۔ جحیم کی گاڑی کے پچھلے کیبن میں آمنے سامنے لگی ہوٸی تختہ نما نشستوں پر آٹھ سیاہ پوش بیٹھے تھے۔

اس گاڑی کے پہلو بہ پہلو ایک اور سیاہ گاڑی دوڑ رہی تھی جسے ہاویہ چلا رہی تھی۔ وہ حسب سابق بڑے مختصر لباس میں تھی۔ اس کی گاڑی کی پسینجر سیٹ خالی تھی جبکہ پچھلے کیبن میں اس کے چھ لڑاکے تیر کمان جیسی راٸفل لیے موجود تھے۔ ان کے پیچھے دو گاڑیاں مزید تھیں جو مسلح سیاہ پوشوں سے بھری ہوٸی تھیں۔

جحیم نے اپنے سامنے ڈیش بورڈ پر ایک نقشہ پھیلا رکھا تھا۔ وہ شیشے کی ایک بوتل میں سے سیاہ چمکدار سیال کے گھونٹ لیتے ہوٸے برے برے منہ بنا رہا تھا۔ یہ اس سرزمین کا تفصیلی نقشہ تھا۔ جس پر سفید پوشوں کی عمارتوں اور حفاظتی چوکیاں کی تفصیلات موجود تھیں۔ وہ ابھی تک سفید پوشوں کی نظر میں آٸے بغیر بڑی تیزی سے ”اقرا“ کی جانب بڑھے جا رہے تھے۔ غیر سنجیدہ جحیم اس وقت بڑی سنجیدگی سے اس حملے کے نتاٸج و عواقب کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا۔ سفید پوشوں کی طاقت کے بارے میں اسے کوٸی غلط فہمی نہیں تھی۔ وہ اس کھلی اشتعال انگیزی کے بعد ان کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ عفرش ایک تندخو اور باغی سردار تھا۔ وہ ابلیس کی مرکزی مجلس شوری کا بھی رکن تھا۔ جیحم کو یقین تھا کہ وہ استاد اعظم ابلیس کے علم میں لاٸے بغیر یہ سارے کام کر رہا ہے۔ جیحم کے لیے خطرات ہی خطرات تھے۔ اگر وہ آج یہاں سے زندہ بچ کر لوٹنے میں کامیاب ہو بھی جاتا تو اسے ابلیس اعظم کی طرف سے تادیبی کارواٸی کا خدشہ تھا۔۔۔۔ورنہ زندگی بھر کے لیے سفید پوشوں کی طرف سے جان کا خطرہ اور دشمنی تو تھی ہی۔

بس اب سیدھے چلتے رہو۔۔۔ناک کی سیدھ میں۔۔ہم پہنچنے والے ہیں۔

جحیم نے نقشے کو ترتیب سے تہہ کر کے رکھنے کی بجاٸے اس کا گولا بنا کر ڈیش بورڈ کے نیچے پھینکا۔

ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔جحیم نے یوں چونک کر کہا جیسے اسے کوٸی اہم بات یاد آ گٸی ہو۔
کیا کہا میں نے۔۔۔۔۔؟۔۔۔میں نے کہا ناک کی سیدھ میں چلو لیکن تمھاری تو ناک ہی نہیں ہے۔۔

اس نے قہقہ لگا کر سیاہ پوش ڈراٸیور کے چہرے پر ناک کی جگہ موجود سیاہ گڑھے میں انگلی ڈالی۔ ڈراٸیور نے تڑپ کر اس کا ہاتھ جھٹکا۔
نہ کریں آقا۔۔۔گدگدی ہوتی ہے۔ جیحم جب ہنس ہنس کر تھک گیا تو اس نے ٹھنڈی آہ بھر کر ساتھ چلتی گاڑی میں سے ہاویہ کو دیکھا۔

ابے یار۔۔۔یہ لڑکی پٹ جاٸے تو مزے آ جاٸیں۔ جحیم نے ہاویہ کے جسم کا بغور جاٸزہ لیتے ہوٸے اظہار خیال کیا۔ جحیم کی تقلید میں سیاہ پوش ڈراٸیور نے بھی ہاویہ کو دیکھا۔

احتیاط لازم ہے آقا۔۔۔میں نے سنا ہے اس ''ایٹم'' نے چھیڑنے پر دو نوجوان شیطانوں کو گھوڑا میں بدل کر اپنی بھگی میں لگا رکھا ہے۔
سیاہ پوش ڈراٸیور نے زیرلب مسکرا کر کہا۔
دھت تیرے کی۔۔۔شکل بھی منحوس باتیں اس سے بھی زیادہ منحوس۔۔
جحیم بدمزہ ہوا۔

”اقرا“ میں آج کافی رونق تھی۔ درجنوں ڈاکٹر، مددگار اور درویش یہاں موجود تھے۔ ان میں سلطان کبیر کے چاروں ڈاکٹر بھی شامل تھے جو اس محفلِ نعت میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر آٸے ہوٸے تھے۔ شیشے کی دیوار میں سے چار سیاہ گاڑیوں کو عمارت کی بڑھتا دیکھنا سب کے لیے حیران کن تجربہ تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ابلیس کے چیلے اتنی جسارت بھی کر سکتے ہیں۔ محفل میں کچھ درویش بھی موجود تھے لیکن ان کے پاس بھی سیاہ پوشوں سے مقابلے کے لیے درکار اسلحہ موجود نہیں تھا۔

مینڈک کی شکل کی بڑی بڑی سیاہ گاڑیاں ”اقرا“ کے سونے کے بنے ہوٸے مرکزی دروازے کے سامنے آ کر رکیں۔ جحیم نے بڑے سٹاٸل سے گاڑی سے اتر کر اپنا ہیٹ درست کیا۔۔
کیسا لگ رہا ہے تیرا بھاٸی۔۔؟

اس نے پیچھے سے اترنے والے ایک سیاہ پوش سے اپنی راٸفل پکڑتے ہوٸے کہا۔

اچھا ہے آقا۔۔۔لیکن بھاٸی کی کلاس تک پہنچنے کے لیے اور محنت کی ضرورت ہے۔

سیاہ پوش فاٸٹر نے اپنے سر پر رکھے تربوز کے چھلکے جیسی ٹوپی کی جانب اشارہ کرتے ہوٸے دانتوں کی نماٸش کی۔
ابے یار۔۔۔ لنکا میں تو سارے ہی باون گزے ہیں۔

جحیم منہ بنا کر ہاویہ کی طرف بڑھا۔
یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے۔۔۔کاش یہ ہماری ہوتی۔۔

اس نے سلسلہ کلام شروع کرنے کے لیے ہاویہ سے کہا۔
استاد اعظم نے فرمایا تھا کہ ایک دن یہ ہماری ہو گٸی۔

ہاویہ نے اپنے وزن سے بھاری راکٹ لانچر کندھے پر رکھ کر فاٸر کرنے سے پہلے کہا۔

اس کے فاٸر کیے گٸے میزاٸل سے عمارت کا زمرد سے بنا ہوا مینار دھڑام سے نیچے آ گرا۔ ہر طرف گرد غبار پھیل گیا۔
استاد اعظم تو ایک نمبر کے چھوڑو اور جھوٹے ہیں۔
جحیم کھانستے ہوٸے بڑبڑایا۔

کیا کہا تم نے۔۔۔؟
ہاویہ نے نیلم کے مرکزی گنبد پر میزاٸل فاٸر کرنے سے پہلے پوچھا۔۔

کچھ نہیں۔۔۔میں استاد اعظم کے سخن ابلیسی کی تعریف کر رہا تھا۔۔۔جحیم نے ہڑبڑا کر کہا۔۔۔کوٸی سونے کے دروازے کو نقصان نہیں پہنچاٸے گا۔۔۔ہم اسے اکھاڑ کر ساتھ لے جاٸیں گے اور آقا عفرش کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کریں گے۔
جیحم نے بلند آواز میں اپنے لڑاکوں کو حکم دیا۔۔جو شدید فاٸرنگ سے شیشے کی بنی خوبصورت عمارت کا تیاپانچا کر رہے تھے۔ جیحم کسی فاتح کی شان سے عمارت میں داخل ہوا۔ بہت سے سفید پوش اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بن کر دھویں میں بدل کر غاٸب ہو چکے تھے جو باقی بچے تھے وہ تھوڑے گھبراٸے ہوٸے تو تھے لیکن قطعاً خوفزدہ دکھاٸی نہیں دیتے تھے۔

دوپہر بخیر دوستو، امید ہے ہماری آمد آپ لوگوں کو ناگوار نہیں گزری ہو گی۔۔۔جحیم بلند آواز میں چہکا۔۔۔اسی اثنا میں کسی سیاہ پوش کی چلاٸی گٸی آوارہ گولی نے اس کے ہیٹ کو اڑا دیا۔۔۔
میرےسر میں سوراخ کرنے کے لیے تمھیں گن کی نال ایک انچ نیچے رکھنی ہو گی۔
وہ اپنے ساتھیوں پر بھڑکا۔

ہیلو اولڈ مین ۔۔۔دیکھ لو میں نے تمھیں ڈھونڈ لیا۔
اس دفعہ وہ سلطان کبیر کے ڈاکٹر باقر سے مخاطب تھا۔۔

ایک دراز قد درویش اعتماد سے چلتا ہوا اس کے سامنے تن کر کھڑا ہو گیا۔
”اقرا“ پر حملے کا مطلب جانتے ہو۔۔۔؟

وہ غرایا۔۔جحیم نے اپنے چہرے پر مسکینی اور مصنوعی خوف کے تاثرات پیدا کیے اور اپنی راٸفل کا فل برسٹ درویش کے سر پر فاٸر کیا۔

کیا کسی اور کو مجھے کوٸی مطلب سمجھانا ہے۔
جیحم نے اپنی راٸفل کو لہرایا۔

اڑا دو ان سب کو۔۔۔لیکن قیمتی سامان کو بچا کر۔۔۔یہ ہمارا مال غنیمت ہے۔
اس نے سفید پوشوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کا شکار کرتی ہاویہ کی طرف جاتے ہوٸے حکم دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلطان کبیر کا زیادہ وقت سفر میں گزرتا تھا۔ وہ جنگلوں، صحراٶں، پہاڑوں اور دوردراز میدانی علاقوں میں خدا کے دین کا پیغام لیکر پہنچتے اور لوگوں کو اس کے احکامات وضاحت سے سمجھاتے۔ ان کا اخلاق، مزاج کی نرمی، زبان کی حلاوت اور آپﷺ کی امت کی خیرخواہی کی چاہ ایسے وصف تھے جو لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت کے جذبات پیدا کر دیتے تھے۔ ان کے مریدین اس دھرتی کے شرق و غرب میں ہر جگہ پھیلے ہوٸے تھے۔سلطان اپنے نبیﷺ کی سنت کے مطابق امیروں سے زیادہ غریبوں کی صحبت پسند فرماتے تھے۔ ان کا مزاج فقیرانہ تھا۔ اگر مل جاتا تو کھا لیتے، نہ ملتا تو صبر کرتے۔ سفر کے دوران جیسی بھی سواری دستیاب ہوتی شکر کر بیٹھ جاتے ورنہ پیدل ہی چل پڑتے۔

فہیم صاحب کے گھر کو بدروحوں سے پاک کرنے کے بعد وہ صوبے کے ایک دوردراز پسماندہ شہر میں تبلیغ کی نیت سے روانہ ہو گٸے تھے۔ اس نیم آباد نیم پہاڑی علاقے کی فضاٶں میں جہالت اور غربت رچی بسی تھی۔

سلطان ایک جگہ سے دوسری جگہ چلتے، رکتے، ٹھہرتے، ملتے ملاتے جا رہے تھے۔ ایک گاٶں سے دوسرے گاٶں کا چند فرلانگ کا پیدل سفر ابھی ادھا ہی ہوا تھا کہ انھوں نے ایک مقامی دیہاتی کو دیکھا۔ سر پر میلے کپڑے کی پگڑی، پیوند لگے کپڑے اور مشقت کی نشانیوں سے سجے ہوٸے ہاتھ۔۔

میری بچی بہت سخت بیمار ہے۔ آپ کا احسان ہو گا اگر ایک نظر دیکھ کر دوا عنایت فرما دیں ۔۔۔

دیہاتی نے گویا انھیں پہچان کر عرضی پیش کی۔ مسافر تو گھر سے نکلا ہی دکھی دلوں کی بخیہ گری کے لیے تھا۔ سو یہ جانے بغیر کہ یہ انھیں قتل کرنے کی چال ہے۔۔۔مسکرا کر ساتھ چل پڑے۔۔

(جاری ہے)

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */