آزادی کی قیمت - صائمہ عبد الواحد

آزادی دنیا کی وہ حسین نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں آزادی کی قیمت ان خاندانوں سے پوچھی جائے جنہوں نے 1857 سے 1947 تک اپنے پیاروں کو قربان کیا۔ آزاد ملک کے لیے اپنی جان عزت و آبرو کی قربانی دی ان سب کا واحد مقصد ایک آزاد فضا میں سانس لینا تھا تحریک آزادی کے لیے جانیں قربان کرنے والے وہ افراد جنہوں نے ہجرت کے دوران اپنے پیاروں کو قربان کیا اپنی ہر شے کو قربان کرکے آزادی کی قیمت چکائی وہی آزادی کے اصل مفہوم سے آشنا ہیں۔

ہم آزادی کا مفہوم جان ہی نہیں سکتے کیونکہ ہم آزاد ہوتے ہوئے بھی غلام ہیں تعلیمی معاشی معاشرتی ثقافتی لحاظ سے ذہنی غلامی اور پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں آزاد فضا میں رہنے والی آزاد قومیں کیسی ہوتی ہیں کس طرح اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں اس کی واحد مثال ترکی ہے جو مغرب کے اندر رہتے ہوئے مغرب کے سامنے سینہ سپر ہے۔
1965 میں ہم بھی ایک زندہ اور آزاد قوم تھے ہم نے بھی دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر اپنے ملک کو پانچ گنا بڑے دشمن کے اچانک حملے سے بچایا تھا لیکن اس جنگ کو پچاس برس گزر چکے ہیں۔ اب وہ جذبات سرد پڑ چکے ہیں جو ہتھیار دشمن کے لیے اٹھنے تھے ان توپوں کا رخ اب ہم نے اپنے ہموطنوں کی طرف کر دیا ہے ۔اب ہم صرف" زندہ قوم ہیں۔۔۔۔ پائندہ قوم ہیں" کے ملی نغمے گا سکتے ہیں گلی کوچوں کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجا سکتے ہیں لیکن ایک ہوکر جذبہ ایمانی کے تحت اپنی طرز معاشرت اور ثقافت سے بھارت کی یلغار کو باہر نہیں نکال سکتے۔

جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہم نے الگ وطن حاصل کیا تھا وہ دو قومی نظریہ اب کہیں نظر نہیں آتا۔اب حکمران اور عوام پڑوسی ملک سے امن دوستی کے خواہاں نظر آتے ہیں کرتار پور بارڈر کا کھولا جانا اس کی تازہ مثال ہے۔اس دو قومی نظریہ کی خاطر کشمیر خون سے رنگین ہے اور کشمیری اس کی اصل قیمت ادا کر رہے ہیں اور ہم پاکستانی صرف ملی نغمے گا کر ہی خوش ہو جاتے ہیں کالی پٹی باندھ کر اور یوم استحصال کشمیر منا کر کشمیر کو آزاد کروانا چاہتے ہیں۔ انڈین ثقافت کی یلغار میں جہاں دو قومی نظریہ دفن ہوا وہیں کہیں پاکستانیوں کی غیرت اور حمیت بھی دفن ہو گئی۔ دراصل دو قومی نظریے کی اصل قیمت تو کشمیری ادا کر رہے ہیں آزاد فضا میں سانس لینے کے لئے اپنے بچے، بوڑھے،جوان، عورتیں سبھی کچھ قربان کر رہے ہیں اپنی آزادی کی جنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقا کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔

وڈیروں اور جاگیرداروں کی غلامی میں رہتے ہوئے ہم آزادی کا اصل مفہوم جان ہی نہ سکے۔ پہلے انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی اور اب حکمرانوں اور انکے خاندانوں کی غلامی۔ یہ غلامی کیسی غلامی ہے کہ کہنے کو ہم آزاد ہیں لیکن اس کی قیمت موت کے ذریعے چکا رہے ہیں ہم ایک ایسے آزاد ملک کے شہری ہیں جس میں ہر دوسرے گھر سے لوگ لاپتا ہو جاتے ہیں اور ان کے ورثاء سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کرتے کرتے تھک جاتے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔صحت تعلیم تجارت کوئی ایک تو ایسا شعبہ ہو جسے ہم نے آزادی کے بعد پروان چڑھتے دیکھا ہو۔ ہاں صرف ایک شعبہ ہے وہ شعبہ بے حیائی اور فحاشی کا۔ کیا یہ عذاب اس لیے تو نہیں کہ ہم نے جس نظریے کے تحت وطن عزیز حاصل کیا تھا وہ نظریہ ہم نے کہیں پس پشت ڈال دیا۔کشمیری آج بھی اس نظریے کے تحت آزادی کی لڑائی لڑنے میں مصروف عمل ہیں۔پچھلے ایک سال سے لاک ڈاؤن کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ لاکھوں بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ لیکن ہم اپنے کشمیری بھائیوں سے منہ موڑے صرف لفظی گولہ باری میں مصروف عمل ہیں۔

آج جب بھی کسی کشمیری کا جنازہ اٹھتا ہے تو اسے پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹا جاتا ہے جب سید علی گیلانی جذبہ ایمانی کے ساتھ کشمیریوں کو پکارتے ہیں کہ پاکستان سے رشتہ کیا تو جواب آتا ہے لاالہ الا اللہ ۔کیا ہم اس قابل ہیں کہ کشمیری ہم سے رشتہ جوڑیں قائد اعظم نے فرمایا تھا کشمیر ہماری شہ رگ ہے مگر ہم نے اپنی شہ رگ دشمن کے حوالے کر دی۔ بھارت نےسیکولر ملک ہونے کے باوجود بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف ظلم بربریت کی وہ تاریخ رقم کی جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

پاکستان کو اپنے کلمے، دو قومی نظریے اور اپنی شہ رگ کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہمیں اس خاموشی کی قیمت چکانی پڑے گی جو کہ ہم چکا بھی رہے ہیں۔ بے حیائی اور فحاشی کی صورت، معاشرتی اور معاشی عدم استحکام کی صورت۔مختصرا یہ کہ آزادی اس صورت میں قائم رہ سکتی ہے جب ہم بحیثیت قوم ہر محاذ پرغیرت و حمیت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں چاہے اس کے لئے کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */